سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-868 Fatwa no: 1448-868

ظہر کی نمازمیں بآواز بلندقرات کرنےسےسجدہ سہو کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک امام صاحب نے ظہر کی نماز میں قراءت بآواز بلند شروع کی،جب"ایاک نعبد"تک پہنچے،تو خاموش ہوگئے،اور نماز مکمل کرلی ،جبکہ آخر میں سجدہ سہو بھی نہیں کیا،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے؟اور اگر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے،تو اس نماز کا کیا حکم ہوگا؟جس میں امام نے سجدہ سہو ہی نہیں کیا۔
جواب :

واضح رہے  کہ ظہر اور عصر کی نماز میں آہستہ قراءت کرنا واجب ہے،اور واجب کےچھوٹنے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے،اورجس نماز میں کوئی  واجب چھوٹ جائے اور آخر میں سجدہ سہو نہ کیا جائے،تو اس نماز کا وقت کے اندر اعادہ  کرنا واجب ہوتا ہے  ۔لہذا صورت مسئولہ میں امام صاحب نے چونکہ  ظہر کی نماز میں بآواز بلند قراءت شروع کی ،اس لئے ان پر سجدہ سہو کرنا واجب تھا،اور سجدہ سہو نہ کرنے کی وجہ سے وقت کے اندر اس نماز کا اعادہ کرنا واجب تھا،لیکن  وقت کے اندر انہوں  نے اعادہ    نہیں کیا،اس لئے وہ نماز مع الکراہت درست ہوگئی،تاہم ان پر توبہ استغفار لازم ہے۔
في رد المحتار:
والإسرار يجب على الإمام والمنفرد فيما يسر فيه وهو صلاة الظهر والعصر والثالثة من المغرب........ولكن وجوب الإسرار على الإمام بالإتفاق.
(واجبات الصلاة،ج:1،ص:469،ط:دارالفكر)
وفي البحر الرائق:
فعلى القولين لا وجوببعد الوقت فالحاصل أن من ترك واجبا من واجباتها أو ارتكب مكروها تحريميا لزمه وجوبا أن يعيد في الوقت فإن خرج الوقت بلا إعادة أثم ولايجب جبر النقصان بعد الوقت فلو فعل فهو أفضل.
(الترتيب بين الفائتة والوقتية،ج:2،ص:86،ط: دار الكتاب الإسلامي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026