سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-829 Fatwa no: 1448-829

گندم ادھار لے کر فصل کی کٹائی کے وقت واپس کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک شخص سے ایک من گند م اس شرط پر ادھار لی کہ جب میری گندم کی کٹائی ہو تو میں اس کو ایک من گندم واپس کروں گا۔گندم کی کٹائی میں تقریبا دو ماہ لگ سکتے ہیں ۔ کیا یہ معاملہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ ان  اشیاء کو قرض پر دیا جاسکتا ہے جو مثلی ہو (یعنی اس کا مثل موجود ہو ) جیسے مکیلی (خاص پیمانے سے دی جانے والی اشیاء ) ،موزونی (وہ اشیاء جو تولی جاتی ہوں  جیسے: گندم،چاول ،وغیرہ ) عددی متقارب (وہ عددی چیزیں جو آپس میں عموما برابر ہوں مثلا:انڈے وغیرہ ) البتہ غیر مثلی اشیاء کو قرض پر دینا  جائز نہیں  مثلا:جانور وغیرہ کیونکہ یہ چیزیں  ایک دوسرے سے مختلف ہوتی  ہیں۔
لہذا بصورت مسؤلہ آپ کا ایک من گندم بطور قرض لینا جائز ہے۔کیونکہ  گندم وزنی چیز ہے ،البتہ قرض خواں  کو کسی بھی وقت مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے، چاہے   گندم کی کٹائی    کے بعد ہو یا پہلے۔

الفتاوى الهندية :
ويجوز القرض فيما هو من ذوات الأمثال كالمكيل والموزون والعددي المتقارب كالبيض ولا يجوز فيما ليس من ذوات الأمثال كالحيوان والثياب والعدديات المتفاوتة 
(الباب التاسع فی القرض و الاستقراض،۳/۲۰۱، دار الفکر)

المبسوط للسرخسي :
وإذا ثبت هذا فنقول: الإقراض جائز في كل مكيل، أو موزون، وكذلك في العدديات المتقاربة كالجوز، والبيض؛ لأنها مضمونة بالمثل 
(باب القرض و الصرف فيه،،۱۴/۳۱،دار المعرفة - بيروت)  

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :
والأجل لا يلزم في القرض - سواء كان مشروطا في العقد أو متأخرا عنه بخلاف سائر الديون، والفرق من وجهين: أحدهما - أن القرض تبرع.ألا يرى أنه لا يقابله عوض للحال.
(فصل فی شرائط رکن القرض،۳۹۶/۷ دار الکتب العلميه)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026