نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کی صحت کے لئے شرط ہے کہ کسی مسلمان فقیر غیرسید کوزکوۃ کی رقم کامالک بنایاجائے،اس لئے جن چیزوں میں مالک بننے کی صلاحیت نہ ہووہاں زکوۃ اداکرناجائزنہیں ہے۔لہذاصورت مسئولہ میں مسجد میں مالک بننےکی صلاحیت نہیں ہے،اس لئے مسجد کی تعمیر میں براہ راست زکوۃ کی رقم دینادرست نہیں ،البتہ اگر کسی مستحق زکوۃکو زکوۃ کی رقم دےدی جائےاور وہ اپنی خوشی سے وہ رقم مسجد کےلئے دیدے تویہ درست ہوگا۔
الفتاوى الهندية:
فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي،ولامولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى هذا في الشرع..........ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين.
(الباب السابع في المصارف،89/1،ط:دارالفکر)
تبیین الحقائق:
قال-رحمه الله-(وبناء مسجد) أي لا يجوز أن يبنى بالزكاة المسجد لأن التمليك شرط فيها ولم يوجد وكذا لا يبنى بها القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه
(باب المصرف،300/1،ط:المطبعة الكبرى الأميرية،القاهرة)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 28 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔