نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جوشخص مخصوص وقت کے لئےمتعین شخص ،فیکٹری، کمپنی وغیرہ کا ملازم ہو وہ اجیر خاص کہلاتا ہے،اور شریعت مطہرہ میں اجیر خاص مخصوص وقت میں اپنےکو مؤجر(ادارہ یاکمپنی)کے حوالے کرنے سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے ،چاہے کام ہو یا نہ ہو ۔لہذا صورت مسئولہ میں کیرج فیکٹری کے ملازمین کو تنخواہ مقررہ وقت(48گھنٹےیعنی ہفتہ میں چار دن نو گھنٹے اور جمعہ ہفتہ چھ گھنٹے) کی دی جاتی ہے،اس لئے کسی ملازم کامدت مقررہ سےپہلےاجازت کےبغیر جانا شرعا جائز نہیں ،بغیر اطلاع کے قبل از وقت جانے سے اس مدت کی تنخواہ حلال نہ ہوگی،اس لئے اس وقت کی تنخواہ کی کٹوتی یااتنی مدت کی تنخواہ کی واپسی لازمی ہوگی۔
الدرالمختار مع ردالمحتار:
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى.
(مبحث الأجير الخاص،69/6،ط:دارالفكر-بيروت)
الفتاوى الهندية:
وحكم أجير الوحد أنه أمين في قولهم جميعا حتى أن ما هلك من عمله لا ضمان عليه فيه إلا إذا خالف فيه والخلاف أن يأمره بعمل فيعمل غيره فيضمن ما تولد منه حينئذ هكذا في شرح الطحاوي.
(الحدالفاصل بين الأجيرين،499/4،ط:دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔