سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-835 Fatwa no: 1448-835

بہن کو زکوۃ دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہماری بہن کی شادی ایک غریب گھرانے میں ہوئی ہے،اور اب وہ بیوہ بھی ہوچکی ہے،تو آیا ہم اپنے بہن کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ اصول(ماں،باپ اور ان سےاوپر کا سلسلہ)اورفروع(اولاد اور ان سے نیچے کاسلسلہ)کو زکوۃ دینا جائز نہیں ،ان کے علاوہ ہرمستحق زکوۃ کو زکوۃ دینا جائز ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں بہن  کو زکوۃ دینا صرف جائز نہیں،بلکہ افضل ہے،کیونکہ اس میں غریب کی مدد کےساتھ صلہ رحمی بھی ہے۔
الفتاوى الهندية:
فلا بأس بالنقل والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم .....كذا في السراج الوهاج.
(الباب السابع في المصارف،189/1،ط:دارالفکر)
دررالحكام:
الأفضل في صرفها أن يصرفها إلى إخوته الفقراء ثم أولادهم ثم أعمامه ثم أخواله ثم ذوي أرحامه ثم جيرانه ثم أهل سكنه ثم أهل مصره كما في الفتح وغيره.ولعله أراد بالإخوة شمول الأخوات.
 (باب الزكاة،192/1،ط:دارإحياءالكتب العربية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026