نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو حالت مرض میں طلاق دے میراث سے محروم کرنے کے لئے اور پھر شوہر اسی بیماری میں فوت ہوجائے تو اس صورت میں عورت ابعد الاجلین عدت گزارے گی۔ابعد الاجلین کا مطلب یہ ہے کہ اگر عدت طلاق (تین حیض) پہلے پوری ہوجائے تو پھر وہ عدت وفات(چار ماہ دس دن) پوری کرے گی ۔اور اگر عدت وفات(چار ماہ دس دن) پہلے پوری ہوجائے تو پھر وہ عدت طلاق (تین حیض) مکمل گزارے گی۔اور شوہر کے میراث میں حصہ بھی ملے گا۔اور اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق حالت صحت میں دے،پھر وہ دوران عدت فوت ہوجائے تو اس صورت میں اس کی عدت طلاق والی عدت(تین حیض) ہوگی،عدت وفات (چار ماہ دس دن) کی طرف منتقل نہیں ہوگی۔اور میراث کی بھی حقدار نہیں ہوگی۔لہذا صورت مسئولہ میں خاوند نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں حالت صحت میں دی ہے،اور پھر حادثاتی موت ہوئی ہے،اس وجہ سے ان کی مطلقہ عدت طلاق(تین حیض)گزار کر ازاد ہوجائے گی۔اور شوہر کے میراث میں بھی حقدار نہیں ہوگی۔
البحر الرائق:
وقيدنا بكونه في مرض موته لانه لو طلقها بائنا في صحته لم تنتقل ولا ترث .
(كتاب العدة،231/4،ط:دارالكتب العلمية بيروت)
ردالمحتار:
وخرج أيضا ما لو طلقها بائنا في صحته ثم مات لا تنتقل عدتها ولا ترث اتفاقا صرح به في الفتح لأنه ليس فارا .
(مطلب في عدة الموت،513/3،ط:دارالفکر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔