نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ تعلیق طلاق کی صحت کے لئےشرط ہے کہ جس فعل(کام) پر طلاق کو معلق کیاجارہاہو،وہ فعل تعلیق کے وقت موجود نہ ہو ۔اگر اس فعل کا وجودتعلیق کے وقت ثابت ہو تو وہ طلاق فی الحال واقع ہوجائے گی،تعلیق درست نہ ہوگی۔لہذا صورت مسئولہ میں خاوند نے دو طلاق جس چیز کے بیچنے پر معلق کی تھی ،بیوی وہ چیز پہلے سے بیچ چکی تھی ،اس لئے دو صریح طلاقیں فی الحا ل واقع ہوئیں ہیں ،جس کا حکم یہ ہے کہ خاوند کو عدت میں رجوع کااختیار ہے،اگررجوع کرلیا تو نکاح بدستور قائم رہےگا ۔اور اگر عدت گزر چکی ،تو تجدید نکاح کئے بغیر دونوں کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں،تاہم رجوع یا تجدید نکاح کی صورت میں شوہر صرف ایک طلاق کا مالک رہے گا،یعنی مزید ایک طلاق دینے سے بیوی طلاق مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائےگی۔
المبسوط للسرخسي:
(قال) ولو قال أنت طالق ثلاثا إن شئت فقالت قد شئت إن كان كذا لشيء ماض كانت طالقا؛ لأن التعليق بشرط موجود يكون تنجيزا.
/6،ط:دارالمعرفة،بيروت)
بدائع الصنائع:
فمنها أن يكون أمرا في المستقبل فلا يكون التعليق بأمر كائن يمينا بل يكون تنجيزا.
(فصل في شرائط ركن اليمين،26/3،ط:دارالكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔