سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-817 Fatwa no: 1448-817

رکوع میں سجدۂ تلاوت کے لیے اعلان کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر امام رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کرکے ادا کرتا ہے تو مقتدیوں کو اعلان کرکے بتانا ضروری ہے یا نہیں ؟ اشکال یہ ہےکہ اگر اعلان نہیں کرتا تو مقتدیوں کو تو پتہ بھی نہیں ہوتاجبکہ سجدہ تلاوت کے لیے نیت ضروری ہے ایا بغیر اعلان کے اگر امام سجدہ تلاوت رکوع میں کرے اور مقتدیوں نے عدم علم کی وجہ سے نیت نہ کی ہوصرف امام نے نیت کی ہو تو کیا مقتدیوں کا سجدہ تلاوت ادا ہوجائے گا یا نہیں ؟ وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ سجدہ تلاوت کے لیے سجدہ کرنا افضل   ہے البتہ  آیت سجدہ پڑھنے کے فورا بعد رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کرکے ادا کرنا بھی جائز ہے  اورسجدہ تلاوت  بغیرنیت کے  رکوع میں ادانہیں ہوتا۔
بصورت مسئولہ   بہتر یہ ہے کہ امام  رکوع  میں  سجدہ تلاوت  کی  نیت  نہ  کرےبلکہ اس کے لیے سجدہ کرے۔سجدہ  کرنے کی صورت میں امام پر اعلان کرنا ضروری نہیں اگر رکوع میں سجدہ تلاوت کی نیت کرکے ادا کرنا چاہے تو مقتدیوں کو پہلے سے آگاہ   کرنا  ضروری  ہے آگاہ نہ کرنے کی صورت میں مقتدی رکوع میں نیت نہیں کریں گے جس کی وجہ سے ان کا سجدہ تلاوت ادا نہ ہوگا  اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد مقتدی سجدہ تلاوت ادا کرے گا اور قاعدہ اخیرہ کا اعادہ کرے گا ۔اگر قاعدہ اخیرہ کا اعادہ نہیں کیا تواس کی نماز فاسد ہوجائےگی اور اگر لاعلمی کی وجہ سے  اما م کے سلام کے بعد بھی سجدہ تلاوت ادا نہیں کیا تو بعد  میں سجدہ  ادا کرنا درست نہیں   البتہ نماز درست ہوجائے گا اور اس كو چاہئے کہ سجدہ  تلاوت چھوٹنے    پراستغفار کرے۔
الدر المختار:
(قوله لو ركع وسجد لها) أي للصلاة فورا ناب أي سجود المقتدي عن سجود التلاوة بلا نية تبعا لسجود إمامه لما مر آنفا أنها تؤدى بسجود الصلاة فورا وإن لم ينو والظاهر أن المقصود بهذا الاستدراك التنبيه على أنه ينبغي للإمام أن لا ينويها في الركوع لأنه إذا لم ينوها فيه ونواها في السجود أو لم ينوها أصلا لا شيء على المؤتم لأن السجود هو الأصل فيها بخلاف الركوع فإذا نواها الإمام فيه ولم ينوها المؤتم لم يجزه، ثم لا يخفى أن إرجاع الضمير في قوله لها إلى التلاوة لا يصح إلا بتكلف فلا حاجة إليه فافهم.
(قوله وتؤدى بركوع وسجود) الواو بمعنى أو. قال في الحلية والأصل في أدائها السجود وهو أفضل ولو ركع لها على الفور جاز وإلا لا اهـ أي وإن فات الفور لا يصح أن يركع لها ولو في حرمة الصلاة بدائع
(ولو تلاها في الصلاة سجدها فيها لا خارجها) لما مر. وفي البدائع: وإذا لم يسجد أثم فتلزمه التوبة

(باب سجود التلاوة ۲/۱۱۲ دار الفكر بييروت)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وذكر القاضي الإمام الإسبيجابي في شرحه مختصر الطحاوي أنه إذا أراد أن يركع يحتاج إلى النية، ولو لم يوجد منه النية عند الركوع لا يجزئه ۔۔۔۔۔۔۔۔أنه لو سجد للمتلوة في الصلاة خرج عن عهدة الوجوب وإذا لم يسجد لم يبق عليه شيء إلا المأثم 
(فصل في بيان وقت أداء سجدة التلاوۃ۱/ ۱۹۱ دار الكتب العلمية)
الفتاوی الهندية:
ولو نواها في الركوع عقيب التلاوة ولم ينوها المقتدي لا ينوب عنه ويسجد إذا سلم إمامه ويعيد القعدة ولو تركها تفسد صلاته، كذا في القنية
(الباب الثالث عشر في سجود التلاوة۱/۱۳۳دار الفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026