سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-836 Fatwa no: 1448-836

بیٹوں کی موجودگی میں بھائی کو میراث ملنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
ہم چار بھائی اور تین بہنیں ہیں اور والدہ صاحبہ بھی زندہ ہے،ہمارے والد صاحب کی 20 کنال زمین تھی ،والد صاحب کے فوت ہونے کے بعد چچا کا یہ دعوی ہے کہ میں بھی تمہارے ساتھ میراث میں شریک ہوں،کیونکہ میں مرحوم کا بھائی ہو ں ، حالانکہ والد صاحب کی زندگی ہی میں انہوں نے آپس میں حساب کتاب کرلیا تھا،اور زمین آپس میں تقسیم کرلی تھی،تو آیا واقعتا قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کو حصہ ملتا ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ میت کی اولاد اور اس کے بھائی کے ہوتے ہو ئے میراث اولاد کو ملتی ہے اور بھائی محروم ہوتاہے۔کیونکہ یہ دونوں  عصبہ بنفسہ(ہر وہ مذکر وارث کہ میت کی طرف اس کی نسبت کرنے میں کسی مؤنث کا واسطہ نہ ہو۔)  میں داخل ہیں۔اور عصبہ بنفسہ میں میراث"الاقرب فالاقرب"کےقانون کے تحت تقسیم ہوتی ہے،یعنی جوصنف میت کے زیادہ قریب ہوگی  اس کو میراث میں ترجیح دی جائے گی اور جو صنف میت سے بعید ہوگی  وہ از روئے شرع محروم ہو گی۔لہذا صورت  مسئولہ میں جب  میت کے بیٹے موجود ہیں ،تو ان کو  تقسیم میراث میں ترجیح دی جائے گی،ان کے ہوتے ہوئے مرحوم کے بھائی محروم ہوں گے،اس لئے ان کا میراث میں حقدار ہونے کا دعوی  کرنا ازروئے شرع جائز نہیں۔
السراجي في الميراث:
أما العصبة بنفسه:فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى.و هم أربعة أصناف: جزء الميت،و أصله،و جزء أبيه ،و جزء جده،الأقرب فالأقرب.يرجحون بقرب الدرجة، اعني: أولاهم بالميراث جزء الميت،أي البنون، ثم بنوهم و إن سفلوا،ثم أصله،أي الأب.ثم جزء أبيه،أي الإخوة،ثم جزء جده،أي الأعمام.
(فصل في النساء،76،99،132،ط:البشرى)
الشريفية شرح السراجية:
أي الأولى بالميراث عند اجتماع هذه الأصناف من هوأقرب درجة إلى الميت.سواء كان القرب حقيقيا كالابن مع ابن الابن،أو حكميا كالابن مع الأب.
(فصل في النساء،132،ط:البشرى)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026