سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-863 Fatwa no: 1448-863

بلا عقدِ اجرت مال کا مطالبہ کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا ایک مٹی کا پہاڑ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کو ہموار کر کےاپنے لیے گھر بنائیں۔ہم نے اپنے ہمسایوں اور لوگوں کو كہا ہے کہ اگر آپ کو مٹی کی ضرورت ہے تو ہماری زمین سے مفت میں لے جائیں ۔ ابھی لوگ گاڑی بھیج کر اپنے لیے مفت میں مٹی لے کے جارہے ہیں ۔ لوگ گاڑی بھیجتے ہیں اور گاڑی والوں کو پورا کرایہ بھی دیتے ہیں ۔اب گاڑی والے ہم سے تیس روپے فی گاڑی مانگتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ہم کو تیس روپے فی گاڑی دیتے ہیں تو ہم آپ کی زمین سے مٹی لے کے جائیں گے ،اگر نہیں دیتے تو ہم کسی اور جگہ سے لے کے جائیں گے ۔پوچھنا یہ ہے کہ گاڑی والے جو تیس روپے ہم سے لیتے ہیں کیا یہ ان کے لیے جائز ہے یا نہیں ؟ اور ہمارے لیے گاڑی والوں کو تیس روپے دینا شرعا جائز ہے یا ناجائز ،کیونکہ ہم تو مٹی بھی مفت میں دے رہےہیں اور گاڑی والے کو ہر گاڑی کا تیس روپے بھی دیتے جائیں؟
جواب :

مذکورہ صورت میں گاڑی والوں کو    لوگوں کی طرف سے ہر ایک ٹرپ کا  پورا کرایہ  ملتا ہے؛اس لئے ان  کا آپ سے تیس  روپے فی گاڑی  کا  مطالبہ کرنا شرعاً    درست نہیں ہے  ۔
القرآن الكريم:
يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم.[النساء: 29]
مشكاة المصابيح:
2946:وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى.
(الفصل الثانی،۲/ ۸۸۹ المكتب الإسلامي - بيروت)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ولو جاء الزوج بطعام يحتاج إلى الطبخ والخبز فأبت المرأة الطبخ والخبز يعني بأن تطبخ وتخبز لما روي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم – قسم الأعمال بين علي وفاطمة - رضي الله عنهما - فجعل أعمال الخارج على علي وأعمال الداخل على فاطمة - رضي الله عنهما - ولكنها لا تجبر على ذلك إن أبت ويؤمر الزوج أن يأتي لها بطعام مهيأ، ولو استأجرها للطبخ والخبز؛ لم يجز ولا يجوز لها أخذ الأجرة على ذلك؛ لأنها لو أخذت الأجرة لأخذتها على عمل واجب عليها في الفتوى فكان في معنى الرشوة فلا يحل لها الأخذ، وذكر الفقيه أبو الليث أن هذا إذا كان بها علة لا تقدر على الطبخ والخبز أو كانت من بنات الأشراف، فأما إذا كانت تقدر على ذلك وهي ممن تخدم بنفسها تجبر على ذلك.
(فصل في بيان مقدار الواجب من النفقة،۴/ ۲۴ دار الكتب العلمية)
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:
وأساس القول بالجواز فيه: أن الفقهاء أجازوا دفع الأجر للحاجة لأداء القربات والطاعة من تعليم قرآن وممارسة الشعائر الدينية، كما أنهم أجازوا دفع شيء من المال على سبيل الرشوة للوصل إلى الحق أو دفع الظلم، أو الدفع لعدو لدرء خطره وضرره عن البلاد.
(باب الکفالة،۶/ ۴۱۷۸،دار الفكر - سوريَّة - دمشق)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026