سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-844 Fatwa no: 1448-844

خصی بکرے کی قربانی کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ: ایک بکرےکاپیدائشی طورپرصرف ایک ہی خصیہ(فوطہ)ہے،اوراس کے پیشاب کا آلہ بھی خصیہ سےپیچھےکی جانب ہے،جبکہ بکرےکی پیشاب کا آلہ خصیہ سےآگےہوتی ہے۔توکیاایسےبکرےکی قربانی شرعاجائزہے؟
جواب :

واضح رہے کہ ہر وہ عیب جوجانور کی خوبصورتی اور اس کی منفعت(قیمت)کومکمل طورپرختم کردے،وہ قربانی سےمانع ہوتاہے،اگرعیب جانور کی خوبصورتی اور اس کی منفعت(قیمت)کوختم نہ کرے،تواس عیب کےہوتے ہوےبھی قربانی جائز ہوتی ہے،اورجس جانور کو خود خصی کیاگیاہو،اس کی قربانی  صرف جائزنہیں،بلکہ افضل ہے،توجوجانور پیدائشی طورپر خصی ہو،یاایک خصیہ(فوطہ)ہوتو اس کی قربانی بطریق اولی جائز ہوگی۔لہذا صورت مسئولہ میں بکرے کاپیدائشی طور پر صرف ایک خصیہ(فوطہ)ہونا،یا اس کےپیشاب کا آلہ خصیہ سےپیچھےہوناکوئی ایساعیب نہیں جو اس کی خوبصورتی یا اس کی منفعت(قیمت)کو کم کرتاہو،اس لئے ایسے بکرے کی قربانی شرعا جائز ہے۔
المحيط البرهاني:
كل عيب يزيل المنفعة على الكمال، أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع.
(الفصل فيمايجوزفي الضحايا،93/6،ط: دار الكتب العلمية،)
الفتاوى الهندية:
ويجوز المجبوب العاجز عن الجماع.
(باب محل إقامة الواجب،297/5،ط:دارالفکر)
بدائع الصنائع:
وأفضل الشاء أن يكون كبشا أملح أقرن موجوءا؛ لما روى جابر - رضي الله عنه - «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ضحى بكبشين أملحين أقرنين موجوءين عظيمين سمينين» والأقرن: العظيم القرن، والأملح: الأبيض.....والموجوء: قيل هو مدقوق الخصيتين، وقيل: هو الخصي، كذا روي عن أبي حنيفة - رحمه الله - فإنه روي عنه أنه سئل عن التضحية بالخصي فقال: ما زاد في لحمه أنفع مما ذهب من خصيتيه.
(فصل فيمايستحبه قبل التضحية،80/5،ط:دارالكتب العلمية)

فتاوٰی محمودیہ میں ہے:
سوال :ایک فوطہ (خصیہ)والے جانور کی قربانی درست ہے یانہیں  ؟
جواب :اس کی قربانی درست ہے۔۔
(کتاب الاضحية،353/17)
فتاوی بنوریہ عالمیہ میں ہے:
سوال: یہ ہے کہ ایک جانور ہے،جس کے پیشاب کا آلہ اپنی جگہ سے دوسری جگہ نکلا ہے، تو اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟
جواب:سوال میں مذکور صفت کے جانور کی قربانی کرنا شرعاً درست ہے۔
(فتوی نمبر:46485)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 28 Oct 2026