سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-92 Fatwa no: 1447-92

رہن رکھی گئی زمین سے مرتہن کا نفع اٹھانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
1997ء میں میرے ناناجان نے میرے والد صاحب سے 18 کنال زمین ہمارے گاؤں میں 2لاکھ روپے کے عوض میں رہن پر لی تھی،تب سے ناناجان اس زمین سے سالانہ رینٹ یعنی کرایہ لے رہے تھے،2000ء میں ناناجان انتقال فرماگئے اور میری والدہ کو بتایا کہ  زمین کے معاملات میرے بیٹے نسیم کے حوالے ہونگے،نسیم میرے ماموں جان ہیں ،2000ء سے لیکر 2007ء تک میرے ماموں جان زمین کا سالانہ کرایہ وصول کرتے رہے،اندازے کے مطابق 1997ء سے لیکر 2007ء تک تقریبا 3 لاکھ روپے میرے ناناجان اور ماموں جان زمین سے کماچکے تھے۔
پھر ایسا ہوا کہ ہمیں گھربنانے کے لئے پیسوں کی ضرورت پڑی،تو والدہ نے ماموں کو کہا کہ مجھے میری زمین واپس کردو،تمہیں تمہارے 2لاکھ روپے مستقبل میں جب بھی میرے پاس پیسے ہوئے میں ادا کردونگی،ماموں جان نے زمین تو واپس کردی ،مگر 2007ء سے لیکر آج کی تاریخ تک سالانہ کرایہ اپنے کھاتے میں لکھتے جارہے ہیں ،انہوں نے تقریبا25لاکھ روپے کا حساب بناکر ہمیں بھیجوایا ہےکہ ہمارے ذمہ تقریبا 25لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔
میری والدہ تو اس پر راضی ہے کہ ماموں جان کو دولاکھ روپے ادا کردیئے جائیں مگر 25لاکھ روپے دینے پر راضی نہیں کہ یہ ناجائز ہے۔
برائے کرم شریعت کے مطابق ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہم 25 لاکھ روپے دینے کے روادار ہیں؟ اور یہ بھی نوٹ فرمائیں کہ یہ زمین میری والدہ کو میرے والد صاحب نے حق مہر میں لکھ کردی تھی اور والدہ نے یہ زمین 2008ء میں بیچ دی تھی اور اس رقم سے گھر تعمیر کیا تھا،ہم نے 2007ء سے لیکر آج تک اس زمین سے کچھ بھی نہیں کمایا،برائے مہربانی ہمیں فتوی بھی لکھ کر دیں کہ شریعت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے؟

جواب :

اس سوال کے جواب کو سمجھنے سے پہلے چند باتوں کا سمجھنا ضروری ہیں:
1۔شریعت مطہرہ کا ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ مرہونہ چیز  کے منافع کا مستحق راہن ہوتا ہے نہ کہ مرتہن،اس لئے مرتہن کے لئے شئ مرہونہ سے نفع حاصل کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔
2۔رسول اللہﷺ نے قرض پر نفع حاصل کرنے کو سود قرار دیا ہے۔
3۔رہن کے منافع کا حکم یہ ہے کہ اس کو اصل مالک یعنی راہن کو لوٹائے جائیں گے۔
صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کے والد صاحب نے دو لاکھ قرض کے بدلے میں زمین گروی (رہن) رکھی تھی،اس لئے آپ کے ذمہ صرف 2لاکھ روپے ہی واپس  کرنا لازم ہے اور شئ مرہونہ سے چونکہ نفع اٹھانا مرتہن کے لئے ناجائز ہے ،اس لئے آپ کے ماموں کے ذمہ لازم ہے کہ اس نے مذکورہ زمین سے کرایہ کی صورت میں جو 3لاکھ روپے کمائیں ہیں وہ آپ کو واپس کردے ،نیز یہ صورت بھی ممکن ہے کہ آپ کے ماموں نفع کے3لاکھ روپے سے اپناقرض جو کہ 2لاکھ روپے کاٹ لیں اور بقایا ایک لاکھ روپے آپ کو واپس کردیں،نیز ماموں کا آپ سے 25لاکھ روپےکا مطالبہ کرنا درست نہیں ہےاور نہ آپ کے ذمہ  اس کی ادائیگی لازم ہے ۔
جیسا کہ کفایت المفتی میں ہے:
سوال:زید سے عمرو زمین  اس شرط پر رہن لے رہا ہے کہ سالانہ پانچ یا دس روپے اپنی اس رقم سے جوکہ زمین پر دی ہے میں تجھے چھوڑ دیا کرونگاجب میری رقم اس طرح سے پوری ہوجائے گی تو زید اپنی زمین پر بلا پیسے قابض ہوجائے گا اور رقم پوری ہونے سے پہلے جو کہ باہم طے ہوا ہے زید زمین لے تو طے شدہ سالانہ رقم زید کو چھوڑ کر بقایا رقم عمرو زید سے لےلے ،تو شرعا یہ رقم لینی اور اس شرط پر زمین رہن کرنی جائز ہے یا نہیں ؟
جواب:زمین پر مرتہن کو صرف قبضہ کرنا جائز ہے اس کو کاشت کرنا یا کاشت کیلئے کسی کو دینا جائز نہیں اور اگر خود کاشت کرے تو اس کا پورا کرایہ راہن کو ادا کرے یا اس کی رقم میں سے وضع کرے اور اگر کسی دوسرے کو کاشت کے لئے دی ہے ،تو اس کا پورا معاوضہ راہن کو دے یا رقم رہن میں سے وضع کرے۔
(کتاب الدیون،ج8،ص144،ط:دارالاشاعت)
كما فى المستدرك للحاكم:
عن أبي هريرة رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يغلق الرهن له غنمه وعليه غرمه.هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
(كتاب البيوع،رقم2315،ص2،ص51،ط: دار المعرفة) 
وفي رد المحتار على الدر المختار:
(لا انتفاع به مطلقا) لا باستخدام، ولا سكنى ولا لبس ولا إجارة ولا إعارة، سواء كان من مرتهن أو راهن (إلا بإذن) كل للآخر، وقيل لا يحل للمرتهن لأنه ربا، وقيل إن شرطه كان ربا وإلا لا.
(قوله وقيل لا يحل للمرتهن) قال في المنح: وعن عبد الله بن محمد بن أسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا فيكون ربا، وهذا أمر عظيم..... قلت والغالب من أحوال الناس أنهم إنما يريدون عند الدفع الانتفاع، ولولاه لما أعطاه الدراهم وهذا بمنزلة الشرط، لأن المعروف كالمشروط وهو مما يعين المنع، والله تعالى أعلم.
(كتاب الرهن،ج6،ص482،ط:دارالفكر)
وفى الأشباه والنظائر:
كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن كما في الظهيرية وما روي عن الإمام أنه كان لا يقف في ظل جدار مديونه، فذلك لم يثبت كذا في كراهتها القول للمملك في جهة التمليك.
(كتاب المداينات،ج1،ص226،ط: دار الكتب العلمية)
وفى الفتاوى الهندية:
أما تفسيره شرعا فجعل الشيء محبوسا بحق يمكن استيفاؤه من الرهن كالديون حتى لا يصح الرهن إلا بدين واجب ظاهرا وباطنا أو ظاهرا فأما بدين معدوم فلا يصح؛ إذ حكمه ثبوت يد الاستيفاء، والاستيفاء يتلو الوجوب كذا في الكافي.
(كتاب الرهن،ج5،ص431،ط:دارالفكر)
وفى البناية:
قال: ويكره السفاتج، وهو قرض استفاد به المقرض سقوط خطر الطريقوهذا نوع نفع استفيد به، وقد نهى الرسول - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عن قرض جر نفعا.
(كتاب الحوالة،ج11،ص203،ط:المكتبة الحقانية)
وفى الهداية:
ليس للمرتهن أن ينتفع بالمرهون، حتى لو كان الراهن عبدا ليس له أن يستخدمه، وإن كان دابة ليس له أن يركبها، وإن كان ثوبا ليس له أن يلبسه، وإن كان دارا ليس له أن يسكنها، وإن كان مصحفا ليس له أن يقرأ فيه؛؛ لأن عقد الرهن يفيد ملك الحبس لا ملك الانتفاع، فإن انتفع به فهلك في حال الاستعمال يضمن كل قيمته؛ لأنه صار غاصبا وليس له أن يبيع الرهن بغير إذن الراهن؛؛ لأن الثابت له ليس إلا ملك الحبس، فأما ملك العين فللراهن، والبيع تمليك العين فلا يملكه المرتهن من غير إذن الراهن.
(كتاب الرهن،ج6،ص146،ط: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب