سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-838 Fatwa no: 1448-838

تجارت کےلئےخریدےہوئےجانوروں میں زکوۃ کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں : میں پندرہ سے بیس بچھڑے خرید کر پالتا ہوں،اور ان کے لئے چارہ وغیرہ بھی خریدتارہتاہوں اور پھر بڑی عید پر بیچتاہوں ،تواب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان میں زکوۃ ہوگی یا نہیں؟ جبکہ ایک شخص نے بتایا کہ تیس بیلوں سے کم میں زکوۃ نہیں ہے،قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکرمشکور رہیں۔
جواب :

واضح رہےکہ  جو جانور تجارت کےلئےخریدے جائیں ان میں تجارت کی زکوۃ واجب ہوتی ہے،نہ کہ  سوائم(مویشی) کی زکوۃ واجب ہوتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں آپ کا بڑی عید میں بیچنے کےلئےخریدے ہوئے جانوروں کی قیمت اگر نصاب(ساڑھےباون تولہ چاندی)کو پہنچ رہی ہےاور اس پر سال بھی گزر جائے،تو ان میں چالیسواں حصہ بطور زکوۃ کے فرض ہے،تجارت کےلئےخریدے ہوئے جانوروں میں عددکااعتبارنہیں،بلکہ قیمت کا اعتبار ہوتا ہے۔اور اگر آپ پہلے سے صاحب نصاب ہے تو ان مویشیوں کی قیمت بھی  پہلے نصاب کے ساتھ ملا کر زکوۃ ادا کی جائے گی۔
في البحر الرائق:
أنه إن أسامها للحمل أو للركوب فلا زكاة أصلا أو للتجارة ففيها زكاة التجارة دون السائمة .......لأن زكاة السوائم وزكاة التجارة مختلفان قدرا وسببا فلا يبني حول أحدهما على الآخر.
(باب صدقة السوائم،ج:2،ص:229،ط: دار المعرفة)
وفي مختصرالقدوري:
الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قميتها نصابا......وتضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة.
(باب زكاة العروض،ج:1،ص:57،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026