سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-847 Fatwa no: 1448-847

ذی رحم محرم رشتہ دار کوہدیہ کے طور پر دی ہوئی چیز میں رجوع کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: میں نےگھر کی آخری قسط کی ادائیگی کے وقت اپنے بھانجے سے کال کے ذریعےایک لاکھ روپے بطور قرض مانگے،چونکہ وہ کراچی میں رہتا ہے اور میری رہائش راولپنڈی میں ہے،اس نے مجھے کہا کہ میں ایک لاکھ روپے قرض تو نہیں دیتا لیکن پچاس ہزار روپے آپ کو بھیجتا ہوں،چاہے تو آپ اسے ہدیہ سمجھوں،یاگھر کی مبارکبادی سمجھوں،اس کے بات کے ڈھائی تین مہینے بعد میرے بھانجے کی وفات ہوگئی،ابھی ایک سال کےبعد جب ان کے والدین کو معلوم ہوا،حالانکہ وہ بیٹا ان سے الگ تھا ،اس کانفع نقصان بھی الگ تھا،وہ خود کراچی میں جب کہ ان کےوالدین پشاور میں رہائش پذیر ہیں،وہ میرے گھر آئیں ،اور میرے سے ایک لاکھ روپے کامطالبہ کرنے لگے،میں نے ان سے کہا کہ انہوں نے مجھے قرض نہیں بلکہ ہدیہ کئے ہیں،اس پر وہ مجھ سے جھگڑنے لگےاور کہاکہ اگر ہدیہ بھی دیاہو، تو ہم ہدیہ بھی تم سے واپس لیتےہیں۔تو اب پوچھنا یہ ہے کہ بیٹےکاہدیہ ان کے والدین واپس لےسکتے ہیں،جبکہ بیٹے کانفع نقصان سب کچھ الگ ہے۔شریعت مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔شکریہ
جواب :

واضح رہے کہ ذی رحم محرم رشتہ دار( وہ قریبی نسبی رشتہ دار،جن سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو)کوہدیہ کے طور پر دی ہوئی چیز کاواپس لینا۔یا جو شخص ہدیہ کرے، اس کے والدین یا اس کےکسی  اور رشتہ دارکاہدیہ واپس لینےکامطالبہ کرنا شریعیت مطہرہ کی روسے جائز نہیں ہے،احادیث مبارکہ میں اس کی ممانعت آئی ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں  بشرط صحت سوال اگر واقعتا آپ کے بھانجے نے آپ کو پچاس ہزار روپے ہدیہ  کےطور پر دیئےہوں،تو ان کے مرنے کے بعد ان کےوالدین کا اس رقم کی واپسی کامطالبہ کرناشرعا درست نہیں۔ 
المستدرك على الصحيحين:
عن قتادة عن الحسن عن سمرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كانت الهبة لذي رحم محرم لم يرجع فيها» هذا حديث صحيح على شرط البخاري ولم يخرجاه "
(وأما حديث معمر بن راشد،60/2،ط:دارالكتب العلمية)
 الهداية:
وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها لقوله عليه الصلاة والسلام إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل.
(كتاب الهبة،228/3،ط:المكتبة الإسلامية)


مختصر القدوري:
وإذا وهب هبة لأجنبي فله الرجوع فيها إلا أن يعوضه عنها أو تزيد زيادة متصلة أو يموت أحد المتعاقدين أو تخرج الهبة من ملك الموهوب له وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها
(كتاب الهبة،124/1،ط:دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 28 Oct 2026