سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-812 Fatwa no: 1448-812

اٹھارہ دن اقامت کی نیت کےبعدارادہ بدلنےسےقصریااتمام کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ: ہم اسلام آباد سے رائیونڈ چلہ لگانے گئے،تو ہماری تشکیل لاہور میں اٹھارہ دن کے لئے ہوگئی،تو چونکہ ہم مقیم ہوگئے تھے ، ہم پوری نماز پڑھ رہے تھے،رائیونڈ کے بزرگوں نے چھ دن بعد فرمایا کہ آپ بارہ دن لگا کر واپس آجائیں،اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہےکہ ہم اب بقیہ دن پوری نماز پڑھیں گے کہ قصر کریں گے؟
جواب :

واضح رہے کہ  اگر کوئی شخص کسی شہر میں اقامت کی نیت کرکے رہناشروع کردے،تو وہ  اس وقت تک اس شہر میں مقیم تصور  ہوگاجب تک وہ اس شہر کی حدودسےباہر نہ نکلے اگرچہ درمیان میں اس نے نیت تبدیل کرکے مدت اقامت سے قبل جانے کاارادہ  کرلیاہو۔لہذا صورت مسئولہ میں جب آپ حضرات نے لاہور کے علاقے میں اٹھارہ دن ٹھرنےکی نیت کرلی ،توآپ مقیم  ہوگئے تھے ،اب صرف نیت بدلنے سے  آپ مسافر شمار نہ ہوگے تاوقتیکہ سفر شروع کرکے  لاہور کی  آبادی  سےباہر نکل کرمسافرشرعی نہ بن جاؤ۔ 
مجمع الأنهر:
يبطل وطن الإقامة وهو البلدة أو القرية التي ليس للمسافر فيها أهل ونوى أن يقيم فيها خمسة عشر يوما بمثله لأن الشيء يرتفض بمثله...والسفر أي يبطل وطن الإقامة به لأنه ضد الإقامة فلا يبقى معه ...والأصلي أي يبطل وطن الإقامة به لأنه أقوى من وطن الإقامة.
(باب صلاة المسافر،243/1،ط:دارالکتب العلمية)
الهداية: 
ولهذا يصير المسافر مقيما بمجرد النية ولا يصير المقيم مسافرا إلا بالسفر.
(كتاب الزكاة،97/1،ط:المكتبة الإسلامية)
بدائع الصنائع:
ولأن النية إنما تعتبر إذا كانت مقارنة للفعل؛ لأن مجرد العزم عفو، وفعل السفر لا يتحقق إلا بعد الخروج من المصر فما لم يخرج لا يتحقق قران النية بالفعل فلا يصيرمسافرا.وهذا بخلاف المسافر إذا نوى الإقامة في موضع صالح للإقامة حيث يصير مقيما للحال؛ لأن نية الإقامة هناك قارنت الفعل " وهو ترك السفر "؛ لأن ترك الفعل فعل فكانت معتبرة.
 (فصل في صلاة المسافر،91/1،ط:دارالكتب العلمية)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال:بمبئی میں بیس روز قیام کےارادہ  سےگیاوہاپہنچ کربھی پندرہ روز سے زیادہ اقامت کی نیت کرلی،مگر ہفتہ عشرہ ہی میں کام پوراہوگیااورواپسی کی نیت کرلی،توروانگی سےپہلے بمبئ میں قصر کرےیاپوری نماز پڑھے؟
جواب:یہ شخص مقیم ہوگیاتھااوربمبئ وطن اقامت بن چکاتھا،اس لئے صرف نیت بدلنے سےوطن اقامت باطل نہ ہوگا،تاوقت یہ کہ سفر شروع کرکےمسافر شرعی نہ بن جائے،یعنی بمبئ کی آبادی سےباہر نہ ہوجائے،آبادی چھوڑنےکےبعد سفر کےاحکام لاحق ہوں گے۔
(احکام المسافر،167/2،ط:دارالاشاعت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 26 Oct 2026