سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-858 Fatwa no: 1448-858

مشترکہ زمینوں میں امام کے خاندان کے حق اور امام کے غلے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک غیر آباد علاقہ ہے ،اس میں ایک آدمی جو عالم بزرگ بھی ہےپہلے آیا اور اس کو کچھ آباد کیا ،دوسری ایک قوم بعد میں آئی اور اس کو مزید آباد کیا ۔اس علاقہ میں ایک مسجد ہے یہ معلوم نہیں کہ اس عالم آدمی نے بنایا یا اس قوم نے ،البتہ اس قوم نے امامت اس عالم بزرگ کے حوالے کیا ۔یہ عالم بزرگ اس علاقہ سے نہیں گیا بلکہ اسی میں رہا ۔اس علاقہ میں یہ رواج ہے کہ لوگ چند سال بعد علاقوں کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں لہذا یہ قوم چلی گئی اور دوسرے لوگ آئے اور بعد میں چند سال بعد وہ بھی چلے گئے اور یہ سلسلہ چلتا رہا پتہ نہیں کب سے چلا اور کتنا عرصہ چلتا رہا، آخر میں آنے والی قوم کے بعد علاقوں کے تبادلے کا رسم ختم ہوا، اب آخر میں آنے والی قوم کی امامت اس عالم بزرگ آدمی کی اولاد کرتی ہیں جو نہیں گیا تھا ،اب یہ معلوم نہیں کہ بعد والی قوم نے ان اماموں کو زمین دی ہے یا نہیں لیکن آخر میں آنے والی قوم زیادہ ہوئی اور وہ ان اماموں والے خاندان کے دیگر افراد سے کہنے لگی کہ امام کا غلہ بھی آپ پر ہوگا اور اس علاقہ میں جو غیر آباد جگہیں اور مشترک چیزیں (مثلاً:چراہ گاہ ،پہاڑ ،جنگل وغیرہ )ہیں ان میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے اور وہ امام والے خاندان جو تعداد میں کم ہیں ،اس قوم سے کہتے ہیں کہ ہمارے آباء واجداد تم سے کئی سال پہلے یہاں پر تھے ان کا مقبرہ بھی معلوم ہے اور تمہارے آباء واجداد کا مقبرہ معلوم نہیں ہے لہذا ہم مشترکہ ا شیاء کے حقدا رہیں۔ آیا کم تعداد والے ائمہ کا مشترکہ اشیاء میں حصہ ہے یا نہیں اور قیامت تک امام والے خاندان کے دیگر افراد امام کی اجرت ادا کریں گے یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا ،جو سوال اس سے پوچھا جاتا ہے  اسی کے مطابق  جواب  دیتا ہے ، مفتی کے جواب سے نہ کسی کا حق ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کا حق باطل ہوتاہے ۔
بصورت مسئولہ اگر مذکورہ  سؤال حقیقت پر مبنی ہے ۔تو  اس کا جواب یہ ہے کہ علاقہ کی مشترکہ اشیاء جیسے چراہ گاہ ،  جنگل،نہر ،قبرستان  وغیرہ   میں علاقہ کے سب لوگ( مذکورہ قوم  اور اماموں والے خاندان) شریک ہوں گے۔لہذا  مذکورہ قوم کی یہ بات درست نہیں ہے کہ اماموں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے،نیز  مذکورہ قوم کی  یہ بات بھی  درست نہیں کہ امام کا غلہ قیامت تک  اماموں والے خاندان پر ہوگا ،بلکہ مسجد میں نماز پڑھنے والے  سارے لوگ مل کر آپس میں ایک کمیٹی بنائیں اور مسجد  کے دیگر اخراجات کے ساتھ ساتھ امام کی تنخواہ کاانتظام کریں۔ کسی ایک خاندان کو ذمہ دار بنانا درست نہیں ہے ،ہاں اگر کچھ لوگ اپنی مرضی سے امام کی تنخواہ اپنے ذمہ لے لیں تو یہ بھی درست ہے۔

سنن أبي داود:
3073 - حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا أيوب، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله  عليه وسلم، قال: «من أحيا أرضا ميتة فهي له، وليس لعرق ظالم حق».
(باب إحياء الموات،۳/ ۱۷۸ المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):
 (ولا يجوز إحياء ما قرب من العامر) بل يترك مرعى لهم ومطرحا لحصائدهم لتعلق حقهم به فلم يكن مواتا وكذا لو كان محتطبا..... (قوله ولا يجوز إلخ) التقييد بالقرب مبني على قول أبي يوسف، وقد مر أن ظاهر الرواية اعتبار حقيقة الانتفاع قرب أو بعد كما أفاده الأتقاني.
(كتاب إحياء الموات،۶/ ۴۳۳،دار الفكر بيروت)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):
(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم.
(مطلب في وقف المنقول تبعا للعقار ۴/ ۳۶۶،دار الفكر بيروت)
أيضا:
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم).
(مبحث الاجير الخاص،۶/ ۶۹،دار الفكر بيروت)
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:
أولاً ـ إحياء الموات: أي استصلاح الأراضي البور. والموات: ما ليس مملوكاً من الأرضين: ولا ينتفع بها بأي وجه انتفاع، وتكون خارجة عن البلد. فلا يكون مواتاً: ما كان ملكاً لأحد الناس، أو  ما كان داخل البلد، أو خارجاً عنها، ولكنه مرفق لها كمحتطب لأهلها أو مرعى لأنعامهم. والإحياء يفيد الملك لقول النبي صلّى الله عليه وسلم: «من أحيا أرضاً ميتة فهي له» سواء أكان الإحياء بإذن الحاكم أم لا عند جمهور الفقهاء. وقال أبو حنيفة ومالك: لا بد من إذن الحاكم.
(أولاً ـ إحياء الموات،۴/ ۲۹۰۷دار الفكر سوريه،دمشق)

الفتاوى الهندية:
سئل الشيخ القاضي الإمام شمس الإسلام محمود الأوزجندي - رحمه الله تعالى - عن ضياع في يدي رجل أثبت رجل آخر يده عليها بطريق التغلب فأقام الذي كانت الضياع في يده بينة على التغلب أن الضياع ملكه وأنه أخذها من يده بطريق التغلب قال: قبلت بينته وقضي بالضياع له وانتزعت من يد المتغلب وسلمت إليه ولو لم تكن له بينة وأراد تحليف المتغلب بالله ما كانت هذه الضياع في يد هذا المدعي وما أخذت منه بطريق التغلب قال له ذلك وكذلك لو ادعى على المتغلب إقراره أنها كانت في يده وأراد أن يحلفه على ذلك قال له ذلك كذا في المحيط.
(الفصل الرابع في تنازع الأيادي،۴/ ۹۴،دار الفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026