سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-832 Fatwa no: 1448-832

مشترکہ سولر پلانٹ کی تنصیب کی شرعی صورت

براہ راست فتویٰ
سوال :
السلام علیکم ورحمۃ اللہ، گذارش ہے کہ میں غوری ویلفیئر کمیٹی فیز 1 غوری ٹاون کی طرف سے سوال کرتا ہوں کہ ویلفیئر کمیٹی بجلی کے بلوں میں کمی کرنے کی وجہ سے سولر سسٹم لگانا چاہتے ہیں قیمت تقریبا تیرہ لاکھ سے پندرہ لاکھ روپے ہے ۔کمیٹی کے پاس چند لاکھ ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں سے دس دس ہزار روپے وصول کرکے ایک مشترکہ سولر پلانٹ لگائیں اور دس ماہ یا سال بعد لوگوں کو ان کے پیسے بھی واپس کریں اور ان کو تقریبا تین ہزار پانچ سو روپے صرف ایک دفعہ کمیٹی کے(پانی،صفائی،سکورٹی کے) بلوں میں نفع(ڈسکاؤنٹ) دیا جائے ،اور پلانٹ کمیٹی کی ملکیت ہوجائے۔آپ مفتیان کرام شریعت کے مطابق کوئی قابل عمل صورت ہمیں بناکر دیں ۔اللہ تعالی آپ حضرات کو سعادت دارین نصیب فرمائیں ۔
جواب :

سوال میں مذکورہ سولر پلانٹ لگانے کے لئے ہمارے علم میں  جائز اور آسان  صورت  یہ  ہے کہ غوری ویلفیئر کمیٹی لوگوں کے ساتھ شرکت متناقصہ کا عقد کرلیں  یعنی   لوگوں سے دس ہزار روپے  فی گھر بطور مشارکہ وصول کریں اور ان کے ساتھ یہ طے کریں کہ مثلا :دس ماہ تک ہمارا عقد مشارکہ ہوگااور کمیٹی اپنے شرکاء سے یہ وعدہ بھی کرے کہ شرکاء کی پلانٹ میں جتنی ملکیت ہے ۔اس کی مختلف یونٹس بنا کر کمیٹی ان سے خریدے گی ، اسی طرح یہ بھی وعدہ کرے کہ   کمیٹی   شرکاء  سے ان کا حصہ کرایہ پر لےگی  ۔اگر ماہانہ  کرایہ کی ادائیگی  اور یونٹس خریدنے کا حساب کتاب  مشکل ہو تو جتنی مدت بعد کرایہ دینا اور یونٹس خریدنا  آسان اسی کے مطابق ان سے معاملہ کریں۔  ان سے یہ بات طے کرلیں کہ کچھ مدت بعد مثلا: پانچ ماہ بعد  متعين کرایہ ادا کریں گےاور  اسی  کرائے  کی ادائیگی کے مطابق  شرکاء کے حصے کی یونٹس  
بھی بنائیں مثلا : دو یونٹس بنائیں  اور کمیٹی  پانچ ماہ بعد(شرکاء کے حصے )  دو یونٹس کا کرایا ادا کرتے وقت  ایک یونٹ کی  قیمت بھی ادا کرتی رہے ۔ اس سےپلانٹ میں کمیٹی کی ملکیت پانچ ماہ بعد ایک یونٹ (شرکاء  کےآدھےحصہ )کے بقدر  زیادہ ہوجائے گی ۔ اور خریدی ہوئی یونٹ(شرکاء  کےآدھےحصہ )  کا کرایا بھی کم ہوجائے گا ،اور کمیٹی  اگلے پانچ مہینے صرف ایک یونٹ کے بقدر کرایہ ادا کرے گی۔اسی طرح  جب  اگلے پانچ  مہینے پوری ہو،تو  کمیٹی ایک یونٹ کے پانچ مہینوں کاکرایہ ادا کرے اور ایک یونٹ کی قیمت  بھی ادا کرے ۔ اسی طرح ساری ملکیت کمیٹی کی ہوجائے گی ۔
ایک یہ  صورت  بھی اختیار کرسکتے ہیں کہ کمیٹی ماہانہ آدھا بل لوگوں   سے وصول کریں اور آدھا بل ان  سے نہ لیں بلکہ  اس کے بقدر  کم کرایہ  ادا کریں۔

ایک صورت یہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے کہ  لوگوں کو یہ اعلان کریں کہ جو بھی مثلاً:   پانچ ماہ  یا آٹھ ماہ  کی بل پہلے یک مشت   اداکرے گا تو اس کو ایک بل معاف ہوگا۔اس  طرح کمیٹی کے پاس سولر پلانٹ کے لئے سرمایا جمع ہوجائے گا۔

اس معاملے  میں درجہ ذیل  باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
۱۔مذکورہ معاملوں  کو ایک دوسرے کے لئے شرط  بنانا جائز نہیں بلکہ کمیٹی کی طرف سے یک طرفہ  صرف وعدہ ہو کہ  کمیٹی شرکاء کے حصے کو کرایہ پر لے گی اور اس کے مختلف یونٹس بناکر مختلف مراحل میں خریدے گی ۔
۲۔اگر کوئی نقصان ہوجائے تو وہ کمیٹی   اور شرکاء دونوں پر ان کے سرمائے کے تناسب سے ہوگی۔
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:
وأما الإجارة من الشريك فهي جائزة على الرواية المشهورة عن أبي حنيفة؛ لأن المعقود عليه مقدور الاستيفاء بدون المهايأة، إذ منفعة كل الدار تحدث مثلاً على ملك المستأجر لكن بسببين مختلفين: بعضها بسبب الملك، وبعضها بسبب الإجارة. وأما الشيوع الطارئ فلا يؤثر على الإجارة في الروية المشهورة عن أبي حنيفة أيضاً؛ لأن المانع من جواز العقد وهو الشيوع كان بسبب عدم القدرة على التسليم، والقدرة على التسليم ليست بشرط لبقاء العقد ودوامه، إذ ليس كل ما يشترط في إنشاء العقد عند ابتدائه يشترط لبقاء العقد.
وقال الصاحبان وجمهور الفقهاء: تجوز إجارة المشاع مطلقاً من الشريك 
وغيره؛ لأن للمشاع منفعة، والتسليم ممكن بالتخلية أو بالتهايؤ، كما يجوز ذلك في البيع، والإجارة أحد نوعي البيع.
(فصل ان يكون المعقود عليه مقدور الاستيفاء،۵/ ۳۸۱۵ دار الفكر - سوريَّة - دمشق)
المعاملات المالية أصالة ومعاصرة:
وكون العقار قد يؤجر بعد ذلك فهذا من باب إجارة المشاع، فإن كانت الإجارة من الشريك لشريكه، أو قام جميع الشركاء بتأجير المشاع لأجنبي فلا خلاف في جوازه ؛ لأن مدار الجواز على إمكانية استيفاء المنفعة، وهو ممكن.
(الوجه الثالث،۱۵/ ۱۴۷ مكتبة الملك فهد الوطنية، الرياض)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ومنها: بيان المدة في إجارة الدور والمنازل، والبيوت، والحوانيت، وفي استئجار الظئر؛ لأن المعقود عليه لا يصير معلوم القدر بدونه، فترك بيانه يفضي إلى المنازعة، وسواء قصرت المدة أو طالت من يوم أو شهر أو سنة أو أكثر من ذلك بعد أن كانت معلومة، وهو أظهر أقوال الشافعي.
(جواز الاجارة،۴/ ۱۸۱،دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026