نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں واضح رہے کہ " سمجھ لینا کہ طلاق ہے"عربی میں " احسبی الطلاق" اور "افرضی الطلاق"کا ترجمہ ہے۔اور فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق کسی کا اپنی بیوی کو " احسبی الطلاق" اور "افرضی الطلاق"کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ،جیسا کہ علامہ ابن نجیم المصری ؒ (المتوفى: 970هـ)اپنی معتبر تصنیف "البحر الرائق"میں لکھتےہیں:"ولو قال الزوج داده أنكار وكرده أنكار) لا يقع الطلاق (وإن نوى الوقوع) "یہ فارسی کے الفاظ ہے،جس کا ترجمہ اور تشریح کرتے ہوئےلکھتے ہیں: "لأن معنى قوله داده أنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء"۔لہذا صورت مسئولہ میں آپ کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ " اگر میری موافقت نہیں کرتی ، تو سمجھ لینا کہ طلاق ہے" سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔وہ بدستور آپ کے نکاح میں ہے۔
البحر الرائق:
(ولو قال الزوج داده أنكار وكرده أنكار) لا يقع الطلاق (وإن نوى الوقوع) والفرق بينهما أن في الأولى إخبارا عن وقوع فيقع الطلاق وفي الثاني ليس بإخبار؛ لأن معنى قوله داده أنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء وأنكار بفتح الهمزة وسكون النون وفتح الكاف الصماء وفي آخره راء مهملة، ومعناه افرض وقدري.
(مسائل متفرقة فی الطلاق،549/8،ط:دارالكتب العلمية)
مجمع الأنهر:
ولو قال داده آنكار و حزب آنكار لا يقع الطلاق........لأن معنى قوله داده آنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء.
(کتاب الخنثی،479/4،ط:دارالكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔