نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: 22 رجب کو کوچوں،بازاروں اور محلوں میں کونڈے تقسیم کئے جاتے ہے۔تو اس کا کھانا،کھلانا شرعا کیسا ہے؟
تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ 22 رجب المرجب رسول ﷺ کی زوجہ، ام المؤمنین حضرت حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ،کاتب وحی ، فاتح شام سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا دن ہے،جس کی خوشی میں دشمنان صحابہ نےکو نڈوں کی رسم ایجاد کی ہے،اس کے علاوہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔لہذا تمام مسلمانوں کے لئے اس رسم سے بچنا بچانا ضروری ہے۔اور اس متعین تاریخ کو کونڈے کھانا یا کھلانا ناجائز ہے۔
تاريخ الطبري:
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ،قَالَ:بايع أهل الشام مُعَاوِيَة بالخلافة فِي سنة سبع وثلاثين فِي ذي القعدة حين تفرق الحكمان،وكانوا قبل بايعوه عَلَى الطلب بدم عُثْمَان،ثُمَّ صالحه الْحَسَن بن علي،وَسَلَّمَ لَهُ الأمر سنة إحدى وأربعين،لخمس بقين من شهر ربيع الأول،فبايع الناس جميعا مُعَاوِيَة،فقيل: عام الجماعة،ومات بدمشق سنة ستين،يوم الخميس لثمان بقين من رجب وكانت ولايته تسع عشرة سنة وثلاثة أشهر وسبعة وعشرين يَوْمًا.
(ذكر الخير عن مده ملكه،324/5،ط:دارالتراث،بيروت)
البداية والنهاية:
وَلَا خِلَافَ أَنَّهُ تُوُفِّيَ بِدِمَشْقَ فِي رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ.فَقَالَ جَمَاعَةٌ: لَيْلَةَ الْخَمِيسِ لِلنِّصْفِ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ،وَقِيلَ لَيْلَةَ الْخَمِيسِ لِثَمَانٍ بَقِينَ مِنْ رَجَبٍ سَنَةَ سِتِّينَ.
(ترجمة معاوية رضي الله عنه،143/8،ط:دارالفکر)
کفایت المفتی:
یہ کونڈوں کی رسم ایک ایسی ایجاد ہے جس کے لئے شریعت مقدسہ میں کوئی دلیل نہیں ہے،لہذا اس کا ترک کردینا ضروری ہے۔
(کتاب الحظر والاباحۃ،96/9،ط:دارالاشاعۃ)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔