سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-862 Fatwa no: 1448-862

طلاق کی عدت گزارنے کے دوران شوہر کے فوت ہونے سے عدت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک عورت کو اس کے خاوند نے آپس میں ناچاقی اور نااتفاقی کی وجہ سے تین طلاقیں دی ۔تو وہ عدت گزار رہی تھی کہ اتنے میں اس کےشوہر کا اکسیڈنٹ ہوا۔زخموں کی تاب نہ لاسکے اور فوت ہوگئے۔اب پوچھنا یہ تھا کہ یہ عورت طلاق والی عدت پوری کرے گی یاوفات کی عدت گزارے گی؟ تنقیح:طلاق دیتے وقت خاوند تندرست اور صحت مند تھے۔
جواب :

واضح رہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو حالت مرض میں طلاق دے میراث سے محروم کرنے کے لئے اور پھر شوہر اسی بیماری میں فوت ہوجائے تو اس صورت میں  عورت ابعد الاجلین عدت گزارے گی۔ابعد الاجلین کا مطلب یہ ہے کہ اگر عدت طلاق (تین حیض)  پہلے پوری ہوجائے تو پھر وہ عدت وفات(چار ماہ دس دن) پوری کرے گی ۔اور اگر عدت وفات(چار ماہ دس دن) پہلے پوری ہوجائے تو پھر وہ عدت طلاق (تین حیض) مکمل گزارے گی۔اور شوہر کے میراث میں حصہ بھی ملے گا۔اور اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق حالت صحت میں دے،پھر وہ دوران عدت فوت ہوجائے تو اس صورت میں   اس کی عدت  طلاق والی  عدت(تین حیض) ہوگی،عدت وفات (چار ماہ دس دن) کی طرف منتقل نہیں ہوگی۔اور میراث کی بھی حقدار نہیں ہوگی۔لہذا صورت مسئولہ میں  خاوند نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں حالت صحت میں دی ہے،اور پھر حادثاتی موت ہوئی  ہے،اس وجہ سے ان کی مطلقہ عدت طلاق(تین حیض)گزار کر ازاد ہوجائے گی۔اور شوہر کے میراث میں  بھی حقدار نہیں ہوگی۔ 
البحر الرائق:
وقيدنا بكونه في مرض موته لانه لو طلقها بائنا في صحته لم تنتقل ولا ترث .
(كتاب العدة،231/4،ط:دارالكتب العلمية بيروت)
ردالمحتار:
وخرج أيضا ما لو طلقها بائنا في صحته ثم مات لا تنتقل عدتها ولا ترث اتفاقا صرح به في الفتح لأنه ليس فارا .
(مطلب في عدة الموت،513/3،ط:دارالفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026