سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-813 Fatwa no: 1448-813

اجتماعی قربانی میں بدعقیدہ شخص کی شرکت سےقربانی کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ: بڑی عید کے موقع پر ہم چارافرادنےملکرایک بیل کی اجتماعی قربانی کی تھی،جبکہ مجھے ابھی یقینی ذرائع سے معلوم ہواکہ چار افراد میں سےایک فردشیعہ تھا،جس نےاپناعقیدہ اس وقت ہم سےمخفی رکھاتھا،تواب ہماری اس سال کی قربانی ہوگئی یانہیں؟اگرنہیں ہوئی تواب ہمیں دوبارہ قربانی کرنی ہوگی؟
جواب :

واضح رہےکہ اگرقربانی کےحصہ داروں میں سےکوئی ایک بھی  بد عقیدہ شخص ہو، یاصحیح العقیدہ ہولیکن قربانی سےمقصود اللہ تعالی کی رضا  نہ ہو،بلکہ گوشت کا حصول ہو ،توایسی  صورت میں کسی کی قربانی جائز نہیں ہوتی،لہذاصورت مسئولہ   میں  چار افراد میں سے ایک شخص شیعہ تھا،اور اس کے عقائد بھی  کفریہ ہے،تو کسی کی بھی  قربانی شرعا  نہیں ہوئی،اوراب باقی شرکاء میں سے ہر ایک پر متوسط جانور (جس کی قربانی صحیح ہو،بکری وغیرہ) کی قیمت،یا گائے،بیل کے ساتویں حصہ کی قیمت فقراء ومساکین پر صرف کرنا ضروری ہے۔
في ردالمحتار:
(وإن كان شريك الستة نصرانيا أو مريدا اللحم لم يجز عن واحد) منهم لأن الإراقة لا تتجزأ.
 (كتاب الأضحية،ج:1،ص:645،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
أن الواجب عليه الإراقة وإنما ينتقل إلى الصدقة إذا وقع اليأس عن التضحية بمضي أيامها وإن لم يشتر مثلها حتى مضت أيامها تصدق بقيمتها لأن الإراقعة إنما عرفت قربة في زمان مخصوص ولا تجزيه الصدقة الأولى عما يلزمه بعد لأنها قبل سبب الوجوب
(كتاب الأضحية،ج:1،ص:645،ط:دارالفكر)
وفي الهداية:
وإن كان شريك الستة نصرانيا أو رجلا يريد اللحم لم يجز عن واحد منهم ووجهه أن البقرة تجوز عن سبعة لكن من شرطه أن يكون قصد الكل القربة.
(فصل فيما فيما يحل أكله،ج:4،ص:70،ط:المكتبة الإسلامية)
وفي النتف عن الفتاوى:
وان كَانَ بعض السَّبْعَة أهل الْمُتْعَة وَبَعْضهمْ أهل الْقرَان وَبَعْضهمْ أهل الْجَزَاء وَبَعْضهمْ أهل الاضحية وَبَعْضهمْ اهل التَّطَوُّع عَنْهُم جَمِيعًا،وَلَو كَانَ بَعضهم يُرِيد نصِيبه من اللَّحْم وَلَا عَن وَاحِد.
(الأضحية من أربعة،ج:1،ص:238،ط:دارالفرقان)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026