سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-869 Fatwa no: 1448-869

زمین کی بیع سے پہلے شفیع کا زمین خریدنے سے انکار کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتیان کرام! گزارش ہے کہ درج ذیل مسئلہ میں راہنمائی فرمائیں: محمد بقا اور محمد یونس ایک دوسرے کے ہمسایہ ہیں۔ محمد بقا اپنی ایک زمین (یا مکان) بیچنا چاہ رہا تھا۔ اس نے ابتداءً اس کی قیمت بیس لاکھ روپے رکھی۔ محمد یونس نے زمین خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا، لیکن کہا: "میں سات لاکھ روپے سے زیادہ میں نہیں خرید سکتا، اس سے اوپر مجھے وارہ نہیں ہے۔" محمد بقا نے بھی جواب دیا کہ: "میں چودہ لاکھ سے کم میں نہیں بیچ سکتا"۔ یوں معاملہ مؤخر ہو گیا، اور درمیان میں تقریباً تین سے چار ماہ کا وقت گزر گیا۔کچھ عرصے بعد محمد بقا نے وہی زمین محمد یوسف نامی تیسرے شخص کو آٹھ لاکھ روپے میں بیچ دی۔ جب یہ بات محمد یونس کو معلوم ہوئی، تو اس نے فوراً حقِ شُفعہ (شفعہ بالجوار) کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: "اب چونکہ زمین آٹھ لاکھ میں فروخت ہوئی ہے، اور مجھے اس قیمت پر زمین لینا وارہ ہے، اس لیے میں بطور ہمسایہ زمین کو حقِ شُفعہ کے تحت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔" لیکن محمد بقا انکار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: "آپ نے پہلے سات لاکھ سے اوپر زمین خریدنے سے انکار کیا تھا، اس لیے اب آپ کو حقِ شفعہ حاصل نہیں ہے۔"اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ: سوالات: 1. کیا محمد یونس کو اس صورت میں حقِ شفعہ حاصل ہوگا؟ 2. کیا سابقہ انکار (کہ سات لاکھ سے اوپر نہیں لوں گا) حق شفہ کو ختم کر دیتا ہے؟ 3. اگر بیع مکمل ہو چکی ہو اور مشتری کو قبضہ بھی مل چکا ہو، تو محمد یونس اسی قیمت پر حقِ شفعہ کا مطالبہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت، اور فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔جزاکم اللہ خیراً
جواب :

واضح رہے کہ حق شفعہ زمین بیچنے کے بعد متحقق  ہوتا ہے  ۔ زمین  بیچنے سے پہلے حق شفعہ ثابت ہی نہیں اس لئے    ساقط بھی نہیں ہوسکتا ۔اسی طرح جب زمین کی بیع مکمل ہوجائےاور شفیع کو خبر ملے کہ زمین   مثلا:بیس لاکھ  میں  بک گئی ہے ،تو شفیع   حق شفعہ کو چھوڑ دیں اور بعد میں معلوم ہو جائے کہ زمین  بیس لاکھ  سے کم میں بک گئی تھی تو اس صورت میں شفیع کو حق شفعہ حاصل  ہوتاہے۔
بصورت مسئولہ آپ کے سوالات کے جوابات  ترتیب وار یہ  ہیں :
1۔ محمد یونس کو اس صورت میں حق  ِشفعہ حاصل ہے؛اس لئے کہ  جب محمد بقا              زمین  بیچ رہاتھا اور محمد یونس نے اس سے سات لاکھ تک    خریدنا چاہا تو  یہ ان کے درمیان مطلق    زمین کی خرید و فروخت ہورہی تھی ۔اس کا حق شفعہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
2۔ سابقہ انکار (کہ سات  لاکھ سے اوپر نہیں لوں گا)   مطلق خرید نے  سے تھا ،نہ کہ بطور شفعہ خریدنے سے ؛اس لئے اس انکار سے حق شفعہ ساقط نہیں ہوا۔دوسرا یہ کہ  بائع نے شفیع سےکہا تھا کہ میں   چودہ لاکھ  سے کم پر زمین نہیں بیچ سکتا حالانکہ  بعد میں آٹھ لاکھ پر بیچ دیا۔اس لئے بھی  شفیع کو حق شفعہ  حاصل ہے۔
3۔ اگر بیع مکمل ہو چکی ہے اور مشتری کو قبضہ بھی مل چکا ہے، تو محمد یونس اسی قیمت(آٹھ لاکھ) پر حقِ شفعہ کا مطالبہ کر سکتا ہے جس قیمت پر محمد بقا  نے زمین  بیچی۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):
(أسقط) الشفيع قبل (الشفعة الشراء لم يصح) لفقد شرطه وهو البيع.
(كتاب الشفعة،۶/ ۲۲۲،دار الفكر بيروت)
الفتاوى الهندية:
تسليم الشفعة قبل البيع لا يصح وبعده صحيح علم الشفيع بوجوب الشفعة أو لم يعلم علم من أسقط إليه هذا الحق أو لم يعلم كذا في المحيط.
(الباب التاسع في ما يبطل به حق الشفعة،۵/ ۱۸۳،۱۸۲،دار الفكر)
وفيه أيضا:
ولو أخبر بالبيع بقدر من الثمن أو جنس منه أو من فلان فسلم فظهر خلافه هل يصح تسليمه؟ فالأصل في جنس هذه المسائل أن ينظر إن كان لا يختلف غرض الشفيع في التسليم صح التسليم وبطلت شفعته وإن كان يختلف غرضه لم يصح وهو على شفعته. كذا البدائع........ ولو أخبر أن الثمن ألف فسلم فإذا الثمن أقل من ذلك فهو على شفعته ولو كان الثمن ألفا أو أكثر فلا شفعة له كذا في الذخيرة.
(الباب التاسع في ما يبطل به حق الشفعة،۵/ ۱۸۳،دار الفكر)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ولا يصح تسليم الشفعة قبل البيع؛ لأنه إسقاط الحق، وإسقاط الحق - قبل وجوبه ووجود سبب وجوبه - محال ولو أخبر بالبيع بقدر من الثمن أو جنس منه أو من فلان فسلم فظهر بخلافه هل يصح تسليمه؟ فالأصل في جنس هذه المسائل أنه ينظر إن كان لا يختلف غرض الشفيع في التسليم صح التسليم وبطلت شفعته، وإن كان يختلف غرضه لم يصح وهو على شفعته؛ لأن غرضه في التسليم إذا لم يختلف بين ما أخبر به وبين ما بيع به وقع التسليم محصلا لغرضه فصح، وإذا اختلف غرضه في التسليم لم يقع التسليم محصلا لغرضه فلم يصح التسليم وبيان هذا في مسائل: إذا أخبر أن الدار بيعت بألف درهم فسلم ثم تبين أنها بيعت بألفين فلا شفعة له؛ لأن تسليمه كان لاستكثاره الثمن فإذا لم تصلح له بأقل الثمنين فبأكثرهما أولى، فحصل غرضه بالتسليم فبطلت شفعته.ولو أخبر أنها بيعت بألف فسلم ثم تبين أنها بيعت بخمسمائة فله الشفعة؛ لأن التسليم عند كثرة الثمن لا يدل على التسليم عند قلته فلم يحصل غرضه بالتسليم فبقي على شفعته.
(فصل في بيان ما يبطل به حق الشفعة،۵/ ۱۹دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026