سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-820 Fatwa no: 1448-820

مرد اور عورت کی نماز میں فرق اور رفع الیدین کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ان دو مسائل کے بارے میں: (۱)مرد اور عورت کی نماز میں فرق ہے یا نہیں ؟آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث میں فرمایا کہ میری طرح نماز پڑھو (صلوا كما رأيتموني أصلي) اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں ۔ (۲)کیانماز میں رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدیں سنت ہے ؟ اگر سنت نہیں تو یہ کب منسوخ ہوا ہے۔نیز ترک رفع الیدین کے بارے میں روایات ذکر کریں۔
جواب :

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ مرد اور عورت  دونوں فطری طور پر  الگ الگ جنسیں  ہیں  اور دین اسلام بھی فطری دین ہےاس لیے شریعت میں دونوں کے لیے  بعض احکام  بھی الگ الگ ہیں  ۔ان میں سے چند بطور مثال درجہ ذیل ہیں :
۱:مرد اور عورت دونوں پر حج فرض ہے لیکن عورت کے لیے محرم کا ہونا بھی شرط ہے۔
۲:مرد حج سے احرام کھول کر سر منڈواتے ہیں حالانکہ عورتیں سر نہیں منڈواتیں بلکہ قصر کرتیں ہیں  ۔
۳:نکاح کا حکم مرد اور عورت دونوں میں مشترک ہے ليكن طلاق كا اختيار مرد كے پاس  ہے اور عدت عورت کے ساتھ خاص ہے۔
۴:ایک مرد کو بیک وقت چار شادیوں  کی اجازت ہے لیکن عورت کوایک وقت میں ایک ہی شادی کی اجازت ہے۔ 
جس  طرح دیگر احکام میں مرد اور عورت کے درمیان فرق ہے اسی طرح مرد اور عورت کی  نماز میں بھی تھوڑا بہت  فرق کوئی انوکھی بات نہیں۔چنانچہ ذیل میں دلائل سمیت چند فروق ذکر کئے جاتے ہیں۔ملاحظہ ہوں:
۱۔مرد کی نماز سر ڈھانکنے کے بغیر بھی ہوجاتی ہے اگر چہ آداب نماز کے خلاف ہے لیکن عورت کی نماز سر ڈھانکے بغیر نہیں ہوتی۔
سنن الترمذي :
377 - حدثنا هناد قال: حدثنا قبيصة، عن حماد بن سلمة، عن قتادة، عن ابن سيرين، عن صفية بنت الحارث، عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تقبل صلاة الحائض إلا بخمار»، وفي الباب عن عبد الله بن عمرو، «حديث عائشة حديث حسن» والعمل عليه عند أهل العلم: أن المرأة إذا أدركت فصلت وشيء من شعرها مكشوف لا تجوز صلاتها "
(باب: ما جاء لا تقبل صلاة الحائض إلا بخمار۲/ ۲۱۵شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)
۲۔عورت کے لیے مسنون یہ ہے کہ سمٹ کر سجدہ کرے جبکہ مرد کے لیےکھل کر سجدہ کرنا مسنون  ہے۔

صحيح البخاري :
390 - أخبرنا يحيى بن بكير، حدثنا بكر بن مضر، عن جعفر بن ربيعة، عن ابن هرمز، عن عبد الله بن مالك ابن بحينة، «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا صلى فرج بين يديه حتى يبدو بياض إبطيه» وقال الليث: حدثني جعفر بن ربيعة نحوه.
(باب يبدي ضبعيه....۱/ ۸۷دار طوق النجاة)
علامہ عینی  ؒ اپنی شرح عمدۃ القاری میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔کہ کھل  کر یعنی بازوں کو پہلو سے الگ کرکے سجدہ کرنا مردوں کے لیے سنت ہے اور عورتوں کے لیےمسنون یہ ہے کہ سمٹ کرکے سجدہ کرے۔
56 - (أخبرنا يحيى بن بكير قال حدثنا بكر بن مضر عن جعفر عن ابن هرمز عن عبد الله بن مالك بن بحينة أن النبي - صلى الله عليه وسلم  - كان إذا صلى فرج بين يديه حتى يبدو بياض إبطيه) ........وهو سنة للرجال والمرأة والخنثى تضمان لأن المطلوب في حقهما الستر.........وفي الأم للشافعي يسن للرجل أن يجافي مرفقيه عن جنبيه ويرفع بطنه عن فخذيه وتضم المرأة بعضها إلى بعض وقال القرطبي وحكم الفرائض والنوافل في هذا سواء...... وعند الترمذي محسنا وعند الحاكم مصححا عن عبد الله بن أقرم فكنت أنظر إلى عفرتي إبطيه - صلى الله عليه وسلم  - إذا سجد وعند الحاكم مصححا عن ابن عباس " أتيت النبي - صلى الله عليه وسلم  - من خلفه فرأيت بياض إبطيه وهو مجخ قد فرج يديه "
(عمدة القاري :باب يبدي ضبعيه... ،۴/ ۱۲۲،دار إحياء التراث العربي - بيروت)
إعلاء السنن:
۷۷۷-ثنا ابوالاحوص عن ابي اسحاق عن الحارث عن علي رضي الله عنه قال:اذا سجدت المرءة فلتحتفز ولتضم فخذيها رواه الامام ابوبكر بن ابي شيبة في مصنفه (ص:۱۸۱ قلمى).قلت:رجاله رجال الجماعة إلا الحارث فهو من رجال الأربعة ......فالحديث حسن و قول الصحابي حجة عندنا و قد تقوى بالمرفوع أيضا.
(۳/۳۰،۳۲،ط:المکتبة الحقانية)
۳۔ مردوں كے ليے سنت یہ ہےکہ  قعده ميں داياں پاؤں کھڑ ا  رکھیں اور بایاں پاؤں بچھاکر کرکے اس پربیٹھیں اور عورتوں کے لیے قعدہ میں  تورک سنت ہے یعنی دونوں پاؤں کو دائیں طرف نکال کر کر کے   زمین پر بیٹھنا۔ 
صحيح البخاري :
827 - حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن عبد الله بن عبد الله، أنه أخبره: أنه كان يرى عبد الله بن 
عمر رضي الله عنهما، يتربع في الصلاة إذا جلس، ففعلته وأنا يومئذ حديث السن، فنهاني عبد الله بن عمر، وقال: «إنما سنة الصلاة أن تنصب رجلك اليمنى وتثني اليسرى»، فقلت: إنك تفعل ذلك، فقال: إن رجلي لا تحملاني.
(۱/ ۱۶۵ دار طوق النجاة)
علامہ انور شاہ کشمیری ؒ بخاری شریف کی شرح  فیض الباری میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔کہ ہمارے ہاں عورت اور مرد کی نماز میں فرق ہے۔عورت  تورک یعنی دونوں پاؤں کو دائیں طرف نکال کر کر کے   زمین پر بیٹھ کر نماز قعدہ کر ےگی ؛اس لیے کہ یہ پردے کے زیادہ قریب ہے۔
قوله: (جلسة الرجل) وعندنا فرق بين جلسة الرجل والمرأة، فإنها تتورك لكونه أستر لها، ولنا في ذلك مرسل في «مراسيل أبي داود». ومما يدلك على الفرق بين الهيئة في صلاتهما: ما قال أحمد رحمه الله تعالى: إنها لا ترفع يديها عند الركوع والسجود، فليتنبه.
(فيض الباری باب سنة الجلوس۲/۳۹۲دارالكتب العلمية بيروت)
علامہ عینی  ؒ اپنی شرح عمدۃ القاری میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔کہ عورت تورك  کرکے میں قعدہ  میں بیٹھے گی۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري :
827 - حدثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك عن عبد الرحمن بن القاسم عن عبد الله بن عبد الله أنه أخبره أنه كان يري عبد الله ابن عمر رضي الله تعالى عنهما يتربع في الصلاة إذا جلس ففعلته وأنا يومئذ حديث السن فنهاني عبد الله بن عمر وقال إنما سنة الصلاة أن تنصب رجلك اليمنى وتثني اليسرى فقلت إنك تفعل ذلك فقال أن رجلي لا تحملاني..... ورجاله مشهورون، وهم: عبد الله بن عبد الله بن عمر بن الخطاب، رضي الله تعالى عنهم، والعبد مكبر في الابن والأب معا، وهو تابعي ثقة سمي باسم أبيه وكني بكنيته............. وعندنا: السنة أن يفترش رجله اليسرى ويجلس عليهاوينصب اليمنى نصبا في القعدتين جميعا، وبه قال الثوري، واستدلوا بحديث عائشة في (صحيح مسلم) قالت: (كان النبي صلى الله عليه وسلم يفتتح الصلاة. .) إلى أن قالت: (وكان يفرش رجله اليسرى وينصب رجله اليمنى. .) الحديث. وأما جلوس المرأة فهو التورك عندنا وقال النووي: وجلوس المرأة كجلوس الرجل.
(باب سنة الجلوس...،۶/ ۱۰۲،دار إحياء التراث العربي - بيروت)
۴۔عورت كے ليے افضل یہ ہے کہ گھر میں نماز پڑھےجبکہ مرد کو مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا  کرنے کی احادیث میں  بہت تاکید آئی  ہے۔درجہ ذیل بخاری شریف کی حدیث میں حضرت عائشہ ؓ  اپنے زمانے کی عورتوں کے بارے میں فرماتی ہیں کہ  اگر آپﷺ اس زیب و زینت کو دیکھتے جو عورتوں نے اختیار کی ہے تو  ان کو مسجد میں آنے سے منع فرماتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتیں منع کی گئی تھیں ،جبکہ مردوں کے بارے نیچے حدیث میں  یہ مذکور ہے کہ جو مرد بلا عذر گھروں میں نماز پڑھتے ہیں آپ ﷺ نے ان کے گھر جلانے کا ارادہ  ظاہر فرمایا۔
صحيح البخاري:
869 - حدثنا عبد الله بن يوسف، قال: أخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: «لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل» قلت لعمرة: أومنعن؟ قالت: نعم
(باب خروج النساء إلى المساجد۱/ ۱۷۳دار طوق النجاة)
علامہ عینی  ؒ اپنی شرح عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں کہ اگر حضرت عائشہ ؓ اس زمانے کی عورتوں کو دیکھتیں تو وہ  عورتوں کےمسجد جانے پر  زیادہ  نکیر فرماتیں۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري :
250 - (حدثنا عبد الله بن يوسف. قال أخبرنا مالك عن يحيى بن سعيد عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة رضي الله عنها قالت لو أدرك رسول الله - صلى الله عليه وسلم  - ما أحدث النساء لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل قلت لعمرة أو منعن قالت نعم )قوله " ما أحدث النساء " في محل النصب على أنه مفعول أدرك أي ما أحدثت من الزينة والطيب وحسن الثياب ونحوها (قلت) لو شاهدت عائشة رضي الله تعالى عنهما ما أحدث نساء هذا الزمان من أنواع البدع والمنكرات لكانت أشد إنكارا ولا سيما نساء مصر فإن فيهن بدعا لا توصف ومنكرات لا تمنع.
(باب خروج النساء ....۶/ ۱۵۸ دار إحياء التراث العربي - بيروت)
مجمع الزوائد: 
 2109 - وعن ابن مسعود قال : صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها وصلاتها في حجرتها أفضل من صلاتها في دارها وصلاتها في دارها أفضل من صلاتها فيما سواها . ثم قال : إن المرأة إذا خرجت استشرفها الشيطان. رواه الطبراني في الكبير ورجاله رجال الصحيح
(باب خروج النساء إلى المساجد،۲/ ۱۵۵،دار الفكر، بيروت)

إعلاء السنن:
۲۱۶۳:و عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلي الله عليه و سلم قال:لينتهين رجال ممن حول المسجد لا يشهدون العشاء الآخرة في الجميع أو لأحرقن حول بيوتهم بحزم الحطب .قلت:هو في الصحيح خلا قوله:ممن حول المسجد.رواه احمد و رجاله موثقون.
(۳/۱۳۱،ط:المكتبة الحقانية)
۵۔عورت  کے لیے حکم یہ ہے کہ نماز  کی شروع میں ہاتھ سینے تک اٹھائے جبکہ مردوں کے لیے حکم یہ ہے کہ  کانوں تک ہاتھ اٹھائیں۔
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد :
فقال لي رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: " يا وائل بن حجر، إذا صليت فاجعل يديك حذاء أذنيك، والمرأة تجعل يديها حذاء ثدييها».
قلت: له في الصحيحين في رفع اليدين غير هذا الحديث.رواه الطبراني من طريق ميمونة بنت حجر بن عبد الجبار، عن عمتها: أم يحيى بنت عبد الجبار ولم أعرفها، وبقية رجاله ثقات.
(باب ما جاء في وائل بن حجر۹/ ۳۷۴مكتبة القدسي، القاهرة)
۱۰:اگر نماز میں کوئی مسئلہ پیش آئے تو مرد کے لیے حکم یہ ہے کہ سبحان اللہ پڑھے جبکہ عورت کے لیے حکم یہ ہے کہ  صرف ہاتھ پر ہاتھ مارے۔
صحيح مسلم:
106 - (422) حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، وعمرو الناقد، وزهير بن حرب، قالوا: حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري،  عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا هارون بن معروف، وحرملة بن يحيى، قالا: أخبرنا ابن وهب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، أخبرني سعيد بن المسيب، وأبو سلمة بن عبد الرحمن، أنهما سمعا أبا هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التسبيح للرجال والتصفيق للنساء» زاد حرملة في روايته: قال ابن شهاب: وقد رأيت رجالا من أهل العلم يسبحون ويشيرون.
(باب تسبيح الرجل...۱/ ۳۱۸،دار إحياء التراث العربي - بيروت)
ان مذکورہ احادیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مرد اور عورت کی نماز میں فرق ہے۔ یہ چند فروق  بطور مثال ذکر کئے  گئے ورنہ اور بھی بہت سارے فروق ہیں ۔

رہی سوال میں مذکورہ حدیث (صلوا کما رأيتموني أصلي) تو اس كا جواب  یہ ہے کہ  اس حدیث سے اس بات پر استدلال كرنا کہ مرد اور عورت کی نماز میں فرق نہیں ،چند وجوہات کی بناء پر درست نہیں ۔
۱: اگر اس حدیث سے مرد اور عورت کی نماز میں فرق پر استدلال کیا جائے تو اس حدیث کا بہت ساری ان احادیث کے ساتھ تعارض آئے گا  جن میں مرد اور عورت کی نماز میں فرق بیان ہواہے ،جیسا کہ ما قبل میں  گزراہے۔
۲:بعض علماء نے اس حدیث سے فوت شدہ اور وقتی نمازوں  کو ترتیب سے ادا کرنے پر استدلال کیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے غزوہ خندق کے  موقع پر  فوت شدہ اور وقتی نمازیں  ترتیب سے ادا کی تھیں ۔اس كے علاوه نماز سے متعلق اور مسائل پر بهی اس حدیث سے  استدلال کیا گیا ہے (تفصیل فقہ کی کتابوں  میں موجود ہے)لیکن ہمارے علم کے مطابق  آج تک فقہاء اور محدثین  میں سے کسی نے  بھی اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا ہے کہ مرد اور عورت  کی نماز میں  کوئی فرق نہیں ۔
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري:
(قوله: فإن فاتته صلوات رتبها في القضاء كما وجبت في الأصل) أي عند قلة الفوائت بدليل قوله فيما بعد إلا أن تزيد الفوائت على ست صلوات والدليل على وجوب الترتيب أن «النبي - صلى الله عليه وسلم - شغل يوم الخندق عن أربع صلوات فقضاهن مرتبا ثم قال صلوا كما رأيتموني أصلي» وهذا أمر بالترتيب.
(باب قضاء الفوئت،۱/ ۶۷،المطبعة الخيرية)
۳:مذکورہ بالا احادیث   سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اورتابعین بھی مرد اور عورت کی نماز میں فرق کے قائل تھے۔
مذکورہ بحث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ  آپﷺ نے مذکورہ  حدیث اس لئے نہیں بيان فرمائی کہ مرد اور عورت کی نماز میں   فرق   نہیں بلکہ نماز میں  تعدیل ارکان وغیرہ کی رعایت کرنے کے بارے میں فرمائی تھی  کہ جس طرح   میں (آپﷺ ) نماز میں ارکان،شروط ،اور تعدیل ارکان وغیرہ  کی رعایت رکھتا ہوں  اس طرح تم بھی ان چیزوں کی  رعایت رکھ  کرکے نماز پڑھا کرو ،جیسا کہ علامہ ملا علی قاری ؒ نے اپنی کتاب مرقاۃ المفاتیح میں اس حدیث کی شرح میں فرمایا ہے۔
683 - (وعنه) أي: عن مالك قال: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ( «صلوا كما رأيتموني أصلي» ) أي: في مراعاة الشروط والأركان أو فيما هو أعم منهما.
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح۲/ ۵۷۵ دارالفكر بيروت لبنان)


دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ نماز میں  رفع الیدین کا   مسئلہ اولی اور خلاف اولی کا   ہے نہ کہ حلال و حرام کا۔رفع الیدین کرنے یا چھوڑنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ اس لیے اس مسئلہ میں زیادہ  بحث و تمحیص کرکے وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ دوسرے دینی مسائل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ذیل میں رفع الیدین  کے بارے محض واقفیت کے لیے چند امور ذکر کیےجاتے ہیں ۔تاہم اس کو بحث ومباحثہ کا موضوع نہ بنایا جا ئے۔

آپﷺ  نے نماز  میں کئی مواضع میں رفع الیدین    کیاہے۔ذیل میں احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
۱:صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ۔
سنن الترمذي:
257 - حدثنا هناد قال: حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن علقمة، قال: قال عبد الله بن مسعود: «ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة». وفي الباب عن البراء بن عازب. حديث ابن مسعود حديث حسن، وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، والتابعين، وهو قول سفيان الثوري، وأهل الكوفة.
(باب رفع اليدين۲/۴۰شركة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي مصر)
اس حدیث شریف میں یہ بیان ہوا ہے کہ عبد اللہ بن مسعود   ؓ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں  آپﷺ والی نماز نہ پڑھاؤ ں پھر ان کو نماز پڑھائی اور صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کیا ،اس کے بعد نہیں۔امام  ترمذی ؒ  اس حدیث کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے ،صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین ؒ میں سے بہت سارے اہل علم اسی (یعنی ترکِ رفع الیدین ) کے قائل ہیں اور یہی سفیان ثوری ؒ اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
۲:رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت ۔
سنن الترمذي: 
255 - حدثنا قتيبة، وابن أبي عمر، قالا: حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن أبيه، قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة يرفع يديه حتى يحاذي منكبيه، وإذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع»، وزاد ابن أبي عمر في حديثه: «وكان لا يرفع بين السجدتين».... حديث ابن عمر حديث حسن صحيح.
(باب رفع اليدين ۲/۳۵شركة مطبعة مصطفى البابي الحلبي مصر)
اس حدیث مبارک میں حضرت ابن عمر   ؓ  نے فرمایا کہ میں نے آپﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپﷺ نماز کے  شروع   میں،رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت  رفع الیدین فرماتے تھے۔ امام  ترمذی ؒ   فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
۳:سجدہ میں جاتے وقت اور دونوں سجدوں کے درمیان ۔
شرح مشكل الآثار:
5837 - حدثنا أحمد بن شعيب، أخبرنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن أبي 
عدي، عن سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن مالك بن الحويرث " أنه رأى نبي الله صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته، وإذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من السجود، حتى يحاذي بهما فروع أذنيه ".
(۱۵/ ۵۷ مؤسسة الرسالة)
حدیث مبارک کا مطلب  یہ ہےکہ صحابی نے آپﷺ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز میں ہاتھ اٹھائے، جب آپﷺ نے رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھا یا (اس طرح) جب سجدہ کیا اور سجدہ سے سر اٹھایا۔
اس حدیث کی سند کے بارے میں علامہ البانی ؒ  اپنی کتاب "أصل صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم" میں  فرماتے ہیں کہ یہ حدیث  صحیح ہے اور مسلم شریف کی شرط پر ہے۔

أنه رأى النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رفع يديه في صلاته إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الركوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من السجود؛ حتى يحاذي بهما فروع أذنيه. أخرجه النسائي (1/165) ، وأبو عوانة (2/94) ، وعنه ابن حزم في " المحلى "(4/92) ، وأحمد في " المسند " (3/436 و 437 و 5/53) عن قتادة عن نصر بن عاصم عنه.وهذا سند صحيح على شرط مسلم. قال الحافظ في " الفتح " (2/177) :" وهو أصح ما وقفت عليه من الأحاديث في الرفع في السجود ".قلت: وقد ترجم له النسائي ببابين؛ أحدهما: (باب رفع اليدين للسجود) .والآخر: (باب رفع اليدين عند الرفع من السجدة الأولى) .
( حديث مالك بن الحويرث: أصل صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم ۲/ ۷۰۷، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع - الرياض)


۴:دوسری رکعت کے شروع میں۔
سنن أبي داود :
744 - حدثنا الحسنُ بن علي، حدَثنا سليمانُ بن داودَ الهاشميُّ، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن موسى بن عُقبة، عن عبد الله بن الفضل بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب، عن عبد الرحمن الأعرج، عن عُبيد الله بن أبي رافع عن علي بن أبي طالب، عن رسول الله- صلى الله عليه 
وسلم -: أنه كان إذا قامَ إلى الصلاة المكتوبة، كبّر ورفع يديه حَذْو 
مَنكِبَيه، ويصنعُ مِثل ذلك إذا قضى قراءتَه وأراد أن يركعَ، ويصنعُه إذا رفعَ من الركوع  ولا يرفعُ يَدَيه في شيء من صلاتِه وهو قاعدٌ، وإذا قام من السَّجدتين رفعَ يَدَيهِ كذلك وكبّر .
(باب افتتاح الصلاة،۲/ ۶۲ دار الرسالة العالمية)
اس حدیث میں حضرت علی رضی اللہ عنہ  آپ ﷺ  کی نماز کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ آپﷺ جب سجدوں سے اٹھ جاتے تو    رفع الیدین  فرماتے۔امام ترمذیؒ نے اس حدیث  کی تصحیح کی ہے۔

3423 - حدثنا الحسن بن علي الخلال قال: حدثنا سليمان بن داود الهاشمي قال: حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن موسى بن عقبة، عن عبد الله بن الفضل، عن عبد الرحمن الأعرج، عن عبيد الله بن أبي رافع، 
عن علي بن أبي طالب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا قام إلى الصلاة المكتوبة رفع يديه حذو منكبيه، ويصنع ذلك إذا قضى قراءته وأراد أن يركع، ويصنعه إذا رفع رأسه من الركوع، ولا يرفع يديه في شيء من صلاته وهو قاعد، فإذا قام من سجدتين رفع يديه كذلك فكبر.......... هذا حديث حسن صحيح.
(سنن الترمذي:۵/ ۴۸۸،شركة مكتبة مصطفى البابي الحلبي مصر)
۵:تیسری رکعت کےشروع  میں ۔
مختصر صحيح الإمام البخاري :
386 - عن نافع أن ابن عمر رضي الله عنهما كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه، وإذا ركع رفع يديه، وإذا قال: سمع الله لمن حمده، رفع يديه، وإذا قام من الركعتين رفع يديهِ، ورفع ذلك ابن عمر إلى نبي الله - صلى الله عليه وسلم -. 
(باب رفعِ اليدين إذا قام من الرَّكعتين۱/ ۲۳۵ مكتَبة المَعارف للنَّشْر والتوزيع، الرياض)
اس حدیث   پاک  کا معنی  یہ ہے ،نافعؒ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب دو رکعتوں سے اٹھ جاتے تو رفع الیدین فرماتے تھے ۔اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث  کو  مرفوعا ذکر فرمایا ہے(یعنی آپﷺ ایسا کرتے تھے)۔علامہ عینی ؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاری ؒ کا میلان اس حدیث کے مرفوع ہونے کی طرف ہے ،اس لئے تو یہ حدیث نقل کیا ہے۔اورا س کی تائید ابوداؤد شریف کی روایت سے بھی ہوتی ہے۔

قال العلامة بدر الدين العيني رحمه الله في شرحه عمدة القاري عن سند هذا الحديث : وميل البخاري إلى رفعه، فلذلك أخرج هذا الحديث، وفيه: ورفع ذلك ابن عمر، ويؤيده ما رواه أبو داود.
(باب رفع اليدين،۵/۲۷۶دار إحياء التراث العربي - بيروت)
مذکورہ احادیث میں آپ ﷺ  سے  ان سب جگہوں  میں رفع الیدین ثابت ہےلیکن کیا آپﷺ نے  دوام کے ساتھ وفات تک  ان   سب جگہوں  میں رفع الیدین کیا  یا بعض مواضع کے رفع الیدین بعد میں منسوخ ہوا؟ اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ ،رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت،ان تین جگہوں کے علاوہ  دوسرے جگہوں میں رفع الیدین  بالاتفاق منسوخ ہواہے۔اور تکبیر تحریمہ کے وقت  بالاتفاق منسوخ نہیں ہوا ہے۔
اب  دو جگہیں رہ گئیں، رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنا اس  كے منسوخ  ہونے میں فقہاں کا  اختلاف ہے ۔امام ابو حنیفہ ؒاور امام مالکؒ نے ان دو جگہوں میں ترکِ رفع الیدین کو ترجیح دی ہے، لہذا ان کےہاں ان دو جگہوں میں رفع الیدین کرنا سنت نہیں بلکہ مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولی ہےجبکہ امام شافعی ؒ اور امام احمد ؒ نے ان دو جگہوں میں رفع الیدین کو ترجیح دی ہے،لہذا ن کے ہاں رفع الیدین مسنون ہے۔

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: 
قال الحنفية والمالكية: لا يسن رفع اليدين في غير الإحرام عند الركوع أو الرفع منه، لأنه لم يصح ذلك عندهم عن النبي صلّى الله عليه وسلم، 
واستدلوا بما روي عن ابن عمر: «كان رسول الله صلّى الله عليه وسلم يرفع يديه إذا افتتح الصلاة، ثم لا يعود» .واستدلو بفعل ابن مسعود، قال: «ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلّى الله عليه وسلم؟ فصلى، فلم يرفع يديه إلا في أول أمره. وفي لفظ: «فكان يرفع يديه أول مرة، ثم لا يعود» وقال أيضاَ: «صليت مع رسول الله صلّى الله عليه وسلم، وأبي بكر، وعمر، فلم يرفعوا أيديهم إلا عند استفتاح الصلاة».
وقال الشافعية والحنابلة: يسن رفع اليدين في غير الإحرام: عند الركوع، وعند الرفع منه، أي عند الاعتدال، لما ثبت في السنة المتواترة عن واحد 
وعشرين صحابياً ، منها الحديث المتفق عليه عن ابن عمر قال: «كان النبي صلّى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة رفع يديه حتى يكونا بحَذْو مِنْكَبيه، ثم يكبّر، فإذا أراد أن يركع، رفعهما مثل ذلك، وإذا رفع رأسه من الركوع، رفعهما كذلك أيضاً، وقال: سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد».
(باب سنن الصلاۃ،۲/۸۷۱،۸۷۲ دار الفكر - سوريَّة – دمشق)
اب نماز میں رفع الیدیں اورترک رفع الیدیں دونوں جائز ہے لیکن  احناف ؒنے کئی وجوہات کی بناء  پر ترکِ رفع الیدیں  کو ترجیح دی ہے ۔ان میں سے چند وجوہات درجہ ذیل ہیں ۔
پہلی وجہ :ترک رفع الیدین کی روایات  صحیح  غیر معارض ہیں جو رفع الیدین والی روایات کے منسوخ ہونے پردلالت  کرتی ہیں، ان میں سے دس روایات ملاحظہ فرمائیں ۔ان روایات سے ثابت ہوجائے گا کہ آپﷺ کا آخری عمل ترک رفع الیدیں تھا نہ کہ رفع الیدین۔

۱: سنن أبي داود :
750 - حدثنا محمد بن الصَّبَّاح البزاز، حدثنا شريك، عن يزيد بن أبي زياد ، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن البراء: أن رسولَ الله-صلى الله عليه وسلم - كان إذا افتَتَحَ الصلاةَ رفعَ يديهِ إلى قريبِ من أُذُنَيه، ثم لا يعودُ.
(باب من لم يذكر الرفع عند الركوع،۲/ ۶۶،دار الرسالة العالمية)
ترجمہ:آپﷺ نماز شروع کرتے وقت کانوں کے قریب تک ہاتھ   اٹھاتے اور پھر دوبارہ (ہاتھ اٹھانا)ایسا نہ فرماتے۔
اس روايت پر  بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ "ثم لایعود " الفاظ کی زیادت ثابت نہیں ۔اس کے جواب میں محدث کبیر حضرت علامہ  انور شاہ کشمیری ؒ  اپنی کتاب نیل الفرقدین فی مسئلۃ رفع الیدین  میں اس حدیث کی سند پر لمبی بحث کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ خلاصہ یہ ہے کہ کوفی رواۃ  مذکورہ الفاظ کی  زیادت پر متفق   ہیں اور یہ حدیث اہل کوفہ ہی سے منقول ہے۔ لہذا  یہ اعتراض کرنا کہ "ثم لایعود " الفاظ کی زیادت ثابت نہیں، درست نہیں ہے۔

وبالجملة فقد توارد رواة الكوفة على هذه الزيادة و مخرج الحديث عندهم فعندي أنه لا حق لأحد أن يزاحمهم في مجلسهم أيضا و يتحكم عليهم من غيب أو يحكم على الغائب.
(نيل الفرقدين:ص:۹۸ ،ط:من مطبوعات المجلس العلمی)

 

۲:شرح معاني الآثار :
1349 - حدثنا ابن أبي داود، قال: ثنا نعيم بن حماد، قال: ثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن علقمة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم «أنه كان يرفع يديه في أول تكبيرة , ثم لا يعود».
(باب التكبير للركوع۱/ ۲۲۴،عالم الكتب)
یہ حدیث شرح معانی الآثار کی ہے ،اس میں بھی یہی بات ہے کہ آپﷺ ابتدائے نماز میں ہاتھ اٹھاتے اور پھر دوبارہ نہ اٹھاتے۔ علامہ ابو عیسیٰ ترمذی ؒ  اس حدیث کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے ،صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین ؒ میں سے بہت سارے اہل علم اسی (یعنی ترکِ رفع الیدین ) کے قائل ہیں اور یہی سفیان ثوری ؒ اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
قال العلامة أبو عيسى الترمذي في سننه عن سند هذا الحديث المبارك: 
حديث ابن مسعود حديث حسن،  وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، والتابعين، وهو قول سفيان الثوري، وأهل الكوفة.
(باب رفع اليدين ..،۲/ ۴۱،شركة مصطفى البابي الحلبي - مصر)

۳: شرح معاني الآثار:
1351 - حدثنا أبو بكرة، قال: ثنا مؤمل، قال: ثنا سفيان، عن المغيرة، قال: قلت لإبراهيم: حديث وائل «أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم , يرفع يديه إذا افتتح الصلاة , وإذا ركع , وإذا رفع رأسه من الركوع؟» فقال: إن كان وائل رآه مرة يفعل ذلك , فقد رآه عبد الله خمسين مرة , لا يفعل ذلك ".
(باب التكبير للركوع۱/ ۲۲۴،عالم الكتب)
اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ  مغیرہ ؒ  نے ابراہیم ؒ سے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں بتایا کہ اس حدیث میں  حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ" میں نے آپﷺ کو نماز کی شروع  میں ،رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے ہوئے دیکھا ہے" مغیرہ ؒ   فرماتے ہیں کہ ابراہیم ؒ نے  جواب میں  فرمایا کہ اگر وائل بن حجر ؒ نے آپﷺ کو ایک مرتبہ (رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت ) رفع الیدین  فرماتے ہوئے دیکھا ہے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پچاس مرتبہ آپﷺ کو رفع الیدین نہ کرتے  ہوئے دیکھا ہے ۔


۴: سنن أبي داود :
748 - حدَّثنا عثمان بن أبي شيبة، حدَّثنا وكيع، عن سفيانَ، عن عاصم - يعني ابن كُليب-، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن علقمةَ قال:قال عبد الله بن مسعود: ألا أُصلي بكم صلاةَ رسولِ الله- صلى الله عليه وسلم -؟ قال: فصلّى فلم يرفع يَدَيهِ إلا مرَّةً.
(باب من لم يذكر الرفع عند الركوع،۲/ ۶۵،دار الرسالة العالمية)
اس حدیث میں علقمہ ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں فرمایا کہ آیا میں تمہیں آپﷺ والی نمازنہ پڑھاؤں؟ پھر ہمیں نماز پڑھائی اور صرف ایک مرتبہ رفع الیدین فرمایا۔اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ آپﷺ  نماز کے شروع میں صرف ایک مرتبہ رفع الیدین فرماتے تھے۔
اس حدیث کی صحت کے بارے میں علامہ  انور شاہ کشمیری ؒ   فرماتے ہیں کہ مذکورہ الفاظ کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنہ  کی اس حدیث کو ضعیف قرار دینا ناممکن ہے؛اس لئے کہ محدثین نے تصریح کی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ  سے صرف ترک ِرفع الیدین ہی ثابت ہے۔پس اگر  کوئی اس حدیث کو ضعیف قراردے تو اس كا مطلب یہ  ہے کہ  ابن مسعود رضی اللہ عنہ   رفع الیدین فرماتے تھے حالانکہ علماء سے تواتر کے ساتھ اس کے خلاف(یعنی ترک رفع الیدین )منقول ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ روایت صحیح ہے۔
فخلاصة الكلام أن هذا الخبر مع هذه الزيادة صحيح و كل ما أوردوه عليه فهو مدفوع.......واعلم أن إعلال حديث بن مسعود بلفظ" ألا 
أصلي بكم صلاة رسول الله - صلى الله عليه وسلم -فصلى فلم يرفع 
يديه إلا في أول مرة " لايمكن ؛لأنهم قد صرحوا أن ابن مسعود رضي الله عنه لم يثبت عنه الرفع .....فلو أعلوه لزمهم ادعاء أنه كان يرفع و قد تواتر نقل العلماء عنه خلافه.
(نيل الفرقدين:ص: ۶۶،۶۷،ط:من مطبوعات المجلس العلمی)
۵:نصب الراية:
حديث آخر، أخرجه البيهقي في الخلافيات عن عبد الله بن عون الخراز ثنا مالك عن الزهري عن سالم عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه، إذا افتتح الصلاة، ثم لا يعود، انتهى. قال البيهقي: قال الحاكم: هذا باطل موضوع، ولا يجوز أن يذكر إلا على سبيل القدح، فقد روينا بالأسانيد الصحيحة عن مالك بخلاف هذا، ولم يذكر الدارقطني هذا في غرائب حديث مالك.
(۱/ ۴۰۴،مؤسسة الريان للطباعة والنشر - بيروت -لبنان)
اس روایت میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نماز کے شروع میں رفع الیدین فرماتے تھے
اور پھر  (دوبارہ) رفع الیدین نہ فرماتے۔امام بیہقی ؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کو صحیح اسانید کے ساتھ امام مالک ؒ سے نقل کیا ہے۔
۶: سنن الترمذي :
257 - حدثنا هناد قال: حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن علقمة، قال: قال عبد الله بن 
مسعود: «ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى، 
فلم يرفع يديه إلا في أول مرة». وفي الباب عن البراء بن عازب. حديث ابن مسعود حديث حسن، وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، والتابعين،  وهو قول سفيان الثوري، وأهل الكوفة.
(باب رفع اليدين ،۲/ ۴۰شركة مكتبة مصطفى البابي الحلبي  مصر)
اس حدیث میں بھی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے شا گردوں کو  آپﷺ   والی نماز پڑھائی اور اس میں صرف شروع ہی میں رفع الیدین فرمایا۔امام ترمذی ؒ اس حدیث کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے ،صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین ؒ میں سے بہت سارے اہل علم اسی (یعنی ترک رفع الیدین ) کے قائل ہیں اور یہی سفیان ثوری ؒ اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
۷:شرح معاني الآثار :
1353 - فإن أبا بكرة قد حدثنا قال: ثنا أبو أحمد , قال: ثنا أبو بكر النهشلي , قال: ثنا عاصم بن كليب , عن أبيه: «أن عليا رضي الله عنه كان يرفع يديه في أول تكبيرة من الصلاة , ثم لا يرفع بعد».
(باب التكبير للركوع،۱/ ۲۲۵،عالم الكتب)
اس روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ  صرف نماز کی شروع  میں رفع الیدین فرماتے تھے۔
حافظ ابن حجر  ؒاپنی کتا ب الدرایۃ میں  اس حدیث کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں   کہ اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں۔
وأخرج الطحاوي من طريق عاصم بن كليب عن أبيه أن عليا كان يرفع يديه في أول تكبيرة من الصلاة ثم لا يعود ورجاله ثقات.
(الدراية في تخريج أحاديث الهداية:۱/ ۱۵۲ دار المعرفة - بيروت)
۸: شرح معاني الآثار:
1357 - حدثنا ابن أبي داود، قال: ثنا أحمد بن يونس، قال: ثنا أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، قال: «صليت خلف ابن عمر رضي الله عنهما فلم يكن يرفع يديه إلا في التكبيرة الأولى من الصلاة.
(باب التكبير للركوع،۱/ ۲۲۵،عالم الكتب)
اس حدیث میں حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ،پس وہ صرف نماز کے شروع ہی میں رفع الیدین فرماتے تھے۔
اس حدیث کے بارے میں علامہ عینی ؒ  عمدۃ القاری میں فرماتے ہیں  کہ امام طحاوی ؒ نے اس حدیث  کوصحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
والدليل عليه أن عبد الله بن الزبير رأى رجلا يرفع يديه في الصلاة عند الركوع وعند رفع رأسه من الركوع، فقال له: لا تفعل، فإن هذا شيء فعله رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم تركه، ويؤيد النسخ ما رواه الطحاوي بإسناد صحيح: حدثنا ابن أبي داود، قال: أخبرنا أحمد بن عبد 
الله ابن يونس، قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن حصين عن مجاهد،
قال: صليت خلف ابن عمر فلم يكن يرفع يديه إلا في التكبيرة الأولى من الصلاة. قال الطحاوي: فهذا ابن عمر قد رأى النبي صلى الله عليه وسلم فعله. 
(عمدة القاري ۵/ ۲۷۳ دار إحياء التراث العربي - بيروت)
اسی طرح علامہ ابن الترکمانی ؒ اپنی کتاب الجوہر النقی میں اس حدیث کی سند کے بارے میں فرماتے ہیں  کہ یہ سند صحیح ہے۔
قلت : قد روي عنه خلاف ذلك  قال ان ابى شيبة في المصنف ثنا أبو بكر بن عياش عن حصين عن مجاهد قال ما رأيت ابن عمر يرفع يديه الا في اول ما يفتتح ،وهذا سند صحيح.
(الجوهر النقي :۲/ ۷۴ دار الفكر)
۹: شرح معاني الآثار:
1364 - كما حدثنا ابن أبي داود , قال: ثنا الحماني , قال: ثنا يحيى بن آدم , عن الحسن بن عياش , عن عبد الملك بن أبجر , عن الزبير بن عدي , عن إبراهيم , عن الأسود , قال: رأيت عمر بن الخطاب رضي الله عنه يرفع يديه في أول تكبيرة , ثم لا يعود , قال: ورأيت إبراهيم , والشعبي يفعلان ذلك.
(باب التكبير للركوع،۱/ ۲۲۷،عالم الكتب)
اس روایت کا  مطلب یہ ہے کہ  حضرت اسود ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا  پس وہ پہلی تکبیر کے ساتھ رفع الیدین فرماتےتھے اور پھر رفع الیدین نہ فرماتے تھے۔پھر فرمایا کہ  ابراہیمؒ اور  شعبی ؒ کو دیکھا وہ بھی ایسا ہی کرتے تھے (یعنی وہ دونوں بھی نماز میں  صرف پہلی تکبیر کے ساتھ رفع الیدین فرماتے تھے) ۔
اس حدیث کی سند کے بارے میں علامہ زیلعی ؒ  اپنی کتاب نصب الرایۃ میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے ،اور اس کا  مدار الحسن بن عیاش پر ہے ،اور وہ ثقہ ہیں۔
الآثار في ذلك: روى الطحاوي، ثم البيهقي من حديث الحسن بن عياش عن عبد الملك بن أبجر عن الزبير بن عدي عن إبراهيم عن الأسود، قال: رأيت عمر بن الخطاب يرفع يديه في أول تكبيرة، ثم لا يعود، قال: ورأيت إبراهيم. والشعبي يفعلان ذلك، قال الطحاوي: فهذا عمر لم يكن يرفع يديه أيضا إلا في التكبيرة الأولى، والحديث صحيح، فإن مداره على الحسن بن عياش، وهو ثقة حجة، ذكر ذلك يحيى بن معين عنه، انتهى.
(نصب الراية ۱/ ۴۰۵ مؤسسة الريان للطباعة والنشر بيروت لبنان)
 اسی طرح اس حدیث کی سند  کے بارے میں علامہ عینی ؒ  اپنی کتاب  نخب الافکار  میں فرماتے ہیں۔کہ ابن ابی شیبہ ؒ نے اس حدیث کو اعلٰی  سندوں کے ساتھ ذکر کیا ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں (شاگردوں) سے  صحیح سند کے ساتھ منقول ہے۔
ذكر ذلك كله ابن أبي شيبة في "مصنفه" (3) بأسانيد جيدة، وروي 
ذلك أيضًا بسند صحيح عن أصحاب علي وعبد الله ؓ وناهيك بهم.
(نخب الأفكار في..۴/ ۱۷۱وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية،قطر)
۱۰: شرح معاني الآثار:
1363 - كما حدثنا ابن أبي داود , قال: ثنا أحمد بن يونس , قال: ثنا أبو الأحوص , عن حصين , عن إبراهيم , قال: كان عبد الله لا يرفع يديه في شيء من الصلاة إلا في الافتتاح " وقد روي مثل ذلك أيضا عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه.
(باب التكبير للركوع،۱/ ۲۲۷،عالم الكتب)
اس حدیث میں ابراہیم ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ابتدائے نماز کے علاوہ رفع الیدین نہیں فرماتے تھے۔
حديث نمبر ۷،۸،۹،اور ۱۰ کےا سناد کے بارے میں محدث کبیر علامہ انور شاہ کشمیری ؒ اپنے شرح العرف الشذی میں فرماتے ہیں  کہ ہماری دلیل ( یعنی رفع الیدین نہ کرنے کی دلیل )طحاوی شریف میں قوی سند کے ساتھ  ابوبکر بن عیاش ؒ سے منقول ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی کسی فقیہ کو تکبیر تحریمہ کے وقت کے علاوہ رفع الیدین کرتے ہوئے نہیں دیکھا  ،اسی طرح  ہماری دلیل  کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا عمل ہے  مثلا:حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت علی رضی اللہ عنہ ،ان کی احادیث  طحاوی شریف میں مذکور ہیں  اور حافظ ابن حجر ؒ نے اپنی کتاب الدرایہ میں 
ان احادیث کی اسناد کو حسن قراردیا ہے،اس طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  کا عمل بھی ہماری دلیل ہے ،ان سے صرف ترک رفع الیدین ہی ثابت ہے جیسا کہ طحاوی شریف میں مذکور ہےاور ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل بھی ہماری دلیل ہے حالانکہ  ابن عمر  رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین کی روایت  منقول ہے،ابن عمر رضی اللہ عنہ کا رفع الیدین  نہ کرنا   قوی سند کے ساتھ طحاوی شریف میں منقول ہے۔
العرف الشذي شرح سنن الترمذي :
ولنا ما في الطحاوي ص (134) بسند قوي عن ابن أبي داود عن أحمد بن يونس عن أبي بكر بن عياش إلخ قال: ما رأيت فقيهاً قط يرفع يديه في غير تكبير التحريمة، ولنا كبار الصحابة مثل علي وعمر أخرجه في معاني الآثار ص (134) وحسن الحافظ إسناده في الدراية، وعمل ابن 
مسعود  ولم يثبت منه إلا الترك كما في الطحاوي ص (133) ، وعمل 
ابن عمر وهو راوي الرفع رواه في معاني الآثار ص (133) بسند قوي، وقيل في مسنده أبو بكر بن عياش، واختلط في آخر عمره، ونقول: إنه من رجال الصحيحين، وأخذ عنه أحمد بن يونس قبل الاختلاط، وأخرج عنه البخاري في أكثر من عشرين موضعاً.
(باب ما جاء فی رفع...۱/ ۲۶۶،دار التراث العربي بيروت، لبنان)
ان دس احادیث  کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث ہیں جو کہ ترکِ رفع الیدین پر دلالت کرتی ہیں  ۔ہم نے اختصار کی وجہ سے ایک ایک کتاب کا حوالہ دیا حالانکہ ان میں سے ہر ایک حدیث کئی کتابوں میں موجود ہیں ۔
دوسری وجہ :دوسری وجہ ترجیح  کی یہ ہے کہ ترکِ رفع الیدین کی احادیث قرآن کے زیادہ موافق ہیں ۔شروع میں نماز میں سلام کا جواب دینا ،مسبوق کا  فوت شدہ رکعتوں کے بارے میں پوچھنا  اور پھر فوت شدہ رکعتوں کو پڑھ کر نماز میں شریک ہونا وغیرہ جائز تھا پھر آیت "قوموا لله قانتين" نازل ہوئی اور  ان چیزوں سے نماز میں منع کیا گیا اور نماز کو خشوع اور خضوع کے ساتھ ادا کرنے کا حکم ہوا۔اسی طرح شروع میں آپ ﷺ رفع الیدین کرتےتھے  لیکن بعد میں ترک کردیا ۔ترک رفع الیدین خشوع و خضوع کے زیادہ قریب ہے۔
تیسری وجہ:تیسری وجہ یہ ہے کہ رفع الیدین کا دوام کسی حدیث سے ثابت نہیں ہےیعنی آپﷺ  نے ہمیشہ ہر نماز 
میں رفع کیا ہو   اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
چوتھی وجہ:ترک رفع الیدین پر امت کی اکثریت  کا تعامل رہا ہے اوررفع الیدین عام نہیں تھا بلکہ  شاذ و نادر تھا؛ اس لیے سالم ؒنے جب رفع الیدین   کیا تو حضرت جابرؒ نے سوال کیا فرمایا   فسألت عن ذلك.( شرح معاني الآثار ، ۱/۲۲۳،حدیث: ۱۳۴۰،) اس سے معلوم ہوا کہ رفع الیدین کا عام رواج نہیں تھا۔
پانچویں وجہ: رفع الیدین والی بعض روایات میں سجدوں کےدرمیان   رفع الیدین کا بھی ذکر ہے جیسا کہ حدیث وائل 
بن حجر ؓ،مالک بن حویرث ؓ، ابو ہریرہ، ؓ       حالانکہ رفع الیدین  کے قائل بھی سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے
اور اس  کو منسوخ  مانتے ہیں۔تو سجدوں کے درمیان رفع الیدین بالاتفاق متروک  ہے  لہذا  رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین بھی   متروک ہوا ہے ورنہ بہت سارے  صحابہ کرام  ؓ  ترک نہ فرماتے۔
رفع الیدین  پر بھی روایات موجود ہیں لیکن معارض ہیں ،ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
 شرح معاني الآثار: 
1336:۱ - حدثنا ربيع المؤذن قال: ثنا وهب , قال: أخبرني عبد الرحمن بن أبي الزناد , عن موسى بن عقبة , عن عبد الله بن الفضل , عن عبد الرحمن الأعرج , عن عبيد الله بن أبي رافع , عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه , عن رسول الله صلى الله عليه وسلم «أنه كان إذا  قام إلى الصلاة المكتوبة كبر ورفع يديه حذو منكبيه , ويصنع مثل ذلك 
إذا قضى قراءته إذا أراد أن يركع , ويصنعه إذا فرغ ورفع من الركوع , ولا يرفع يديه في شيء من صلاته وهو قاعد , وإذا قام من السجدتين 
رفع يديه كذلك  وكبر».
اس روایت میں حضرت  علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ جب فرض نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے تو  اللہ اکبر کہہ کر ہاتھوں  کو کندھوں تک اٹھاتے اور اسی طرح جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو  کندھوں تک اٹھاتے تھے اور جب دونوں سجدوں  سےاٹھ جاتے تو پھر اسی طرح  کندھوں تک ہاتھ  اٹھاتے تھے۔
اس حدیث سے استدلال درست نہیں ؛ اس لئے کہ اس  حدیث میں دوسرے رکعت کےلئے اٹھتے وقت بھی رفع الیدین کا  ذکر ہے حالانکہ  رفع الیدین کے قائل بھی دوسری  رکعت سے اٹھتے وقت رفع الیدین نہیں کرتے۔
۲: 1337 - حدثنا يونس، قال: ثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن أبيه، قال: «رأيت النبي صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة يرفع يديه , حتى يحاذي بهما منكبيه , وإذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع ولا يرفع بين السجدتين».
اس حدیث میں سالم ؒ اپنے والد حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے آپﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ،آپﷺ جب نماز شروع فرماتے تو  دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر  اٹھا تے، اسی طرح  جب رکوع فرماتے اور رکوع سے سر اٹھاتے   اور دونوں سجدوں کے درمیان ہاتھ نہ اٹھاتے۔
اس حدیث سے بھی استدلال درست نہیں ؛اس لئے کہ شرح معانی الآثار  کی حدیث( باب التکبیر للرکوع ۱/۲۲۵ ط:عالم الکتب) میں ذکر ہے کہ  حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل ترک رفع الیدین پر تھا ،لہذا جب راوی کا عمل اپنی روایت کے خلاف ہو تو اس روایت  سے استدلال کرنا  درست نہیں ۔
۳: 1345 - حدثنا محمد بن عمرو، قال: ثنا عبد الله بن نمير، عن سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن مالك بن 
الحويرث  قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ركع , وإذا رفع رأسه من ركوعه , يرفع يديه , حتى يحاذي بهما فوق أذنيه».
اس حدیث مبارک میں  حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں  نےآپﷺ  کو رکوع میں  جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔
اس حدیث سے بھی استدلال درست نہیں ؛اس لئے کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کے درمیان رفع الیدین بھی منقول ہے حالانکہ رفع الیدین کے قائل سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے۔
۴: 1343 - حدثنا أبو بكرة، قال: ثنا مؤمل بن إسماعيل، قال: ثنا سفيان، عن عاصم بن كليب، عن أبيه، عن وائل بن حجر، قال: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين يكبر للصلاة , وحين يرفع رأسه من الركوع يرفع يديه حيال أذنيه»
(باب التكبير للركوع.....۱/ ۲۲۳،۲۲۲عالم الكتب)
اس حدیث مبارک میں حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کو رکوع میں  جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا۔
اس حدیث سے بھی استدلال درست نہیں ؛اس لئے کہ سنن ابی داؤد (باب رفع الیدین ،۲/۴۹،ط:دار الرسا لۃ العالمیۃ)میں ذکر ہے کہ یہ صحابی آپﷺ کی خدمت میں دو دفعہ حاضر ہوا ۔یہ پہلی بار کا واقعہ ہے پھر جب دوبارہ  حاضر ہوا تو فرمایا کہ پھر میں نے  ان کو  (آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ  کو)ابتدائے نماز میں سینوں تک ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا(نہ کہ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت)۔
سنن ابن ماجة - ط الرسالة: 
860:۵- حدثنا عثمان بن أبي شيبة , وهشام بن عمار ، قالا : حدثنا
إسماعيل بن عياش ، عن صالح بن كيسان ، عن عبد الرحمن الأعرج ، عن أبي هريرة ، قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه في الصلاة حذو منكبيه حين يفتتح الصلاة ، وحين يركع ، وحين يسجد.
(باب رفع اليدين إذا ركع، ۲/ ۴۱مكتبة أبي المعاطي)
اس روايت ميں   حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا پس آپﷺ نماز کے شروع میں رفع الیدین فرماتے اور رکوع اور سجدہ کرتے  وقت بھی رفع الیدین فرماتے تھے۔
اس حدیث سے بھی استدلال درست نہیں ؛اس لیے کہ  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں  تیسری رکعت 
کے لئے اٹھتے وقت رفع الیدین کا بھی ذکر ہے۔نیز اس حدیث کے بارے میں علامہ طحاوی ؒ   بھی فرماتے ہیں کہ اس 
حدیث سے استدلال درست نہیں(شرح معاني الآثار ،۱/ ۲۲۷ط:عالم الکتب)۔
یہ پانچ روایات رفع الیدین کے بارے میں ہیں لیکن ساری روایات ترک رفع الیدین والی روایات کی طرح صحیح غیر معارض نہیں ہیں اور نہ ہی کسی بھی روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپﷺ ہمیشہ رفع الیدین کرتے تھے  ۔اسی طرح  ان روایات   كے بعض   صحابہ کرام ؓ سے ترک رفع الیدین  کی روایات بھی منقول ہیں مثلا: حضرت علی ؓ ،حضرت ابن عمر ؓ، نیز ان حضرات صحابہ کرام  ؓ  کا عمل بھی ترک رفع الیدین کا تھا،ان میں سے بعض روایات کو ہم نے اوپر ترک ِرفع الیدین والی روایات  میں ذکر کیا  ہے ؛اس لیے  یا تو ان روایات میں تعارض مانا جائےگایا یہ مانا جائے گا کہ  شروع میں رفع الیدین  تھا بعد میں ترک کیا گیا ۔اگر تعارض مانا جائے تو پھر بھی اصل عدم رفع الیدین یعنی ہاتھ نہ اٹھانا   ہے لیکن ہم ان احادیث کو تعارض کی بجائے تقدیم و تاخیر پر محمول کرتے ہیں  جیسا کہ علامہ طحاوی ؒ نے شرح معانی الآثار  میں ذکر کیا ہے (باب التکبیر للرکوع ،۱/۲۲۵،ط:عالم الکتب)کہ رفع الیدین کی روایات پہلے دور کی ہیں اور  ترکِ رفع الیدین کی روایات بعد کے دور کی ہیں۔ اسی طرح ان رفع الیدین والی بعض روایات میں سجدوں کےدرمیان   رفع الیدین کا بھی ذکر ہے جیسا کہ حدیث مالک بن حویرث ؓ،اور بعض روایات میں سجدوں کے بعد رفع الیدین کا ذکر ہے جیسا کہ حدیث وائل بن حجر ؓ    حالانکہ قائلین رفع الیدین سجدوں کے درمیان اور سجدوں سے اٹھتے وقت  رفع  الیدین نہیں کرتے تو جس دلیل کی بنیاد پر وہ سجدوں کے درمیان اور سجدوں سے اٹھتے وقت  رفع الیدین نہیں کرتے اسی دلیل سے قائلین ترکِ رفع الیدین  رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین نہیں کرتے۔

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026