سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-839 Fatwa no: 1448-839

کئے ہوئے کام پر طلاق معلق کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مئلہ کے بارے میں کہ: میاں بیوی کا اختلاف ہواگھر کی ایک چیز بیچنے پر۔بیوی مصر تھی کہ میں یہ بیچوں گی اور خاوند نے کہا کہ نہیں تم نے نہیں بیچنا،آخر خاوند طیش میں آکر کہنے لگا کہ اگر تم نے یہ چیز بیچ دی تو"تم مجھ پر دو مرتبہ طلاق ہو"۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ بیوی وہ چیز خاوند کی عدم موجودگی میں پہلےہی سے بیچ چکی تھی ۔تو اس صورت میں طلاق کے واقع ہونے کا کیا حکم ہے؟
جواب :

واضح رہے  کہ تعلیق طلاق کی صحت کے لئےشرط ہے کہ جس فعل(کام) پر طلاق کو معلق کیاجارہاہو،وہ  فعل تعلیق کے وقت   موجود نہ ہو ۔اگر اس  فعل  کا وجودتعلیق کے وقت ثابت ہو تو وہ  طلاق فی الحال واقع ہوجائے گی،تعلیق درست نہ ہوگی۔لہذا  صورت مسئولہ میں  خاوند نے دو طلاق جس  چیز کے  بیچنے پر معلق کی تھی ،بیوی وہ چیز پہلے سے  بیچ چکی تھی ،اس لئے  دو صریح  طلاقیں  فی الحا ل واقع ہوئیں ہیں ،جس کا حکم یہ ہے کہ خاوند کو عدت میں رجوع کااختیار ہے،اگررجوع کرلیا تو نکاح بدستور قائم رہےگا ۔اور اگر عدت گزر چکی ،تو تجدید نکاح کئے بغیر دونوں کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں،تاہم   رجوع یا تجدید نکاح کی صورت میں شوہر صرف  ایک طلاق کا مالک رہے گا،یعنی مزید ایک طلاق دینے سے بیوی طلاق مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائےگی۔
المبسوط للسرخسي:
(قال) ولو قال أنت طالق ثلاثا إن شئت فقالت قد شئت إن كان كذا لشيء ماض كانت طالقا؛ لأن التعليق بشرط موجود يكون تنجيزا.
/6،ط:دارالمعرفة،بيروت)
بدائع الصنائع:
فمنها أن يكون أمرا في المستقبل فلا يكون التعليق بأمر كائن يمينا بل يكون تنجيزا.
(فصل في شرائط ركن اليمين،26/3،ط:دارالكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026