سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-857 Fatwa no: 1448-857

خالص سیاہ خضاب سےبالوں کو رنگنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: میری پنتالیس سال عمر ہے۔اور میرے سر اور داڑھی میں سفیدی ظاہر ہوچکی ہے۔تو آیا میرے لئے سیاہ(کالا )خضاب سے بالوں کو رنگنا جائز ہے؟
جواب :

واضح رہےخالص  سیاہ  خضاب سے بالوں کو رنگنا مکروہ تحریمی ہے،تاہم اگر خالص سیاہ خضاب نہ ہو بلکہ سیاہی مائل ہو اور مقصد کوئی دھوکہ(  یعنی ملازمت کا حصول یا شادی کرنے کےلئےکسی خاتون کو)دینا نہ ہوتو اس صورت میں سیاہی  مائل خضاب لگانے کی گنجائش ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے لئےخالص سیاہ  خضاب سے بالوں کو رنگنا درست نہیں ،تاہم    سیاہی  مائل  خضاب  ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور  رنگ ہو  مثلا سرخ  وغیرہ ،تو اس  سے بالوں کو رنگنا صرف جائز نہیں بلکہ مستحب ہے۔
تحفة الأحوذي:
وَحَاصِلُهُ أَنَّ أَحَادِيثَ النَّهْيِ عَنِ الْخَضْبِ بِالسَّوَادِ مَحْمُولَةٌ عَلَى التَّسْوِيدِ الْبَحْتِ وَالْأَحَادِيثُ الَّتِي تَدُلُّ عَلَى إِبَاحَةِ الْخَضْبِ بِالسَّوَادِ مَحْمُولَةٌ عَلَى التَّسْوِيدِ الْمَخْلُوطِ بِالْحُمْرَةِ.هَذَا مَا عِنْدِي وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ
(باب ماجاء في الجمة،361/5،ط:دارالكتب العلمية)
الدرالمختار:
يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح، والأصح أنه - عليه الصلاة والسلام - لم يفعله، ويكره بالسواد،
(مطلب في الخضاب،422/6،ط:دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026