نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ عشر کے وجوب میں نہ نصاب شرط ہےاور نہ ہی مدت(سال وغیرہ)،بلکہ عشری زمین سے جو پیداوار حاصل ہو اس کا دسواں حصہ فقراء ومساکین پر صرف کرنا واجب ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں جب آپ نے عشری زمین کی پیداوار میں عشر ادا کرلیا،تو باقی کا استعمال کرنا آپ کے لئے حلال ہے،اس میں ہر سال عشر واجب نہیں ،کیونکہ فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ عشر"ما اخرجته الأرض"(زمین جو پیداوار نکالے)میں واجب ہے،نہ کہ"ما بقيت بعد أداء العشر"( عشرادا كرنے کے بعد جو پیداوار باقی ہو) پر واجب ہے۔
في الفتاوى الهندية:
فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشرا أو نصفا كذا في البحر الرائق،ولا يأكل شيئا من طعام العشر حتى يؤدي عشره كذا في الظهيرية. وإن أفرز العشر يحل له أكل الباقي.
(الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:187،ط:دارالفكر)
وفي المحيط البرهاني:
بل يوجب العشر في كل قليل وكثير أخرجته الأرض مما تستنمى به الأرض.
(الفصل الثاني في اعتبار النصاب،ج:2،ص:327،ط:دارالكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔