سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-831 Fatwa no: 1448-831

ایک تحقیقی قانونی ادارے کا طلباء کو مقالے کا مواد مہیا کرنے پر اجرت لینے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک تحقیقی ادارہ طلبہ کرام کو تحقیقی مقالہ(Research Paper)تیار کرکے فراہم کرتا ہے،اور مقالے کا مواد بھی خود ادارہ مہیا کرتا ہے۔تاہم ادارہ یہ شرط عائد کرتا ہے کہ یہ مواد صرف رہنمائی اور تعلیمی مدد کے لئے ہے،جیسا کہ حل شدہ پرچے یا کتابوں کی شروحات دی جاتی ہیں،لیکن ادارہ یہ شرط عائد کرتا ہے کہ اسے تعلیمی ادارے میں جوں کاتوں جمع کروانا سختی سے ممنوع ہے۔یہ شرط ادارے کی ویب سائٹ پر بھی واضح طور پر درج ہے،جس کی عبارت یہ ہے:ہماری پریمیم کسٹم رائٹنگ اور تعلیمی معاونت کی خدمات مطالعے ،تحقیق اور سمجھ بوجھ کے مقاصد کے لئے ہیں۔ ہمارے مواد کو جوں کاتوں تعلیمی اداروں میں جمع کروانا سختی سے ممنوع ہے۔صارفین کے لئے تعلیمی دیانت کے اصولوں پر عمل کرنا لازمی ہے۔مزید تفصیلات درج ذیل ہیں: 1۔ادارے سے مقالہ حاصل کرنے والے افراد عموما 18 سال سے زائد عمر کے ہیں اور اپنے نفع و نقصان سے واقف ہیں۔ 2۔حاصل ہونے والی ڈگری صرف اسی مواد پر منحصر نہیں،بلکہ طالب علم کا اپنا کام بھی شامل ہوتا ہے۔ 3۔ریسرچ ادارہ طلبہ کی استعداد اور علمی قابلیت کو جانچنے کا پابند بھی نہیں ہے۔ 4۔اہم بات یہ ہے کہ اس ادارے نے یہ شرائط قانونی اعتبار سے نافذ کی ہیں،جو دیگر تعلیمی یا تحقیقی ادارے عام طور پر نہیں کرتے۔یہ شرائط صارفین کے حقوق وفرائض کو واضح کرتی ہیں اور ادارے کی نیت اور ذمہ داری کو قانونی دائرہ میں رکھتی ہیں۔ 5۔طلبہ کو یہ مواد حوالہ کرتے وقت ان سے واضح حامی لی جاتی ہے کہ وہ اس شرائط کا خیال رکھیں۔ اب سوال یہ ہیکہ یہ تمام شرائط عائد کرنے کے باوجود اگر کوئی طالب علم ان شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعینہ وہی مقالہ تعلیمی ادارے میں جمع کروادے،تو کیا اس مواد کی تیاری کے بدلے ادارے کو اجرت لینا جائز ہے یا ناجائز؟بعض علماء اسے جائزاور بعض نا قرار دیتے ہیں۔برائے مہربانی اس مسئلہ پر مکتوب فتوی جاری کریں تاکہ دلی تشفی حاصل ہو۔
جواب :

صورت مسئولہ میں جب تحقیقی ادارہ     تحقیقی مقالہ اور مقالے کا مواد صرف طلبا ء کی رہنمائی اور  تعلیم کی مدد کےلئے مہیا کرتا ہے۔اورادارہ  واضح طور پر یہ  شرط  عائد کرتا ہے کہ بعینہ جوں کا توں اس مقالہ کو جمع کرنا سختی سے منع ہے،جیسا کہ یہ شرط ادارے کی  ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔اور مزید یہ کہ یہ شرط قانونی اعتبار سے بھی نافذ کی جاتی ہے ،جوکہ......
 اس ادارے کی خصوصیت ہے۔اور طلباء کو مواد حوالہ کرتے وقت بقاعدہ ان سے اس شرط پر پورا اترنے کا عہد لیاجاتا ہے۔تو اس صورت میں دھوکہ اور فراڈ نہ ہونے کی وجہ سے مقالہ پر اجرت لینا درست ہے،بشرطیکہ عقد کرتے وقت اجرت متعین کی جائے تاکہ عاقدین کی رضامندی حاصل ہو اور بعد میں مفضی الی النزاع (جھگڑے کا سبب)نہ ہو۔پھر بھی اگر کوئی طالب ان شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعینہ وہی مقالہ جمع کرواتا ہے ،تو اس پر وہ عند اللہ ماخوذ ہوگا۔ادارہ اس  سےبری  الذمہ ہے۔
مختصر القدوري:
ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة والأجرة معلومة.
(كتاب الإجارة،394/1،ط:البشری)
الدرالمختار:
وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.
(كتاب الإجارة،6/3،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026