نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ از روئے شرع گواہوں کے بغیر صرف شک کی بناء پر دعوی معتبر نہیں۔ دعوی کا ثبوت گواہوں سے ہوتا ہے۔اگر مدعی کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہ ہوں توپھر مدعی علیہ سے قسم ہی لی جائے گی۔لہذا صورت مسئولہ میں زید کا شک کی بناء پرمسماۃ جمیلہ اور اس کی بیٹی پر تعویذگنڈے کا دعوی شرعا معتبر نہیں ہے،جب تک کے اپنے دعوی پر گواہ پیش نہ کرے۔تاہم صلح صفائی اور مدعی(زید)کی تسلی کے لئے امام مسجد بحیثیت حکم مدعا علیہ(جمیلہ اورا س کی بیٹی)کو قسم دے سکتا ہےاور ان کے قسم اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے،بشرطیکہ انہوں نے یہ کام نہ کیاہو۔اسی طرح کا فتوی فتاوی مفتی محمود(422/8)میں مذکور ہے۔فتوی مع سوال وجواب کے ملاحظہ ہو۔
سوال:برادرم اللہ داد خان و،راد خان بلوچ یہ شخص چند آدمیوں پر شک کرتے ہیں کہ انہون نے ہماری ایک عورت پر دم تعویذ کرکے ماردی ہیں۔بھوپ نے یہ بتایا ہے۔رانجھا خان وغیرہ نے یہ کہا ہے ہم سے جو شریعت کے پابند ہیں ۔جو فیصلہ مولوی صاحب کردیں گے ہم کو منظور ہے،تاکہ شک مٹ جائے۔
جواب:بھوپ کی بات اس میں معتبر نہیں ہے۔ویسے ثبوت گواہوں سے ہی ہوتا ہے۔لہذا بھوپ کے کہنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔صفائی دینے کے لئے مدعا علیہم قسم اٹھالے تو کافی ہے،اگر انہوں نے یہ کام نہیں کیا ہے۔
سنن الترمذي:
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «البَيِّنَةُ عَلَى المُدَّعِي، وَاليَمِينُ عَلَى المُدَّعَى عَلَيْهِ»
(باب ماجاء في أن البينة،618/3،ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔