سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-89 Fatwa no: 1447-89

دین کی بیع جائزنہیں ہے

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ: میں نےبینک سےچالیس لاکھ روپےکاسٹیل خریدا،بینک نےمجھےٹوکن دیاکہ جاکرسٹیل مل سےلےلو،میں سٹیل مل گیااورٹوکن دےکرکہاکہ مجھےنقدپیسےدیدو،سٹیل مل نےتین ہزارفی لاکھ کاٹااوربقیہ مجھےدیدیا،توآیایہ لین دین سودکےزمرےمیں تونہیں آتا؟
جواب :

بصورت مسئولہ  بینک نےجوٹوکن جاری کیاہےیہ دین کی رسیدہے،اس کو بیچناجائز نہیں ہے،لہذاآپ کاسٹیل مل کوچالیس لاکھ کاٹوکن دےکرنقدی حاصل کرناشرعاجائزنہیں ،بلکہ یہ سودہی کاایک حیلہ ہے،جوکہ ناجائزہے۔
في المعيارالشرعي:
أماالديون في الذمم فلايجوزتصكيكها(توريقها)لغرض تداولها.
(صكوك الاستثمار،الجزء17،ص:472)
وفي المبسوط للسرخسي:
وكذلك بيع الدين من غير من عليه الدين والشراء بالدين من غير من عليه الدين سواء كل ذلك باطل.
(الجزءالرابع عشر،ج:14،ص:36،ط:دارالفكر)
وفي البحرالرائق:
ولا ينعقد بيع الدين من غير من عليه الدين.
(كتاب البيع،ج:5،ص:280۔ط:دارالمعرفة)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب