نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہےخالص سیاہ خضاب سے بالوں کو رنگنا مکروہ تحریمی ہے،تاہم اگر خالص سیاہ خضاب نہ ہو بلکہ سیاہی مائل ہو اور مقصد کوئی دھوکہ( یعنی ملازمت کا حصول یا شادی کرنے کےلئےکسی خاتون کو)دینا نہ ہوتو اس صورت میں سیاہی مائل خضاب لگانے کی گنجائش ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے لئےخالص سیاہ خضاب سے بالوں کو رنگنا درست نہیں ،تاہم سیاہی مائل خضاب ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور رنگ ہو مثلا سرخ وغیرہ ،تو اس سے بالوں کو رنگنا صرف جائز نہیں بلکہ مستحب ہے۔
تحفة الأحوذي:
وَحَاصِلُهُ أَنَّ أَحَادِيثَ النَّهْيِ عَنِ الْخَضْبِ بِالسَّوَادِ مَحْمُولَةٌ عَلَى التَّسْوِيدِ الْبَحْتِ وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي تَدُلُّ عَلَى إِبَاحَةِ الْخَضْبِ بِالسَّوَادِ مَحْمُولَةٌ عَلَى التَّسْوِيدِ الْمَخْلُوطِ بِالْحُمْرَةِ.هَذَا مَا عِنْدِي وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ
(باب ماجاء في الجمة،361/5،ط:دارالكتب العلمية)
الدرالمختار:
يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح، والأصح أنه - عليه الصلاة والسلام - لم يفعله، ويكره بالسواد،
(مطلب في الخضاب،422/6،ط:دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔