سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-855 Fatwa no: 1448-855

سمجھ لینا کہ طلاق ہے"الفاظ سے طلاق کےوقوع کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: میر ا اپنی بیوی کے ساتھ کسی معاملہ میں اختلاف تھا ۔وہ میری موافقت نہیں کررہی تھی،تو میں نے اس کو کہا کہ اگر تم میری موافقت نہیں کرتی،تو سمجھ لینا کہ طلاق ہے۔ یہ الفاظ میں نے ایک مرتبہ زبان سے ادا کئے ہے۔تو اب آیا اس سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟
جواب :

 واضح رہے کہ " سمجھ لینا  کہ طلاق ہے"عربی میں " احسبی الطلاق" اور "افرضی الطلاق"کا ترجمہ ہے۔اور فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق کسی کا اپنی بیوی کو " احسبی الطلاق" اور "افرضی الطلاق"کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ،جیسا کہ علامہ ابن نجیم  المصری ؒ (المتوفى: 970هـ)اپنی معتبر تصنیف "البحر الرائق"میں  لکھتےہیں:"ولو قال الزوج داده أنكار وكرده أنكار) لا يقع الطلاق (وإن نوى الوقوع) "یہ فارسی کے الفاظ ہے،جس کا ترجمہ اور تشریح کرتے ہوئےلکھتے  ہیں: "لأن معنى قوله داده أنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء"۔لہذا صورت مسئولہ میں آپ کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ " اگر میری موافقت نہیں کرتی ، تو سمجھ لینا کہ طلاق ہے" سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔وہ بدستور آپ کے نکاح میں ہے۔
البحر الرائق:
(ولو قال الزوج داده أنكار وكرده أنكار) لا يقع الطلاق (وإن نوى الوقوع) والفرق بينهما أن في الأولى إخبارا عن وقوع فيقع الطلاق وفي الثاني ليس بإخبار؛ لأن معنى قوله داده أنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء وأنكار بفتح الهمزة وسكون النون وفتح الكاف الصماء وفي آخره راء مهملة، ومعناه افرض وقدري.
(مسائل متفرقة فی الطلاق،549/8،ط:دارالكتب العلمية)
مجمع الأنهر:
ولو قال داده آنكار و حزب آنكار لا يقع الطلاق........لأن معنى قوله داده آنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء.
(کتاب الخنثی،479/4،ط:دارالكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026