سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-845 Fatwa no: 1448-845

خوشی کے موقع پرہار پہنانے اورنوٹوں کےہارکواس میں لگی رقم سےزائدرقم میں فروخت کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: اکثر خوشی کےموقعہ پر لوگ حاجی صاحب،حافظ صاحب ،دولہا کو ہار پہناتے ہیں،یا پھول نچھاور کرتے ہیں،کیا شرعا اس میں کوئی قباحت تو نہیں؟دوسری بات نوٹوں کے ہار کےبارے میں تھی کہ ایک ہزار پیسوں کاہاربازار میں چودہ سےیاپندرہ سو میں فروخت ہوتا ہے،توکیایہ سود کےزمرے میں تو نہیں آتا؟
جواب :

واضح رہے کہ اسلام ایک  مکمل ضابطہ حیات ہے،زندگی  میں کوئی ایسا گوشہ یا موقعہ نہیں  ،جسے شریعت کی روشنی میں گزارنے کی تعلیم   یا تلقین موجود نہ ہو،خوشی کے مواقع آپ ﷺ کی زندگی میں، صحابہ ،تابعین اورتبع تابعین   کی طویل تاریخ میں بارہا بار گزرے ہیں،لیکن ان سے خوشی کے مواقع پر   ہارپہنانا یا  پھول نچھاورکرنا  ثابت نہیں ۔نیز بعض لوگ اسے ضروری  سمجھتے ہیں اور نہ کرنے والوں کو لعن طعن اور ناراضگی کا اظہار بھی کرتے ہیں،اور خاص کر تصویر کشی کےدورمیں  یہ تصویر کی تشہیرکا بھی سبب ہے، جوبلا ضرورت کےدرست نہیں ۔
لہذا صورت مسئولہ میں خوشی کے مواقع پر ہار پہنانا،یا پھول نچھاور کرنا رسم ورواج کے ساتھ،بعض مرتبہ اس میں  بہت زیادہ اسراف مال بھی پایا جاتاہے ،جو اس کی قباحت میں مزید اضافہ کرتا ہے،اس لئے اس  سے احتراز بہتر ہےتاہم اگر کوئی خوشی یاکسی پروگرام کے موقع پر اظہار مسرت کےلئےایک   آدھ مرتبہ ہارپہنائےتواس کی گنجائش ہے،البتہ اگراس کے بجائے نقدی،خوشبوں  یا کتاب وغیرہ کی صورت میں تحفہ دیا جائے،تو  یہ حدیث مبارک  "تہادوا تحابوا"(آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کروں اس سے آپس میں محبت بڑھتی ہے)پر عمل پیراں ہونے کے ساتھ ساتھ قابل انتفاع اور مفید ثابت ہوگا،بشرطیکہ اس کو بھی لازمی اور ضروری نہ سمجھاجاتاہو ورنہ بصورت دیگر حکم عدم جواز کا ہوگا۔
باقی ایک ہزار نوٹوں کےہارکی  فروخت چودہ سویاپندرہ سومیں تویہ سود کےزمرےمیں نہیں آتا، بشرطیکہ ہار میں جتنے نوٹ ہے اس کے بقدر کیش پر اسی وقت قبضہ بھی کیاجائے ،کیونکہ سود تب متحقق ہوتاہےکہ جب مال کے مبادلےکےوقت عاقدین میں سےکسی ایک کےلئےایسےزائدمال کی شرط لگائی جائےجوعوض سےخالی ہو،یا تبادلہ کے وقت عوض پر مجلس عقد میں قبضہ نہ ہو،جیساکہ ابراہیم بن محمدالحلبی الحنفی(المتوفی 956ھ) اپنی معتبر تصنیف "مجمع الانھر"میں تحریرکرتے ہیں" هُوَ فضل مَال خَال عَن عوض شَرط لأحد الْعَاقِدين فِي مُعَاوضَة مَال بِمَال"،جب کہ نوٹوں کےہار میں ہزار روپےتوہزار نقدی کےبدلےمیں ہےاورچارسویاپانچ سواضافے پیسے وہ  پھول اور نقش نگار کےعوض ہے جونوٹوں کےہار میں کی جاتی ہے،جیسا 


کہ فقہاء کی عبارات میں ہمیں اس کی نظیر ملتی ہےکہ اگرکسی شخص نے سونےیاچاندی سے مزین تلوارکواس میں لگی سونےیاچاندی  کی مقدارسےزائد خالص سونےیاچاندی کےبدلےمیں بیچاتویہ معاملہ درست ہوگا،اس لئے کہ تلوار میں نصب سونایاچاندی کی مقداربرابرسونایاچاندی تو اس کےبدلےہوجائےگااورزائدسونا،چاندی دستہ،نیام اورپرتلہ (جس میں تلوارلٹکائی جاتی ہے)کےمقابلے میں ہوجائےگا۔لہذا ایک ہزارنوٹوں کےہار کی خریدوفروخت عاقدین کی رضامندی سے چودہ سویاپندرہ سو میں درست  ہے ،یہ سود کےزمرے میں نہیں آتا۔
موطأ الإمام مالك:
عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخُرَاسَانِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلى الله عَلَيه وَسَلم: تَصَافَحُوا يَذْهَبِ الْغِلُّ، وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ.
(باب ماجاءفي الهجر،79/2،ط:مؤسسة الرسالة)
درر الحكام:
الْهِبَةِ الَّتِي هِيَ تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ فَقَالَ (هِيَ) لُغَةً تَبَرُّعٌ وَتَفَضُّلٌ بِمَا يَنْتَفِعُ الْمَوْهُوبُ لَهُ مُطْلَقًا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا}.
(باب في افشاءالسلام،490/7،ط:دارإحياء الكتب العربية)

مجمع الأنهر:
هُوَ فضل مَال خَال عَن عوض شَرط لأحد الْعَاقِدين فِي مُعَاوضَة مَال بِمَال وعلته الْقدروَالْجِنْس فَحرم بيع الكيلي والوزني بِجِنْسِهِ مُتَفَاضلا أَو نَسِيئَة، وَلَو غير مطعوم كالجص وَالْحَدِيد، وَحل متماثلاً بعد التَّقَابُض.
(باب الربا،119/1،ط:دارالكتب العلمية)
بدائع الصنائع:
وعلى هذا يخرج بيع الموزون بجنسه وغير جنسه، كما إذا اشترى فضة مع غيرها بفضة مفردة، بأن اشترى سيفا محلى بفضة مفردة، أو منطقة مفضضة، أو لجاما أو سرجا أو سكينا مفضضا، أو جارية في عنقها طوق من فضة، أو اشترى ذهبا وغيره بذهب مفرد، كما إذا اشترى ثوبا منسوجا بالذهب بذهب مفرد، أو جارية مع حليتها - وحليها ذهب - بذهب مفرد، ونحو ذلك - أنه لا يجوز مجازفة عندنا، بل يراعى فيه طريق الاعتبار، وهو أن يكون وزن الفضة المفردة، أو الذهب المفرد أكثر من المجموع مع غيره؛ ليكون قدر وزن المفرد بمثله من المجموع، والزيادة بخلاف جنسه، فلا يتحقق الربا.
(فصل في شرائط جريان الربا،195/5،ط:دارالكتب العلمية)

 


تحفة الفقهاء:
وَلَو بَاعَ سَيْفا محلى بِذَهَب أَو فضَّة إِن بَاعَ بِجِنْس الْحِلْية وَالثمن أَكثر من الْحِلْية جَازَ وَتَكون الْحِلْية بيعا بِمثل وَزنهَا وَالْفضل بِإِزَاءِ الجفن والحمائل لِأَن الأَصْل عندنَا فِي تَقْسِيم الثّمن على الْمَبِيع إِذا كَانَ أَشْيَاء بَعْضهَا من جنس الثّمن وَالْبَعْض لَا صرف الثّمن إِلَى جنسه بِمثل وَجه فِيهِ تَصْحِيح العقد مَا أمكن.
(باب آخر منه،32/3،ط:دارالكتب العلمية،بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 28 Oct 2026