سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-853 Fatwa no: 1448-853

سرکاری ٹھیکےسےبچاہواسامان استعمال کرنےکاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ: (1)سرکاری عمارتیں،سڑکیں،فٹ پاتھ وغیرہ کی تعمیرہوتی ہے،جہاں پرنیاسامان لایاجاتاہے،کام مکمل ہونےکےبعدکام کرنےوالےبچاہواسامان وہیں چھوڑکرچلےجاتےہیں ،ان کوکام کی رقم مل چکی ہوتی ہے،پھروہ وہاں توجہ نہیں کرتے،کہیں دوسری جگہ کام شروع کردیتےہیں،بچاہواسامان وہیں پڑاپڑاخراب ہونےلگتاہے،اس کاکوئی ذمہ دارنہیں ہوتا،ایسی صورت میں عام آدمی اس کواپنےتصرف میں لاسکتاہےیانہیں؟ (2)دوسری صورت کہیں کھدائی وغیرہ کی جاتی ہے،جس کی وجہ سےوہاں سےپرانی اشیاء بجری،اینٹ وغیرہ اکھیڑدی جاتی ہےاوران کاکوئی استعمال نہیں کیاجاتاہے،ادھرادھربکھرجاتی ہے،عام آدمی اس کواپنی استعمال میں لاسکتاہےیانہیں؟
جواب :

(1) بصورت مسئولہ    کام مکمل   ہونے کے بعد بچا ہوا سامان سرکار کی ملکیت ہے،اسے سرکار کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں،لیکن اگر بچا ہوا سامان سرکار اپنی ملکیت میں نہیں لینا چاہتی،اوراس کاپڑے پڑے خراب ہونے یابکھر جانے کا اندیشہ ہو،مثلا بجری،ریت،اینٹ  وغیرہ ،توتب اسے استعمال  کرنے میں  کوئی  حرج نہیں ہے۔
(2)کھدائی کرنےکےبعداگرپرانی اینٹ،بجری قابل انتفاع نہیں ہے،یاحکومت اسےعمومااستعمال میں نہیں لاتی،توتب عام آدمی اسےاپنےاستعمال میں لاسکتاہے۔
في السنن الكبرى:
عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ "
(باب من غضب،ج:6،ص:166،ط:دارالكتب العلمية)
وفي ردالمحتار:
أن الغصب محظور فلا يكون سببا للملك.
(مسائل الغصب،ج:6،ص:201،ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع:
أَنَّ فِي بَابِ الْغَصْبِ يَضْمَنُ الْغَاصِبُ لِلْمَالِكِ مِثْلَ الْمَغْصُوبِ........................
أَوْ قِيمَتَهُ.
(فصل في حكم السرقة،ج:7،ص:89،ط:دارالكتب العلمية)
وفي الفِقْهُ الإسلاميُّ وأدلَّتُهُ:
فيحرم الانتفاع قبل إرضاء المالك بأداء البدل أو إبرائه، حسماً لمادة الفساد.
(تغيرالعين المغصوبة،ج:6،ص:4809،ط:دارالفكر)
وفي المبسوط للسرخسي:
لِأَنَّهُ أَخَذَ الْمَالَ بِغَيْرِ إذْنِ صَاحِبِهِ، وَذَلِكَ حَرَامٌ شَرْعًا، فَكَمَا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَنَاوَلَ مَالَ الْغَيْرِ بِغَيْرِ إذْنِ صَاحِبِهِ لَا يَحِلُّ لَهُ إثْبَاتُ الْيَدِ عَلَيْهِ.
(كتاب اللقطة،ج:11،ص:2،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
(اعْلَمْ) بِأَنَّ الِاغْتِصَابَ أَخْذُ مَالِ الْغَيْرِ بِمَا هُوَ عُدْوَانٌ مِنْ الْأَسْبَابِ،ثُمَّ هُوَ فِعْلٌ مُحَرَّمٌ؛ لِأَنَّهُ عُدْوَانٌ وَظُلْمٌ
(كتاب الغصب،ج:11،ص:49،ط:دارالفكر)
وفي مختصرالقدوري:
ولا يتصدق باللقطة على غني وإن كان الملتقط غنيا لم يجز له أن ينتفع بها وإن كان فقيرا فلا بأس أن ينتفع بها ويجوز أن يتصدق بها إذا كان غنيا على أبيه وابنه وزوجته إذا كانوا فقراء والله أعلم
(باب اللقطة،ج:1،ص:135،ط:دارالكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026