نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ میت کی اولاد اور اس کے بھائی کے ہوتے ہو ئے میراث اولاد کو ملتی ہے اور بھائی محروم ہوتاہے۔کیونکہ یہ دونوں عصبہ بنفسہ(ہر وہ مذکر وارث کہ میت کی طرف اس کی نسبت کرنے میں کسی مؤنث کا واسطہ نہ ہو۔) میں داخل ہیں۔اور عصبہ بنفسہ میں میراث"الاقرب فالاقرب"کےقانون کے تحت تقسیم ہوتی ہے،یعنی جوصنف میت کے زیادہ قریب ہوگی اس کو میراث میں ترجیح دی جائے گی اور جو صنف میت سے بعید ہوگی وہ از روئے شرع محروم ہو گی۔لہذا صورت مسئولہ میں جب میت کے بیٹے موجود ہیں ،تو ان کو تقسیم میراث میں ترجیح دی جائے گی،ان کے ہوتے ہوئے مرحوم کے بھائی محروم ہوں گے،اس لئے ان کا میراث میں حقدار ہونے کا دعوی کرنا ازروئے شرع جائز نہیں۔
السراجي في الميراث:
أما العصبة بنفسه:فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى.و هم أربعة أصناف: جزء الميت،و أصله،و جزء أبيه ،و جزء جده،الأقرب فالأقرب.يرجحون بقرب الدرجة، اعني: أولاهم بالميراث جزء الميت،أي البنون، ثم بنوهم و إن سفلوا،ثم أصله،أي الأب.ثم جزء أبيه،أي الإخوة،ثم جزء جده،أي الأعمام.
(فصل في النساء،76،99،132،ط:البشرى)
الشريفية شرح السراجية:
أي الأولى بالميراث عند اجتماع هذه الأصناف من هوأقرب درجة إلى الميت.سواء كان القرب حقيقيا كالابن مع ابن الابن،أو حكميا كالابن مع الأب.
(فصل في النساء،132،ط:البشرى)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔