نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہےکہ جو جانور تجارت کےلئےخریدے جائیں ان میں تجارت کی زکوۃ واجب ہوتی ہے،نہ کہ سوائم(مویشی) کی زکوۃ واجب ہوتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں آپ کا بڑی عید میں بیچنے کےلئےخریدے ہوئے جانوروں کی قیمت اگر نصاب(ساڑھےباون تولہ چاندی)کو پہنچ رہی ہےاور اس پر سال بھی گزر جائے،تو ان میں چالیسواں حصہ بطور زکوۃ کے فرض ہے،تجارت کےلئےخریدے ہوئے جانوروں میں عددکااعتبارنہیں،بلکہ قیمت کا اعتبار ہوتا ہے۔اور اگر آپ پہلے سے صاحب نصاب ہے تو ان مویشیوں کی قیمت بھی پہلے نصاب کے ساتھ ملا کر زکوۃ ادا کی جائے گی۔
في البحر الرائق:
أنه إن أسامها للحمل أو للركوب فلا زكاة أصلا أو للتجارة ففيها زكاة التجارة دون السائمة .......لأن زكاة السوائم وزكاة التجارة مختلفان قدرا وسببا فلا يبني حول أحدهما على الآخر.
(باب صدقة السوائم،ج:2،ص:229،ط: دار المعرفة)
وفي مختصرالقدوري:
الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قميتها نصابا......وتضم قيمة العروض إلى الذهب والفضة.
(باب زكاة العروض،ج:1،ص:57،ط: دار الكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔