نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ گھٹنا کھلنے، شلوار اوپر ہونے، یا کسی کا ستر دیکھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا،وضو صرف جسم سے کوئی ناپاک چیز نکلنے (جیسے پیشاب،پاخانہ،ہوا کاخارج ہونا)گہری نیند آنے، یا بے ہوش ہونے سے ٹوٹتا ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں جب ایک ٹانگ کی شلوار گھنٹے سے اوپر ہواور کسی غیر کی نظر اس پر پڑجائے،تو اس سے وضو نہیں تو ٹوٹا،لیکن ستر کھلنے کا گناہ ہوگا۔البتہ اگر مرد یا عورت کے اعضاء مستورہ میں سے کسی عضو کا ایک چوتھائی حصہ نماز کے کسی رکن میں تین مرتبہ (رکوع یا سجدہ والی) تسبیح پڑھنے کے بقدر کھل جائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
جہاں تک ایک صاحب کا امام مالکؒ کے حوالے سے بیان کا تعلق ہے، تو ہمارے مطالعے کے مطابق امام مالکؒ کے نزدیک ٹانگ یاران کے چھپانے کاحکم اپنی جگہ موجود ہے، لیکن اس کے کھل جانے یا کسی غیر کی نظر پڑ جانے سے وضو ٹوٹنے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
مختصر القدوري:
والمعاني الناقضة للوضوء:كل ما خرج من السبيلين والدم والقيح والصديد إذا خرج من البدن فتجاوز إلى موضع يلحقه حكم التطهير والقيء إذا كان ملء الفم والنوم مضطجعا أو متكئا أو مستندا إلى شيء لو أزيل عنه لسقط والغلبة على العقل بالإغماءوالجنون والقهقهة في كل صلاة ذات ركوع وسجود.
(كتاب الطهارة،11/1،ط: دار الكتب العلمية)
ردالمحتار:
إذا كان خارج الصلاة يجب الستر بحضرة الناس إجماعا وفي الخلوة على الصحيح.
(مطلب في ستر العورة،404/1،ط:دارالفکر)
الفتاوى الهندية:
وإن انكشفت عورته في الصلاة فسترها بلا مكث جازت صلاته إجماعا وإن أدى ركنا مع الانكشاف فسدت إجماعا.
(الفصل في سترالعورة،58/1،ط:دارالفکر)
ارشادالسالك في فقه الامام مالك:
ينقضه الخرج المعتاد من السبيلين على وجه العادة لا النادر والسلس (2) وسلس المذي لطول العزبة كالمعتاد، ومس الذكر بباطن الكف، والأصابع لا الدبر، وفي مس امرأة فرجها خلاف (3) ولمس النساء للذة ولو محرما أو من وراء حائل لا يمنعها اللذة ولو ظفرا أو سنا أو شعرا اللامس والملموس سواء، وبزوال العقل بجنون أو إغماء أو سكر أو نوم مستثقل ولو في الصلاة أو جالسا غير مستند، والمشهور أن الردة مبطل، والشك في الحدث بعد تيقن الطهارة موجب (4) ، والحدث يمنع فعل كل ما يشترط له الطهارة وحمل المصحف ولو بحائل أو علاقة، لا بين أمتعة قصد حملها.
(نواقض الوضوء،7/1،ط:شركة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔