سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-864 Fatwa no: 1448-864

طلاق کی عددمیں میاں بیوی کےاختلاف کاحکم

براہ راست فتویٰ
جواب :

واضح رہے کہ مفتی غیب نہیں جانتا،بلکہ سوال کے مطابق جواب لکھنے کاپابند ہوتاہےاور سائل  کوچاہئے کہ سچ کادامن کسی حال میں بھی نہ چھوڑے،کیونکہ جھوٹ سے کام لینےوالا عنداللہ  ماخوذ وملعون ہوتا ہے۔یہ بھی یاد رہےکہ  شریعت مطہرہ کے رو سے مدعی (دعوی کرنےوالا) اگر اپنے دعوی پر دو گواہوں  کو پیش کردے،تو اس کی بات  قضاء  معتبر ہوگی ،اوراگر مدعی کے پاس گواہ نہ ہو، توتب منکرکی بات قسم کےساتھ  معتبر ہوگی اوراگر منکرقسم سے انکارکردے،تب مدعی کے حق میں فیصلہ کیاجائے گا۔لہذا صورت مسئولہ میں  شوہر تین طلاقوں کا منکر ہے اور بیوی اس کی مدعیہ ہے ،اور جبکہ اس کے پاس  گواہ بھی نہیں ہے،اس لئے قضاء شوہرکی بات قسم کےساتھ معتبر ہوگی، اوردوطلاقوں کےوقوع کا فیصلہ کیاجائےگا،اس لئےشوہرکاعدت(تین حیض )گزرنے سےپہلے رجوع کرنےسےنکاح بدستورباقی رہے گا،لیکن آئندہ  شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق باقی رہے گا،یعنی آئندہ مزید ایک طلاق دینے سے بیوی شوہر پر طلاق مغلظہ کے ساتھ حرام  ہوجائے گی۔ لیکن اگر عورت نے خود تین دفعہ طلاق کوسنا ہے توپھر اس کےلئےجائز نہیں کہ وہ کسی طرح اس مرد کو مقاربت کا موقعہ دے،بلکہ جس طرح ممکن ہو اس سے علیحدہ رہے۔اول تو اسے خوف خدا  اورعذاب آخرت سے ڈرا کر اس بات پر امادہ کرے کہ  وہ غلط بیانی کرکے ساری عمر  حرام کاری میں مبتلا ہونے کےبجائے  یاتیسری طلاق کا اقرار کرے یاکم ازکم اس کو اپنے سےجدا کردے۔اگر شوہر اس پر امادہ نہ ہوتو پھر عورت کو چاہئےکہ وہ اپنامہر معاف کرکےیاکچھ مال دے کر اس سے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کریں۔
القرآن المجيد:
واستشهدواشهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامراتان ممن ترضون من الشهداء.
 (سورة البقرة،الجزء:3،الآية:282)

سنن الترمذی:
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: «البَيِّنَةُ عَلَى المُدَّعِي، وَاليَمِينُ عَلَى المُدَّعَى عَلَيْهِ».
(باب ماجاءان البینة علي،617/3،ط:شركةمصطفى البابي)
سنن ابن ماجه:
عن ابن عباس، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «لو يعطى الناس بدعواهم، ادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه.
 (باب البينة على المدعي،416/3،ط:دارالرسالة العالمية)
المنهاج شرح صحیح مسلم:
وهذا الحديث قاعدة كبيرة من قواعد أحكام الشرع ففيه أنه لا يقبل قول الإنسان فيما يدعيه بمجرد دعواه بل يحتاج إلى بينة أو تصديق المدعى عليه فإن طلب يمين المدعى عليه فله ذلك وقد بين صلى الله عليه وسلم الحكمة في كونه لا يعطى بمجرد دعواه لأنه لو كان أعطي بمجردها لادعى قوم دماء قوم وأموالهم واستبيح ولا يمكن المدعى عليه أن يصون ماله ودمه وأما المدعي فيمكنه صيانتهما بالبينة.
 (باب الیمین علی المدعی عليه،12/3،ط:دارإحياءالتراث العربي)
الفتاوی الهندية:
رجل جعل أمر امرأته بيدها على أنه إن لم يعطها كذا في وقت كذا فهي تطلق نفسها متى شاءت فمضى ذلك الوقت وطلقت نفسها ثم اختلفا فقال الزوج أعطيتها في ذلك الوقت وأنكرت المرأة ذلك فالقول قول الزوج في حق الطلاق حتى لا يحكم بوقوع الطلاق عليها،
(الفصل الثانی فی الامر بالید،398/1،دارالفکر)
ردالمحتار:
وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه.
(باب الكنايات،315/3،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026