نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
ایک کمپنی میں مزدور کام کررہاہے ،مثلا اس کی تنخواہ 30000 روپے ہیں تو کمپنی کی طرف سے اس کو کھانا کھانے کیلئے ایک کارڈ ملتا ہے جس میں چھ ہزار روپے ہوتے ہیں ان چھ ہزار روپے میں سے 3300 روپے کمپنی والے اس کی تنخواہ سے کاٹتے ہے جس کی وجہ سے انکی تنخواہ 26700 روپے بچ جاتی ہےپھر ان 3300 کیساتھ 2700 روپے کمپنی والے ملاکر کل چھ ہزار روپے کارڈ کی صورت میں مزدور کو دےدیتی ہے،اس صورت میں اگر مزدور کمپنی کے کینٹین میں کھانا کھاتا ہے تو پھر مزدور کو 26700 روپے بطور تنخواہ اور مزید 6000 روپے کارڈ کی صورت میں ملتے ہیں لیکن اگر مزدور کمپنی کے کینٹین والے سے کہے کہ میں یہاں کھانا نہیں کھاؤنگا مجھے کارڈ کے چھ ہزار روپے دیدو تو کینٹین والا کہتا ہے کہ میں آپ کو پانچ ہزار روپے دونگا ایک ہزار روپے میں خود رکھوں گا، لیکن اگر اس بات کا پتہ کمپنی کے انتظامیہ کو چل جائے کہ مزدور یہاں کینٹین میں کھانا نہیں کھاتا تو پھر اضافی 2700 روپے مزدور کو نہیں ملتے بلکہ اس کو صرف اپنی تنخواہ 26700 اور 3300 روپے کارڈ کی صورت میں ملتے ہیں ،تو آیا اس مزدو کیلئے چھ ہزارمیں سے ایک ہزار روپے کینٹین والوں کو چھوڑ کر پانچ ہزار روپے لینا جائز ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ کسی کو رشوت دینا یا دھوکہ دینا شریعت مطہرہ میں ناجائز اور حرام ہے، لہذا بصورت مسئولہ اگر شخص مذکور کینٹین میں کھانا نہیں کھاتا اور ان سے نقد پیسے وصول کرنا چاہتا ہے تو کمپنی کیطرف سے اجازت نہ ہونے کی وجہ سے شرعا یہ دھوکہ میں آتا ہے ، نیز کارڈ کے چھ ہزار میں سے ایک ہزار روپےکینٹین والوں کے لئے چھوڑدینا رشوت کے زمرہ میں آتا ہے ، اس لئے ان امور سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔
كما في قوله تعالى:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29) وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا.
(سورة النساء،آية 30،29)
وفى الصحيح المسلم:
عن أبي هريرة رضي الله عنه :أن رسول الله -صلى اللَّه عليه وسلم- قال: "مَنْ حَمَلَ عَلَيْنا السِّلاحَ فَلَيسَ مِنّا، وَمَنْ غَشَّنا فَلَيْس مِنّا" أو كما قال عليه الصلاة والسلام.
(باب قول النبي صلى الله عليه وسلم من غشنا فليس منا،حديث 283،ج1،ص95،ط:رحمانية)
وفي سنن ابن ماجه:
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي».
(باب التغليظ فى الحيف،حديث 2313،ج2،ص775،ط:داراحياء الكتب العربية)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔