سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-870 Fatwa no: 1448-870

عام گھریلو اشیاء میں تقسیم وراثت کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: وراثت میں عموما وہ چیزیں تقسیم نہیں کی جاتی جو گھروں میں عموما استعمال ہوتی ہے،مثلا فریج،موبائل،گھڑیاں،کپڑیں وغیرہ اور اسی طرح روز مرہ کے استعمال کی اشیاء ،بعض تو مرحومین کے رشتہ دارلے جاتے ہیں ،باقی گھر والے مشترکہ استعمال کرتے ہیں،جبکہ وراثت کے بارے میں سخت احکام ہے ،حتی کے سوئی بھی وراثت میں تقسیم ہوتی ہے۔تو اگر یہ حیلہ کیاجائے کہ جب گھر کاکوئی فرد کوئی چیز خریدے،جوروز مرہ کےاستعمال کی ہوتووہ اللہ کےنام پر اسے صدقہ کردیں،یعنی کسی کی ملکیت میں نہ ہوں اورگھر کے تمام افراد استعمال کرتے رہے،اس حیلہ کی کوئی صورت بن سکتی ہے،اور کیاحکم ہے اس حیلہ کااگر کیاجائے۔اس مسئلہ کی کوئی جائز صورت بیان کردیں۔شکریہ
جواب :

واضح رہے کہ جو مال مرحوم نے اپنے انتقال کے وقت چھوڑاہواور اس میں کسی دوسرے کا حق نہ ہوتو وہ تمام مال خواہ مکان ہو، دکان ہو یا عام گھر میں استعمال ہونے والی اشیاء ہوں،یااور کوئی سامان،وہ سب  مرحوم کے ترکے میں شمار ہوتا ہے اور مرحوم کے سارے ورثاء اس کے حقدار ہوتےہیں ،جوکہ  ان ہی میں تقسیم ہوگا، تقسیم کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس تمام ترکہ  کو بیچ کر ہر وارث کو اس کے حصے کے مطابق  رقم دی جائے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ اگر تمام ہی ورثاء عاقل و بالغ ہوں اور اشیاء کو آپس میں تقسیم کر لیں اگرچہ کوئی کم لینے پر راضی ہو تو بھی درست ہوگا ،لیکن کوئی ایک بھی وارث عاقل،بالغ نہ ہو، تو اس  کواس کے حصے سے کم  دینا درست نہیں  ،اگرچہ  وہ کم لینے پرراضی ہو۔لہذا صورت مسئولہ  میں میت کے ترکہ  میں عام گھریلو اشیاءکو بھی میت کی جائیداد کی طرح ورثاء میں ان کے حصص کے بقدر تقسیم کیاجائے گا،بشرطیکہ وہ   قابل تقسیم ہوں، اور جو چیز قابل تقسیم  نہ ہو یعنی تقسیم کے بعد قابل انتفاع نہ  ہوتو اس کو ورثاء آپس کی رضامندی سے قیمت کے اعتبار سے تقسیم کرسکتے ہیں،یعنی  کل اشیاء کی  مالی مالیت کا تخمینہ لگایا جائے، اور پھر اسے شرعی حصص کے فیصد (مثلاً بیوہ، بیٹوں اور بیٹیوں کا حصہ) کے حساب سے ورثاء میں تقسیم کر دیا جائے۔ اور مشترکہ چیز جب تک استعمال کریں دوسرے ورثاء کی اجازت سے کریں۔اور میراث میں چاہے عام گھریلوں  اشیاء ہی کیوں نہ ہو،دوسرے ورثاء کو محروم کرنے کےلئے کوئی  بھی حیلہ (تدبیر) کرنا  شرعا حرام،گناہ کبیرہ اور ناجائز ہے،کیونکہ میراث  کا نظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک اٹل اور حتمی قانون ہے۔تاہم اکرتمام ورثاء اتفاق کے ساتھ بشرطیکہ ان میں کوئی وراث  نابالغ نہ ہو عام گھریلوں اشیاء  کسی ایک وارث کےلئے چھوڑدیں،تو اس صورت میں یہ اشیاء اس کی ملکیت  شمار ہو گی،پھر جیسے چاہے وہ تصرف  کرسکتا ہے۔
القرآن المجيد:
للرجال نصيب مما ترك الوالدان والأقربون وللنساء نصيب مما ترك الوالدان والأقربون مما قل منه أو كثر نصيبا مفروضا.
 (سورةالنساء،الجزء4،الآية:7)
ردالمحتار:
لأن التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية........وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك فلاتصح هبة صغير ورقيق.
(كتاب الفرائض،759/6،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026