نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہےکہ حیض(ماہواری)کےدوران بیوی سے صحبت(ہمبستری) کرناحرام اور گناہ کبیرہ ہے۔لہذاصورت مسئولہ میں دوران صحبت حیض کاعلم ہونےپرشوہر اوربیوی فوراجداہوگئےہوں،یا دونوں کو دوران صحبت حیض کاعلم ہی نہ ہواہو،تب اس صورت میں گناہ نہ ہوگا،البتہ اگریقینی طور پرمعلوم ہوجائے کہ دخول حالت حیض میں ہواہے،تب تودونوں پرسچےدل سے توبہ واستغفار ضروری ہے،نیزاس کےساتھ حسب استطاعت کچھ صدقہ بھی دیناچاہئے۔
القران المجيد:
ولا تقربوهن حتى يطهرن.
(البقرة،الجزء:2،الآية:222)
السنن الصغرى للنسائي:
عن أنس قال:كانت اليهود إذا حاضت المرأة منهم لم يؤاكلوهن ولم يشاربوهن ولم يجامعوهن.....فأمرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يؤاكلوهن ويشاربوهن ويجامعوهن في البيوت،وأن يصنعوا بهن كل شيء ما خلا الجماع ".
(باب الحيض،153/1،ط:مكتب المطبوعات الإسلامية)
البحرالرائق:
ووطؤها في الفرج عالما بالحرمة عامدا مختارا كبيرة لا جاهلا ولا ناسيا ولا مكرها فليس عليه إلا التوبة والاستغفار.وهل يجب التعزير أم لا؟ويستحب أن يتصدق بدينار أو نصفه،وقيل بدينار إن كان أول الحيض،ونصفه إن وطئ في آخره.
(مایمنعه الحيض،342/1،ط:دارالكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 28 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔