سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-85 Fatwa no: 1447-85

دارالحرب اور دارالاسلام کا شرعی مفہوم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: دارالحرب،دارالاسلام،دارالکفر اور دارالامن میں کیا فرق ہے ؟اور ہر ایک کا شرعی مفہوم کیا ہے ؟
جواب :

جو مقام ایسا ہو کہ وہاں اہل شرک کے احکام جاری ہوں اور اس کے آس پاس متصل مقامات کا حال بھی اسی طرح  ہواور  وہاں پر مسلمانوں کو امن کے ساتھ شعائر اسلام قائم کرنے کی اجازت بھی نہ ہو تو ایسا ملک دارالحرب اور دارالکفر کہلاتا ہے ۔
اور ایسا  ملک جو مسلمانوں کے قبضے میں ہو اور اس  پر ان کا مکمل تسلط  اس طرح قائم ہو کہ وہاں اسلامی احکام جاری  اور نافذ ہوتے ہوں ،تو اس کو دارالاسلام کہتے ہیں ۔
ایسا ملک جہاں حکومت  اگر چہ غیر مسلموں کی ہو،لیکن وہاں مسلمان اپنے دینی شعائر قائم رکھنے میں آزاد ہوں اور حکومت کی طرف سے ان پر اپنے دینی احکام پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو  ،تو  ایسے ملک کو دارالامن کہتے ہیں ۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(لَا تَصِيرُ دَارُ الْإِسْلَامِ دَارَ حَرْبٍ إلَّا) بِأُمُورٍ ثَلَاثَةٍ: (بِإِجْرَاءِ أَحْكَامِ أَهْلِ الشِّرْكِ، وَبِاتِّصَالِهَا بِدَارِ الْحَرْبِ، وَبِأَنْ لَا يَبْقَى فِيهَا مُسْلِمٌ أَوْ ذِمِّيٌّ آمِنًا بِالْأَمَانِ الْأَوَّلِ) عَلَى نَفْسِهِ.
وفيه أيضا: وَظَاهِرُهُ أَنَّهُ لَوْ أُجْرِيَتْ أَحْكَامُ الْمُسْلِمِينَ، وَأَحْكَامُ أَهْلِ الشِّرْكِ لَا تَكُونُ دَارَ حَرْبٍ.
(باب المستامن،ج4،ص175،ط:دارالفكر)
وفى الشامي:
وَبِهَذَا ظَهَرَ أَنَّ مَا فِي الشَّامِ مِنْ جَبَلِ تَيْمِ اللَّهِ الْمُسَمَّى بِجَبَلِ الدُّرُوزِ وَبَعْضُ الْبِلَادِ التَّابِعَةِ كُلُّهَا دَارُ إسْلَامٍ لِأَنَّهَا وَإِنْ كَانَتْ لَهَا حُكَّامٌ دُرُوزٌ أَوْ نَصَارَى، وَلَهُمْ قُضَاةٌ عَلَى دِينِهِمْ وَبَعْضُهُمْ يُعْلِنُونَ بِشَتْمِ الْإِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ لَكِنَّهُمْ تَحْتَ حُكْمِ وُلَاةِ أُمُورِنَا وَبِلَادُ الْإِسْلَامِ مُحِيطَةٌ بِبِلَادِهِمْ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ وَإِذَا أَرَادَ وَلِيُّ الْأَمْرِ تَنْفِيذَ أَحْكَامِنَا فِيهِمْ نَفَّذَهَا.
(كتاب الجهاد،ج4،ص175،ط:دارالفكر)
وفى شرح السيرالكبير:
فإن دار الإسلام اسم للموضع الذي يكون تحت يد المسلمين وعلامة ذلك أن يأمن فيه المسلمون .
(باب ما يقطع من الخشب،ج4،ص86،ط: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب