سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-850 Fatwa no: 1448-850

گندم سے جب ایک مرتبہ عشر ادا کرلی جائے تو دوبارہ اس میں عشر ادا کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہماری آبائی زمین ہے،جس میں ہم گندم کاشت کرتے ہیں ،کٹائی کے بعد ہم عشر بھی نکالتے ہیں،اس کے بعد دو تین سال تک وہ گندم ہم استعمال کرتے رہتے ہیں۔اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ہر سال اس میں عشر نکالنا واجب ہوگا؟
جواب :

واضح رہے کہ عشر کے وجوب میں نہ نصاب شرط ہےاور نہ ہی مدت(سال وغیرہ)،بلکہ عشری زمین سے جو پیداوار حاصل ہو اس کا دسواں حصہ  فقراء ومساکین پر صرف کرنا واجب ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں جب آپ نے عشری زمین کی پیداوار میں عشر ادا کرلیا،تو باقی کا استعمال کرنا آپ کے لئے حلال ہے،اس میں   ہر سال عشر  واجب نہیں ،کیونکہ فقہاء کرام نے تصریح کی ہے  کہ عشر"ما اخرجته الأرض"(زمین جو پیداوار نکالے)میں واجب ہے،نہ کہ"ما بقيت بعد أداء العشر"(  عشرادا كرنے  کے بعد جو پیداوار باقی ہو) پر واجب ہے۔
في الفتاوى الهندية:
فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشرا أو نصفا كذا في البحر الرائق،ولا يأكل شيئا من طعام العشر حتى يؤدي عشره كذا في الظهيرية. وإن أفرز العشر يحل له أكل الباقي.
(الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:187،ط:دارالفكر)
وفي المحيط البرهاني:
بل يوجب العشر في كل قليل وكثير أخرجته الأرض مما تستنمى به الأرض.
(الفصل الثاني في اعتبار النصاب،ج:2،ص:327،ط:دارالكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026