نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ اصول(ماں،باپ اور ان سےاوپر کا سلسلہ)اورفروع(اولاد اور ان سے نیچے کاسلسلہ)کو زکوۃ دینا جائز نہیں ،ان کے علاوہ ہرمستحق زکوۃ کو زکوۃ دینا جائز ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں بہن کو زکوۃ دینا صرف جائز نہیں،بلکہ افضل ہے،کیونکہ اس میں غریب کی مدد کےساتھ صلہ رحمی بھی ہے۔
الفتاوى الهندية:
فلا بأس بالنقل والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم .....كذا في السراج الوهاج.
(الباب السابع في المصارف،189/1،ط:دارالفکر)
دررالحكام:
الأفضل في صرفها أن يصرفها إلى إخوته الفقراء ثم أولادهم ثم أعمامه ثم أخواله ثم ذوي أرحامه ثم جيرانه ثم أهل سكنه ثم أهل مصره كما في الفتح وغيره.ولعله أراد بالإخوة شمول الأخوات.
(باب الزكاة،192/1،ط:دارإحياءالكتب العربية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔