سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-840 Fatwa no: 1448-840

شوہرکااپنی منکوحہ کومذکورہ شرائط کی خلاف ورزی کرنےپرتفویض طلاق کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ: شوہرمسمی سیدہارون شاہ نےاپنی منکوحہ مسماۃسیدہ اسراءکومذکورہ شرائط میں ناکام رہنےیاجان بوجھ کرمنحرف ہوجانےکی صورت میں طلاق/علیحدگی کاحق منتقل کیاہےکہ وہ جیسےچاہئےاس اختیارکوعمل میں لائے۔ 1۔میں اپنے بیوی بچوں کوہرحال میں خوش رکھنےکی کوشش کروں گااوران کی ضروریات زندگی بھی پوری کروں گا۔ 2۔میں اپنےبیوی بچوں کوماہانہ مبلغ 25ہزارروپے(بطورجیب خرچ)دینےکاپابندرہوگااورہرسال اس پر10فیصداضافہ بھی کروں گا۔ 3۔میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی قسم کی بد تمیزی،بد زبانی،گالم گلوچ،لڑائی جھگڑا،ذہنی اور جسمانی تشدد اور کسی قسم کا کوئی بھی خلاف قانون یاخلاف اخلاق حرکت سے بازوممنوع رہوں گا۔ 4۔میں اپنی بیوی کواپنےگھریلوں افرادیارشتہ داران سےمعافی مانگنےیامنت سماجت کانہ کہوں گا۔ 5۔میں اپنی بیوی کوزبردستی نوکری پرمجبورنہ کروں گا۔ 6۔میں اپنی بیوی کوکسی بھی کام کرنےیانہ کرنےکی بابت دھونس دھاندلی کارویہ نہ اپناؤں گا۔ 7۔میری بیوی ،بچوں سمیت اپنےوالدین ودیگرعزیزواقارب سےجب چاہئےملاقات کرے۔ 8۔میں اپنی منکوحہ کےبہن بھائیوں،والدین یادیگرعزیزواقارب پرکسی قسم کی طعنہ زنی،تہمت زنی یابدکلامی نہ کروں گا۔ 9۔میں اپنی منکوحہ کےکسی بھی رشتہ دارسےکسی قسم کاکوئی رابطہ نہ کروں گا۔ 10۔میں ہرقسم کےنشہ سگریٹ،نسوار،تمباکوں وغیرہ سےاجتناب کروں گا۔ 11۔میرےوالدمحترم جناب ذاکرحسین شاہ صاحب میری مذکورہ بالاجملہ یقین دہانیوں کےلئےمجھ سمیت ہروقت ذمہ داروجوابدہ ہوں گے۔ اب سیدہارون شاہ کی منکوحہ سیدہ اسرءکابیان یہ ہےکہ میرےشوہرسیدہارون شاہ نےان مذکورہ شرائط کی پاسداری نہیں کی،لہذامیں بحیثیت بیوی ،شرعی طورپرمجھےدیےگئےحق طلاق تفویض کواستعمال کرتےہوئے،اپنےشوہرسیدہارون شاہ کی طرف سےاپنےآپ کوطلاق ثلاثہ دیتی ہوں۔ اور شوہر سیدہارون شاہ کے بیان کےمطابق دو شرطوں میں وہ نا کام رہا ہے،1۔میں اپنی بیوی کو ماہانہ مبلغ 25ہزار روپے پابندی سے نہیں دے سکا،2۔اور میں نشہ سگریٹ،نسوار وغیرہ سے کوشش کے باوجود بھی اجتناب نہ کرسکا۔
جواب :

واضح رہےکہ جب تفویض  طلاق  منکوحہ کوکسی  شرط  پرمعلق   کر کے دی  جائے تو شرط کےپائےجانےسےمنکوحہ کواپنےآپ  پر طلاق  واقع کرنےکاحق حاصل  ہوجاتاہے،بصورت مسئولہ چونکہ شوہرنےمقررکردہ شرائط کی  خلاف ورزی کےساتھ اپنی بیوی کوتفویض طلاق کی ہے،اورپھران میں سےدوشرطوں(1۔اپنی بیوی کوماہانہ 25ہزارروپےبطورخرچ دینے،2۔ہرقسم کے نشہ سگریٹ،نسوارسےاجتناب کرنے)کی خلاف ورزی بھی  کی،جس کی بناء پراس کی منکوحہ نےحق طلاق تفویض کواستعمال کرتےہوئےاپنےآپ کو شوہرکی طرف سےطلاق ثلاثہ دی ہے،تواس سے مذکورہ عورت پرتین طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں، اوربیوی شوہرپرحرام ہوگئی ہے، اس کےبعد میاں بیوی کےجمع ہونےکی کوئی صورت نہیں،سوا ئےاس کےکہ مطلقہ عورت  اپنی مرضی سےکہیں اورنکاح کرلے،پھرازدواجی تعلقات قائم کرنے کے بعد اس کا خاوند مرجائے یا اس کو طلاق دیدے،پھر یہ عورت عدت گزارنے کے بعد اگر چاہئے تو پہلے خاوند کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے،بصورت دیگر نہیں۔
وفي الفتاوى الهندية:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
(الباب في تعليق الطلاق،ج:1،ص:420 ،ط:دارالفكر)
في الدرالمختار:
(قال لها اختاري أو أمرك بيدك ينوي) تفويض (الطلاق) لأنها كناية فلا يعملان بلا نية (أو طلقي نفسك فلها أن تطلق في مجلس علمها به) مشافهة أو إخبارا (وإن طال) يوما أو أكثر ما لم يوقته ويمضي الوقت قبل علمها (ما لم تقم) لتبدل مجلسها حقيقة (أو) حكما بأن (تعمل ما يقطعه) مما يدل على الإعراض لأنه تمليك فيتوقف على قبول في المجلس لا توكيل، فلم يصح رجوعه(لا) تطلق (بعده) أي المجلس (إلا إذا زاد) في قوله طلقي نفسك وأخواته (متى شئت أو متى ما شئت أو إذا شئت أو إذا ما شئت) فلا يتقيد بالمجلس (ولم يصح رجوعه)....................
 لما مر.
(باب تفويض الطلاق،ج:3،ص:314،ط:دارالفكر،بيروت)
وفي ردالمحتار:
(قوله أو طلقي نفسك) هذا تفويض بالصريح ولا يحتاج إلى نية والواقع به رجعي؛ وتصح فيه نية الثلاث كما سيذكره المصنف أول فصل المشيئة (قوله في مجلس علمها) أفاد أنه لا اعتبار بمجلسه، فلو خيرها ثم قام هو لم يبطل، بخلاف قيامها بحر عن البدائع .
(باب تفويض الطلاق،ج:3،ص:314،ط:دارالفكر،بيروت)
وفيبدائع الصنائع:
لأن هذا تمليك الطلاق فيتقيد بالمجلس بخلاف ما إذا قال لها أنت طالق إن دخل فلان الدار أنه يقع الطلاق إذا وجد الشرط في أي وقت وجد ولا يتقيد بالمجلس؛ لأن ذلك تعليق الطلاق بالشرط، والتعليق لا يتقيد بالمجلس؛ لأن معناه إيقاع الطلاق في زمان ما بعد الشرط فيقف الوقوع على وقت وجود الشرط ففي أي وقت وجد يقع الله عز وجل أعلم.
(فصل في قوله أنت طالق إن شئت،ج:3،ص:122،ط:دارالكتب العلمية)
وفي مختصر القدوري:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو اثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.
(باب الرجعة،ج:1،ص:154،ط: دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026