سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-823 Fatwa no: 1448-823

زندگی میں بیٹے کو مکان ہبہ کرکے بیٹیوں کو محروم کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں ۔باپ کی ملکیت میں پانچ مرلہ ایک مکان ہے ۔وہ اپنی زندگی ہی میں اپنے اکلوتےبیٹےکو مالکانہ قبضہ کے ساتھ ہبہ کرنا چاہتاہے اگر وہ ہبہ کرے تو کیا وہ مکان بیٹے کی ملکیت بن جا ئے گا جبکہ باپ اس مکان میں سے بیٹیوں کو کچھ بھی نہیں دینا چاہتا تو : ۱:کیا باپ کا ایسا کرنا جائز ہے؟اگر جائز نہیں ہےتو پھر کیا طریقہ ہے جس پر عمل کیا جائے۔ ۲:کیا ایسی صورت میں والد صاحب گناہ گار ہوگا؟ ۳:کیا مرنےکے بعد اس سےآخرت میں کوئی مواخذہ ہوگا؟
جواب :

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی ہی میں اولاد میں سے کسی کو   جائیداد(مکان وغیرہ)ہبہ کرنا چاہےتو  کرسکتا ہےاور اس وارث کے قبضہ کرلینے سے وہ مالک بھی بن جائےگا لیکن صرف  کسی ایک کو دیکر باقی ورثاء کو محروم کرنا سخت گناہ ہے؛اس لیے زندگی میں تمام ورثاء کے  درمیان برابری کرنی چاہیے  ۔البتہ میراث کے اصول کے مطابق تقسیم کرنا بھی جائز ہے۔
لہذا  بصورت مسئولہ باپ کا بیٹے کو مکان ہبہ کرنا درست تو ہےاور موہوبہ چیز پر قبضہ کرلینے سےمالک بھی بن جائےگا لیکن بیٹیوں کو محروم کرنے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوگااور قیامت کے دن  اس پرمواخذہ  بھی ہوگا۔  
القرآن الكريم:
قال الله تبارك و تعالى في كتابه المجيد: "ان الله يامر بالعدل و الاحسان".
(سورة النحل:۹۰)
أوجز المسالك:
عن النعمان بن بشير أنه قال:إن أباه بشيرا أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال :إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "أ كل ولد نحلته مثل هذا؟ 
فقال:لا.قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :"فارتجعه" .
قال الشيخ زكريا رحمه الله في شرح هذا الحديث:ولنا ما في حديث النعمان من الدليل على التحريم ؛لأنه عليه السلام سمّاه جورا و أمر برده وامتنع عن الشهادة عليه و الجور حرام والأمر يقتضي الوجوب و لأن 

تفضيل بعضهم يورث بينهم العداوة والبغضاء و قطيعة الرحم فمنع منه.
(باب مالايجوز من النحل،۱۴/۱۷۰تا۱۷۶مكتبه وحيديه)
بدائع صنائع:
وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: ۹۰] .
(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.
(كتاب الهبة :۸/۱۵۰،۱۱۳ قديمى كتب خانه)
المبسوط:
فالمذهب أنه ينبغي للوالد أن يسوي بين الأولاد في العطية عند محمد - رحمه الله - على سبيل الإرث للذكر مثل حظ الأنثيين، وعند أبي يوسف - رحمه الله - يسوى بين الذكور والإناث قال: - عليه الصلاة والسلام - «ساووا بين أولادكم حتى في القبل، ولو كنت مفضلا أحدا لفضلت الإناث».
(كتاب الهبة،۱۲-۱۱/۶۷ مكتبه عمرية)
تاتارخانية:
وسئل نجم الدين عن رجل له ثلاثة بنين كبار وكان دفع لواحد الابن في صحته مالا ليتصرف فيه ففضل و كثر ذلك فمات الأب،أيختص به هذا الابن أو يكون ميراثا عنه بينهم قال:إن أعطاه هبة فالكل له وإن دفع إليه ليعمل فيه للأب فهو ميراث.
(كتاب الهبه ،۱۴/۴۹۲ مكتبه اعزازيه)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026