سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-851 Fatwa no: 1448-851

سال گزرنےسےپہلےزکوۃاداکرنےکاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ: ہمارےپاس اکثرمستحق لوگ آتےرہتےہیں ،ہم ان کےساتھ زکوۃکےمال سےتعاون کرتےہیں،حالانکہ ہمارےمال پرسال نہیں گزراہوتا،توآیایہ تعاون ہم زکوۃ کےمال سےکرسکتےہیں؟یاسال گزرنےکےبعدنئےسرےسےتمام مال کی زکوۃ اداکرنی ہوگی۔
جواب :

واضح رہے کہ زکوۃ کے واجب ہونے کے لئےسبب مال نامی ہے ،اگر کوئی شخص نصاب کا مالک ہے تو سال گزرنے سے پہلے بھی  اس کا زکوۃ  ادا  کرنا صحیح ہے،لہذا  بصورت مسئولہ آپ کا سال گزرنے سے پہلے زکوۃ کے  مال سے مستحقین کی امداد  کرنا درست ہے۔
في الفتاوى الهندية:
ويجوز تعجيل الزكاة بعد ملك النصاب، ولا يجوز قبله كذا في الخلاصة.
(كتاب الزكاة،ج:1،ص:176،ط:دارالفكر)
وفي الميحط البرهاني:
ويجوز تعجيل الزكاة قبل الحول إذا ملك نصاباً عندنا؛ لأنه أدى بعد وجود سبب الوجوب؛ لأن سبب الوجوب نصاب نام؛ فإن نظرنا إلى النصاب فالنصاب قد وجد؛ وإن نظرنا إلى النماء فقد وجد أيضاً؛ لأن العبرة لسبب النماء وهو الإسامة أو التجارة لا لنفس النماء، وقد وجد سبب النماء.
(الفصل السادس في تعجيل الزكاة،ج:2،ص:466،ط:دارإحياءالتراث العربي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026