سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-815 Fatwa no: 1448-815

اجیر خاص پر ڈیوٹی کےاوقات کی پابندی ضروری ہے

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ: میں پاکستان کیرج فیکٹری میں ملازم ہوں: ہماری ایک ہفتہ میں 48گھنٹے ڈیوٹی ہوتی ہے(چار دن نو گھنٹے اور جمعہ ہفتہ کو چھ گھنٹے)اس میں ہمیں روزانہ کام ملتا ہے،لوگ اپنا کام ختم کر کے چلے جاتے ہیں،کیا یہ جائز ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ  جوشخص مخصوص وقت کے لئےمتعین شخص ،فیکٹری، کمپنی وغیرہ کا ملازم ہو وہ اجیر خاص کہلاتا ہے،اور شریعت مطہرہ میں اجیر خاص مخصوص وقت میں اپنےکو مؤجر(ادارہ یاکمپنی)کے حوالے کرنے سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے ،چاہے کام ہو یا نہ ہو ۔لہذا صورت مسئولہ میں کیرج فیکٹری کے ملازمین کو تنخواہ مقررہ وقت(48گھنٹےیعنی ہفتہ میں چار دن نو گھنٹے اور جمعہ ہفتہ چھ گھنٹے) کی دی جاتی ہے،اس لئے کسی ملازم کامدت مقررہ سےپہلےاجازت کےبغیر جانا شرعا  جائز نہیں  ،بغیر اطلاع کے قبل از  وقت جانے سے  اس مدت کی تنخواہ  حلال نہ ہوگی،اس لئے اس وقت کی تنخواہ کی کٹوتی یااتنی مدت کی تنخواہ کی واپسی لازمی ہوگی۔
الدرالمختار مع ردالمحتار:
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى.
(مبحث الأجير الخاص،69/6،ط:دارالفكر-بيروت)
الفتاوى الهندية:
وحكم أجير الوحد أنه أمين في قولهم جميعا حتى أن ما هلك من عمله لا ضمان عليه فيه إلا إذا خالف فيه والخلاف أن يأمره بعمل فيعمل غيره فيضمن ما تولد منه حينئذ هكذا في شرح الطحاوي.
(الحدالفاصل بين الأجيرين،499/4،ط:دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026