سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-826 Fatwa no: 1448-826

ایک بیوی،چار بیٹوں اور تین بیٹیوں میں تقسیم میراث کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
ہمارے والد صاحب فوت ہوت ہوگئے۔اور ہم چار بھائی، تین بہنیں اور والدہ صاحبہ بھی حیات ہے،تو اب ہمارے درمیان ترکہ کیسے تقسیم ہوگا
جواب :

واضح رہے کہ میت کے ترکہ(جس میں جائیداد منقولہ وغیر منقولہ،گھر کا چھوٹا،بڑا سامان اور کپڑے وغیرہ شامل ہے) میں سب سے پہلے اسکی تجہیز و تکفین کا متوسط خرچہ نکالا جائے گا،البتہ اگر کسی نے اپنی طرف سے ادا کیا ہو تو پھر نکالنے کی ضرورت نہیں ۔اسکے بعد اگر میت کے ذمےکسی کا قرض  ہویا بیوی کا مہر واجب الاداء ہو تو اس کو ادا کیا جائے گا۔پھر اگر مرحوم نے کسی اجنبی کیلئے کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال  تک اسکو نافذ کیا جائے گا۔اسکے بعد باقی ماندہ ترکہ  مرحوم کے ورثاء  میں اس طور پر تقسیم ہوگا کہ کل ترکہ کا آٹھواں  حصہ والدہ کو ملے گا اور باقی سات حصے تین بہنوں اور چار بھائیوں میں "للذکر مثل حظ الا نثیین"کے قاعدے کے مطابق تقسیم ہوگا،یعنی ہر بھائی کو بہن سے دگنا حصہ ملے گا۔لہذا صورت مسئولہ میں تقسیم کی صورت یہ ہوگی کہ کل ترکہ کو اٹھاسٹھ(88) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا،جن میں سے بیوی کوگیارہ(11)حصے،اور چار بھائیوں کو مجموعی طور پر  چھپن (56)حصے،جبکہ ہر بھائی کا انفرادی حصہ چودہ(14) ہے،اور باقی ماندہ اکیس (21) حصے تین بہنوں میں اس طرح تقسیم کئے جائیں گے،کہ ہر بہن کو انفرادی طور پر سات(7) حصے ملیں گے۔
القرآن المجيد:
يو صيكم االله في أولادكم،للذكر مثل حظ الأنثيين.......فإن كان لكم ولد فلهن الثمن.
(النساء،الجزء:4،الآية:12)
السراجي في الميراث:
وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث...ومع الابن للذكر مثل حظ الانثيين،و هو يعصبهن.....و أما للزوجات فحالتان:الربع للواحدة عند عدم الولد وولد الابن وإن سفل،والثمن مع الولد أو ولد الابن وإن سفل......فإذا جا في المسائل من هذه الفروض أحاد أحاد،فمخرج كل فرض سميه.....والثالث:أن لاتكون بين سهامهم ورؤوسهم موافقة،فيضرب كل عدد رؤوس من انكسرت عليهم السهام في أصل المسئلة.
(فصل في النساء،75،182،203،ط:البشرى

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026