سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-849 Fatwa no: 1448-849

زکوۃ کی رقم مسجدکی تعمیر میں لگانے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہمارےمحلے میں مسجد کی تعمیر ہورہی ہے،جس میں بحمداللہ تعاون کرتے رہتے ہیں،لیکن قابل دریافت بات یہ تھی کہ اس سال کی زکوۃ کی رقم مسجد کی تعمیر میں دےسکتے ہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کی صحت کے لئے شرط ہے کہ کسی مسلمان فقیر غیرسید کوزکوۃ کی رقم کامالک بنایاجائے،اس لئے جن چیزوں میں مالک بننے کی صلاحیت نہ ہووہاں زکوۃ اداکرناجائزنہیں ہے۔لہذاصورت مسئولہ میں مسجد میں مالک بننےکی صلاحیت   نہیں ہے،اس لئے مسجد کی تعمیر میں براہ راست زکوۃ کی رقم دینادرست نہیں ،البتہ اگر کسی مستحق زکوۃکو زکوۃ کی رقم دےدی جائےاور وہ  اپنی خوشی سے وہ رقم مسجد کےلئے دیدے تویہ درست ہوگا۔
الفتاوى الهندية:
فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي،ولامولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى هذا في الشرع..........ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين.
(الباب السابع في المصارف،89/1،ط:دارالفکر)
تبیین الحقائق:
قال-رحمه الله-(وبناء مسجد) أي لا يجوز أن يبنى بالزكاة المسجد لأن التمليك شرط فيها ولم يوجد وكذا لا يبنى بها القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه
(باب المصرف،300/1،ط:المطبعة الكبرى الأميرية،القاهرة)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 28 Oct 2026