سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-810 Fatwa no: 1448-810

دریائے سندھ کے کنارے زمین سے حاصل ہونے والے سونے پر خمس یا زکوٰۃ کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ دریائے سندھ کے کنارے پرواقع زمینوں میں کوہاٹ کی جانب سونا نکلاہے جن لوگوں کی زمینوں میں سونا نکلاہےوہ اپنی زمین ایک ہفتے یا ایک مہینےکے لئےاجارےپردیتے ہیں جو لوگ زمین اجارے پر لیتےہیں وہ اس پراپنےایکسویٹر،مزدوراور چھان لگاتے ہیں،پھر چند مراحل کے بعد جتنا سونا مقدر میں ہوتا ہے(مثلاً ایک تولہ ،دوتولہ)وہ نکل آتا ہے ۔ اب سوال یہ پوچھنا ہےکہ اس سونے میں معدنیات اور رکازکےحساب سے خمس آئے گا یا سونے کے حساب سے سال گزرنے کے بعد زکوۃ آئے گی؟ یہاں کے بعض علماءفرماتے ہیں کہ معدنیات اور رکاز کے حساب سے اس سو نے پر خمس لازم ہوگا اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس میں زکوۃ کے احکام جاری ہونگے۔
جواب :

ایسی زمین جس سے معدنیات (جیسے سونا ،چاندی  وغیرہ) نکلیں اس میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی ،بلکہ اس میں خمس (پانچواں )حصہ لازم ہوتا ہے،لہذا صورت مسئولہ میں دریائے  سندھ کے کنارے واقع زمینوں سے نکلنے والے سونے پر خمس(پانچواں) لازم ہوگا ۔
كما في مؤطا امام مالك:
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَغَيْرُهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَقْطَعَ لِبَلالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ مَعَادِنَ مِنْ مَعَادِنِ الْقَبَلِيَّةِ، وَهُوَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفُرُعِ، فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ إِلَى الْيوْمِ لا يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلا الزَّكَاةُ» ، قَالَ مُحَمَّدٌ: الْحَدِيثُ الْمَعْرُوفُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الرِّكَازُ؟ قَالَ: الْمَالُ الَّذِي خَلَقَهُ اللَّهُ تعَالَى فِي الأَرْضِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِي هَذِهِ الْمَعَادِنِ، فَفِيهَا الْخُمُسُ، وَهُوَ قوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَالْعَامَّةُ مِنْ فُقَهَائِنَا.
(باب الركاز،ج:١،ص:١١٩،ط:المكتبة العلمية)
وفي درر الحكام شرح غرر الأحكام:
(هُوَ مَالٌ تَحْتَ الْأَرْضِ مُطْلَقًا) أَيْ سَوَاءٌ كَانَ خِلْقَةً أَوْ بِدَفْنِ الْعِبَادِ، وَالْمَعْدِنُ خِلْقِيٌّ وَالْكَنزُ مَدْفُونٌ (خُمّسَ مَعْدنُ نقْد) وَهُوَ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ (وَحَدِيدٌ وَنَحْوُهُ) كَالصُّفْرِ.
(باب الركاز،ج:١،ص:١٨٤،ط:دار إحياء الكتب العربية)
وفي ملتقي الأبحر:
مُسلم أَو ذمِّي وجد مَعْدن ذهب أَو فضَّة أَو حديداً أَو رصاص أَو نُحَاس فِي أَرض عشر أَو خراج أَخذ مِنْهُ خَمْسَة.
(باب الركاز،ج:١،ص:٣١٣،ط:لبنان)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 06 Oct 2026