سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-842 Fatwa no: 1448-842

ٹرین یا گاڑی کانماز کےلئے نہ رکنے کی صورت میں قضانماز کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں : ایک آدمی باہر ملک رہتا ہے،سردیوں میں جب دن چھوٹے ہوجاتے ہیں ،تو جب وہ صبح کام پر جاتاہے،تو نماز فجر کا ٹائم داخل نہیں ہوتاوہ گاڑی میں بیٹھ کر دو گھنٹے سفر کے بعد جب کام پر پہنچ جاتا ہے تو نماز کا وقت نکل کر قضاء ہوجاتی ہے۔اور اسی طرح شام کو جب گھر کے لئے نکلتا ہے،تو مغرب کی نماز نکل جاتی ہے راستے میں ۔ گاڑی یا ٹرین ایسی ہے کہ نماز اس میں نہیں ہوسکتی، تو یہ آدمی کیا کریں؟
جواب :

واضح رہے کہ نماز دین اسلام کا اہم رکن ہے۔اور نماز ایمان والوں پر وقت متعین میں فرض کی گئی ہے ،اس لئے بغیر عذر کے نماز وقت پر نہ پڑھنا گناہ کبیرہ ہے ۔ہر مسلمان کےلئےضرورری ہے کہ نماز کو وقت مقررہ پر ادا کرنے کی  مکمل  کوشش کرے۔صورت مسئولہ میں   شخص مذکور کو چاہئے کہ نماز کے وقت کا انتظار کرے اور نماز پڑھ کر سفر شروع کرے۔یا سفر ایسے وقت شروع کرے کہ منزل تک پہنچنے کے بعد اتنا وقت باقی ہو جس میں نماز ادا کی جاسکتی ہو۔اگر یہ صورت بھی ممکن نہ ہو تو ٹکٹ اس سٹاپ(جگہ ) تک لے،جہاں وقت کے اندر نماز ادا کی جاسکتی ہو،پھر وہاں سے دوبارہ سفر کا آغاز کرے۔اور اگر کسی دن  بوجہ سفر ان مذکورہ صورتوں پر عمل ممکن نہ ہو،تو اس صورت میں جہاں تک ممکن ہو گاڑی میں بیٹھ کر اشاروں سے نماز ادا کرلے،تاکہ نماز ی حضرات سے مشابہت برقرار رہے۔تاہم بعد میں پھر اس نماز  کا اعادہ کرنا ضروری ہے۔
قال تعالى في القرآن المجيد:
إن الصلوة كانت على المؤمنين كتابا موقوتا.
(النساء،الجزء:5،الآية:103)
تفسير الصنعاني:
قال ابن مسعود إن للصلاة وقتا كوقت الحج.
(النساء،172/1،ط: مكتبة الرشد – الرياض)
الهداية:
إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد لقوله عليه الصلاة والسلام لعمران بن حصين رضي الله عنه صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى الجنب تومئ إيماء ولأن الطاعة بحسب الطاقة.
 (باب المريض،77/1،ط: المكتبة الإسلامية)
المبسوط للسرخسي:
أن العاقل المسلم لا يجوز أن يمضي عليه وقت الصلاة وهو لا يتشبه بالمصلين فيه بحسب الإمكان والتكليف إنما يتثبت بحسب وسعه.
(باب التيمم،123/1،ط: دار المعرفة)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026