نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ صدقۂ فطر ہر اس شخص پر واجب ہوتا ہے جو قرض منہا کرنے کے بعد ضرورتِ اصلیہ سے زائد اتنے مال کا مالک ہو جو نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) کے برابر یا اس سے زائد ہو، اور جو چیز حاجت اصلیہ کے ساتھ مشغول ہو اس کا نصاب میں اعتبار نہیں ہوتا ،صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ کی ملکیت میں گاؤں كا ایک مکان اور ایک دکان موجود ہیں جو کرایہ پر لگے ہوئے ہیں ،اور ان کی آمدنی سے آپ کے گھر کاخرچہ چلتا ہے،اس لئے وہ آپ کے ضرورت اصلیہ میں داخل ہیں ،لہذا آپ پر صدقہ فطر لازم نہیں ،اور آپ کے لئے کسی اور سے صدقہ فطر وصول کرنا جائز ہے،اگرچہ بغیر ضرورت کے صدقہ فطر یا زکوۃ وصول کرنا اچھی بات نہیں۔
تبيين الحقائق:
(باب صدقة الفطر) وهو لفظ إسلامي اصطلح عليه الفقهاء كأنه من الفطرة التي هي من النفوس والخلقة قال - رحمه الله - (تجب على كل حر مسلم ذي نصاب فضل عن مسكنه وثيابه وأثاثه وفرسه وسلاحه وعبيده) أي تجب صدقة الفطر على كل حر يملك نصابا فاضلا عما لا بد له منه كمسكنه إلى آخر ما ذكر.
(باب صدقة الفطر،1/306، المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)
البحر الرائق:
وقيد بالزكاة لان النفل يجوز للغني كما للهاشمي، وأما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله عليه الصلاة والسلام لا تحل صدقة لغتي خرج النفل منها لان الصدقة على الغني هبة. كذا في البدائع.
(باب مصرف الزكاة،2/427،دارالكتب العلمية)
أيضاً:
ويحل لمن له دور وحوانيت تساوي نصبا وهو محتاج لغلتها لنفقته ونفقة عياله على خلاف فيه.
(باب مصرف الزكاة،2/427،دارالكتب العلمية)
العناية شرح الهداية:
وقوله (فاضلا عن مسكنه) قال في النهاية: حتى لو كان له داران دار يسكنها وأخرى لا يسكنها ويؤاجرها أو لا يؤاجرها يعتبر قيمتها في الغني حتى لو كانت قيمتها مائتي درهم وجب عليه صدقة الفطر.
(باب صدقة الفطر،2/282،دار الفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔