سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-859 Fatwa no: 1448-859

شک کی بناء پر دعوی کی صورت میں مدعا علیہ سے قسم لینے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید کہتا ہے کہ جمیلہ نے ہم پر تعویذ گنڈے کئے ہیں،اور یہ بھی کہتا ہے کہ اس کی بیٹی کپڑے تبدیل کرنے کے بہانے سے میرے کمرے میں گئی،اور بہت وقت گزارا،جس میں اپنا کام (تعویذ گنڈے) کرچکی ہوگی،اور جبکہ جمیلہ اور اس کی بیٹی اس کا انکار کرتی ہیں،تو اب مجھے(امام مسجد)حکم بنایاگیا ہے،تو آیامیں از روئے شرع زید کی تسلی کے لئے جمیلہ اور اس کی بیٹی کو قسم دے سکتاہوں یانہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ از روئے شرع   گواہوں کے بغیر صرف شک کی بناء پر دعوی معتبر نہیں۔ دعوی کا ثبوت گواہوں سے ہوتا ہے۔اگر مدعی کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہ ہوں توپھر مدعی علیہ سے قسم ہی  لی جائے گی۔لہذا صورت مسئولہ میں زید کا شک کی بناء پرمسماۃ جمیلہ اور اس کی بیٹی پر  تعویذگنڈے  کا دعوی  شرعا معتبر نہیں ہے،جب تک کے اپنے دعوی پر گواہ پیش نہ کرے۔تاہم صلح صفائی اور مدعی(زید)کی تسلی کے لئے امام مسجد بحیثیت حکم مدعا علیہ(جمیلہ اورا س کی بیٹی)کو قسم دے سکتا ہےاور ان کے قسم اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے،بشرطیکہ انہوں نے یہ کام نہ کیاہو۔اسی طرح کا فتوی فتاوی مفتی محمود(422/8)میں مذکور ہے۔فتوی مع سوال وجواب کے ملاحظہ ہو۔
سوال:برادرم اللہ داد خان و،راد خان بلوچ یہ شخص چند آدمیوں پر  شک کرتے ہیں کہ انہون نے ہماری ایک عورت پر دم تعویذ کرکے ماردی ہیں۔بھوپ نے یہ بتایا ہے۔رانجھا خان وغیرہ نے یہ کہا ہے ہم سے جو شریعت کے پابند ہیں ۔جو فیصلہ مولوی صاحب کردیں گے ہم کو منظور ہے،تاکہ شک مٹ جائے۔
جواب:بھوپ کی بات اس میں معتبر نہیں ہے۔ویسے ثبوت گواہوں سے ہی ہوتا ہے۔لہذا بھوپ کے کہنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔صفائی دینے کے لئے مدعا علیہم قسم اٹھالے تو کافی ہے،اگر انہوں نے یہ کام نہیں کیا ہے۔
سنن الترمذي:
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «البَيِّنَةُ عَلَى المُدَّعِي، وَاليَمِينُ عَلَى المُدَّعَى عَلَيْهِ»
(باب ماجاء في أن البينة،618/3،ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026