نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںہمارے علاقےمیں جو آدمی گھرچھوڑ کر دوسری جگہ رہنے لگتاہے،تو وہ اپنا گھر کسی کے حوالہ کرتا ہے،اس طور پرکہ اس سے مثلا ایک لاکھ روپے لیتا ہے،کہ جب میں یہ رقم واپس کروں گا تو آپ مجھے گھر خالی کرکے دیں گے،عقد تام ہوجانے کے بعدوہ آدمی مکمل طور پراس گھر میں تصرف کا حق دار ہوتاہے،کبھی تو خود اس گھر میں رہنے لگتا ہے،اور کبھی کسی کو کرایہ پر دےکر کرایہ وصول کرتا ہے،اور وہ مالکِ گھر کی طرف سے ان تمام تصرفات کا مجاز ہوتا ہے،اب دریافت طلب امر یہ ہے،کہ شریعت کے اعتبار سے عقدِمذکور میں کوئی کراہت تو نہیں،وضاحت فرمائیں۔
واضح رہے کہ کسی سے رقم لے کراس کےپا س بطوروثیقہ کے اپنی زمین،گھر یاکوئی اور چیز رکھنا (اس طورپر کہ جب میں رقم کی ادائیگی کروں گا تو آپ مجھے اپنی چیز حوالہ کریں گے)شریعت کی اصطلاح میں عقدِرہن کہلاتا ہے، اور وہ چیز مرہون کہلاتی ہے۔
اس(مرہون) کا حکم یہ ہے،کہ اس میں تصرف کرناچاہےراہن کی اجازت سے ہو،یابغیر اس کی اجازت سے،ہر دو صورت میں ناجائز اور حرام ہے۔
بصورت مسئولہ چونکہ مالکِ مکان اورشخصِ مذکور کےدرمیان عقد،رہن کاہے، اور مرتہن کا مرہونہ چیز اجارہ پر دیناشرعاناجائزہے،لہذا اس سےاحتراز ضروری ہے،تاہم اگر کسی نے مرہونہ چیزکومالک کی اجازت سے اجارہ پر دیا،توعقدِاجارہ راہن کی طرف سے متصور ہوگا،لہذا اجرت کا مستحق بھی راہن ہوگا،اور اگر مرتہن نے راہن کی اجازت کے بغیراجارہ پر دیا،تو اس صورت میں اجرت کامستحق مرتہن ہوگا،البتہ اس کےلئےاجرت کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں،بلکہ اس کو صدقہ کرنا ضروری ہے،اورعقدرہن ہردو صورت میں باطل ہوجائےگا،لہذا مرتہن مالکِ مکان سے دوبارہ رہن کےمطالبےکا مجاز ہوگا۔
وفي الفتاوى الهندية: وَإِنْ آجَرَ الْمُرْتَهِنُ من أَجْنَبِيٍّ بِأَمْرِ الرَّاهِنِ يَخْرُجُ من الرَّهْنِ وَتَكُونُ الْأُجْرَةُ لِلرَّاهِنِ وَإِنْ كانت الْإِجَارَةُ بِغَيْرِ إذْنِ الرَّاهِنِ يَكُونُ الْأَجْرُ لِلْمُرْتَهِنِ يَتَصَدَّقُ بِهِ وَلِلْمُرْتَهِنِ أَنْ يُعِيدَهَا في الرَّهْنِ. (كتاب الرهن:باب تصرف الراهن والمرتهن في المرهون:5/547:بيروت)
وفي التاترخانية:سئل على بن احمد عن رجل رهن عمارة حانوت قائمة على ارض سلطانية،وسلمها الى المرتهن،وكان يتصرف المرتهن فيها،يؤاجره،وياخذ الاجرسنين واعواما،هل يصح الرهن،وهل يطيب للمرتهن ما اخذ من اجرتها؟فقال لايصح الرهن،ولايطيب له مااخذ.
(كتاب الرهن:فصل شرئط الرهن:18/510:ط:رشيدية.)
رد المحتار:
قَالَ فِي الْمِنَحِ : وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْلَمَ السَّمَرْقَنْدِيِّ وَكَانَ مِنْ كِبَارِ عُلَمَاءِ
سَمَرْقَنْدَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِشَيْءٍ مِنْهُ بِوَجْهٍ مِنْ الْوُجُوهِ وَإِنْ أَذِنَ لَهُ الرَّاهِنُ ، لِأَنَّهُ أَذِنَ لَهُ فِي الرِّبَا لِأَنَّهُ يَسْتَوْفِي دَيْنَهُ كَامِلًا فَتَبْقَى لَهُ الْمَنْفَعَةُ فَضْلًا فَيَكُونُ رِبًا ، وَهَذَا أَمْرٌ عَظِيمٌ .
(كتاب الرهن:6/482:ط:ايج ايم،سعيد)
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
وفي الفوائد الزينية أباح الراهن للمرتهن أكل الثمار فأكلها لم يضمن ثم قال يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن بإذن الراهن .
(كتاب الرهن : 4/274:المكتبة دار العلميه)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔