سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-822 Fatwa no: 1448-822

اعضاء وضو پر ایلفی لگنے کی صورت میں وضو اور نماز کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک مسجد کے امام صاحب کی انگلی پر ایلفی لگی،جسے صاف کرنے میں انہوں نے پوری ہمت صرف کی،یہاں تک کہ ان کو ظن غالب ہوا کہ ایلفی صاف ہوچکی ہے،اس کے بعد وہ مسلسل نمازیں پڑھاتے رہیں،تیسرے روز انہیں اسی انگلی پر کچھ ہلکی سی ایلفی لگی ہوئی نظر آئیِ ،لیکن اس کاازالہ انتہائی دشوار تھا،اب پوچھنا یہ ہےکہ تین دن جو وہ وضوء کرتےرہیں اورجماعت کے ساتھ نمازیں پڑھاتے رہیں،ان کا کیا حکم ہے؟وہ نمازیں ادا ہوگئی یا ان کا اعادہ کرنا ہوگا؟
جواب :

واضح رہے کہ وضوکے صحیح ہونے کے لئے بدن تک پانی پہنچانا  ضروری ہے ۔اور ہر وہ چیز  جوبدن تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہو،اس کا ازالہ جتنا  آسانی   کے ساتھ ممکن ہو  ضروری ہے ،اور اگر اس کے  ازالے میں حرج اوردشواری ہو تواس کا ازالہ کرکے اس کے نیچے پانی پہنچانا ضروری نہیں  وہ معاف ہے۔فقہاء کرام ؒ نے اپنی عبارات میں اس قید کا لحاظ رکھا ہے،چنانچہ علامہ محمد بن ابی بکر الحنفی الرازیؒ (المتوفی:666ھ)  اپنی تصنیف"تحفۃ الملوک"میں تحریر کرتے  ہیں:"والأثر الَّذِي يشق إِزَالَته عَفْو"وہ اثرجس  کا ازالہ مشکل ہو  وہ معاف ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں امام صاحب نے     انگلی پر لگی  ہوئی ایلفی کو صاف کرنے میں پوری ہمت صرف کی ہے ،اس لئے ان کی پڑھائی  ہوئی نمازیں درست ہیں،اعادہ کی ضرورت نہیں۔
في تحفة الملوك:
مواد إِزَالَة النَّجَاسَة النَّجَاسَة المرئية تطهر بِزَوَال عينهَا...........والأثر الَّذِي يشق إِزَالَته عَفْو.
(فصل في إزالة النجاسة،ج:1،ص:39،ط:دارالبشائرالإسلامية)
و في منحة السلوك:
قوله:(والأثر الذي يشق إزالته:عفو)للحرج والضرورة،سواء كان الأثر من لون أو طعم أو ريح.
(فصل في إزالة النجاسة،ج:1،ص:80،ط:وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية)
وفي الفتاوى الهندية:
والعجين في الظفر يمنع تمام الاغتسال والوسخ والدرن لا يمنع والقروي والمدني سواء والتراب والطين في الظفر لا يمنع والصرام والصباغ ما في ظفرهما يمنع تمام الاغتسال وقيل كل ذلك يجزيهم للحرج والضرورة، ومواضع الضرورة......................................
 مستثناة عن قواعد الشرع. كذا في الظهيرية.
(الفصل الأول في فرائض الغسل،ج:1،ص:13،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026