سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-88 Fatwa no: 1447-88

دوران نماز چھینکے والے کو جواب دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : دوران نماز کسی کو چھینک آئی اس نے " الحمد للہ " کہا ، اور دوسرے شخص نے "یرحمک اللہ " کہا ، اور تیسرے نے بھی " الحمد للہ " کہا جب کہ یہ دونوں بھی نماز میں تھے ، آیا ان لوگوں کی نماز فاسد ہو گئی یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ " یرحمک اللہ " لوگوں کے عرف میں بطور جواب کے استعمال ہوتا  ہے، جبکہ " الحمد للہ " بطور جواب استعمال نہیں ہوتا ،لہذا صورت مسئولہ میں جس نمازی نے " یرحمک اللہ " کہا ہے تو اس کی نماز فاسد ہو گئی ؛ کیونکہ یہ لوگوں کے کلام میں سے ہےجو کہ نماز کے منافی اور مفسدنماز ہے ، اور جس نمازی نے " الحمدللہ " کہا ہے تو اس کی نماز درست ہے ؛ کیونکہ یہ ذکراللہ  ہے جو کہ نماز کےمنافی نہیں ہے ، اس لئےدوران نماز "الحمد للہ "کہنے سے نماز فاسد نہ ہوگی ۔
كما في ردالمحتار علي الدرالمختار :
(وَ) يُفْسِدُهَا (تَشْمِيتُ عَاطِسٍ) لِغَيْرِهِ (بِيَرْحَمُكَ اللَّهُ وَلَوْ مِنْ الْعَاطِسِ لِنَفْسِهِ لَا) (قَوْلُهُ بِيَرْحَمُكَ اللَّهُ) قَيَّدَ بِهِ لِأَنَّ السَّامِعَ لَوْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَإِنْ عَنَى الْجَوَابَ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ، أَوْ التَّعْلِيمَ فَسَدَتْ، أَوْ لَمْ يُرِدْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا لَا تَفْسُدُ اتِّفَاقًا نَهْرٌ. وَصَحَّحَ فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ عَدَمَ الْفَسَادِ مُطْلَقًا لِأَنَّهُ لَمْ يُتَعَارَفْ جَوَابًا.
(كتاب الصلاة،باب مايفسدالصلاةومايكره فيها،ج1،ص620،ط:ايچ ايم سعيد)
وفي الهداية :
(وَمَنْ عَطَسَ فَقَالَ لَهُ آخَرُ يَرْحَمُك اللَّهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَسَدَتْ صَلَاتُهُ) لِأَنَّهُ يَجْرِي فِي مُخَاطَبَاتِ النَّاسِ فَكَانَ مِنْ كَلَامِهِمْ، بِخِلَافِ مَا إذَا قَالَ الْعَاطِسُ أَوْ السَّامِعُ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى مَا قَالُوا لِأَنَّهُ لَمْ يُتَعَارَفْ جَوَابًا
(باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج1، ص137، ط: مكتبه الحسن )
وفي البحرالرائق :
قوله: (وجواب عاطس بيرحمك الله) أي يفسدها لانه من كلام الناس ولهذا قال النبي صلى الله عليه وسلم لقائله وهو معاوية بن الحكم أن صلاتنا هذه لا يصح فيها شئ من كلام الناس فجعل التشميت منه قيد بكونه جوابا لانه لو قال العاطس لنفسه يرحمك الله يا نفسي لا تفسد لانه لما لم يكن خطابا لغيره لم يعتبر من كلام الناس كما إذا قال يرحمني الله. وقيد بقوله يرحمك الله لانه لو قال العاطس أو السامع الحمد لله لا تفسد لانه لم يتعارف جوابا
(باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج2، ص8،ط:ألمكتبه الوحيدية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب