سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-87 Fatwa no: 1447-87

دوائی سے حیض بند کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میرے ایک دوست احمد ملتان میں فیکٹری میں کام کرتا ہے،کئی دن پہلے اس نے ایک نیا مسئلہ پوچھا،جو میرے علم میں بھی نہیں تھا(میں اس فیکٹری میں امام ہوں)احمد کا کہنا تھا ،کہ مجھے تین مہینے بعد فیکٹری سے دس دن کی چھٹی ملتی ہےاور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی،یعنی ہر تین مہینے بعد دس دن کی چھٹی ملتی ہے،اب عموما  ایسا ہوتا ہے  کہ جب میں گھر جاتا ہوں ،تو گھروالی کی ماہواری کےایام ہوتے ہیں،جس کی وجہ سے اکثر چھٹی ویسے گزرتی ہے ،تو کیا ہمارے لئے یہ جائز ہے کہ گھروالی میرے آنے سے پہلے بیماری رکنے والی دوائی استعمال کرے؟اور اگر ایسا کرنے کی گنجائش ہےاور دوائی استعمال کرنے کے بعد ایام عادت میں کچھ کچھ خون ظاہر ہو،تو کیا یہ بیماری یعنی حیض کا خون شمار ہوگا؟

جواب :

صورت مسئولہ میں شخص مذکور کی بیوی کیلئے دوائی کے ذریعے حیض کا خون بند کرنا  شرعا جائز ہے،ا س میں کوئی حرج نہیں  ہے،بشرطیکہ صحت کیلئے مضر نہ ہواور خون بند ہونے کی صورت میں مذکورہ عورت پاک شمار ہوگی ،البتہ ایام عادت میں کچھ کچھ خون کا ظاہر ہونا یہ حیض کا خون شمار ہوگا،بشرطیکہ تین دن تک کوئی ایک مرتبہ خون  آتا رہے ۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
ثم اعلم أنه لا يشترط استمرار الدم فيها بحيث لا ينقطع ساعة؛ لأن ذلك لا يكون إلا نادرا بل انقطاعه ساعة أو ساعتين فصاعدا غير مبطل، كذا في المستصفى بحر: أي؛ لأن العبرة لأوله وآخره كما سيأتي.
(باب الحيض،ج1،ص284،ط:دارالفكر)
وفى الفتاوى الهندية:
لا يثبت حكم كل منها إلا بخروج الدم وظهوره وهذا هو ظاهر مذهب أصحابنا وعليه عامة مشايخنا وعليه الفتوى. هكذا في المحيط...... إذا رأت المرأة الدم تترك الصلاة من أول ما رأت قال الفقيه وبه نأخذ.
(الفصل الرابع في أحكام الحيض،ج1،ص38،ط:دارالفكر)
وفى المحيط البرهاني:
يجب أن يعلم بأن حكم الحيض والنفاس والاستحاضة لا يثبت إلا بخروج الدم، وظهوره هذا هو مذهب أصحابنا وعليه عامة مشايخنا.
(الفصل الثامن فى الحيض،ج1،ص214،ط: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب