نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ نماز میں صفوں کی ترتیب یہ ہےکہ پہلی صف اہل علم و تقوٰی اور بالغ افراد کی ہوتی ہے،ان کے بعددوسری صف بچوں کی ہوتی ہے ۔ بچے اگر پہلی صف میں ہیں تو ان کو تعلیما ً دوسری صف میں بھیجنا درست ہے تاکہ ان کو اپنی صف معلوم ہو لیکن اگر ایک آدھ بچہ ہو تو وہ بڑوں کے ساتھ صف کے ایک سائیڈ پر دیوار کے ساتھ بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔ لہذا سوال میں مذکور ہ بات (کہ بچے جہاں چاہے کھڑے ہوکر نماز پڑھیں ) درست نہیں ہے ،اور اس پر مذکورہ دلیل پیش کرنا جہالت ہے جبکہ صفوں کی ترتیب سے متعلق واضح احادیث موجود ہیں۔
سنن أبي داود:
674 - حدثنا ابن كثير، أخبرنا سفيان، عن الأعمش، عن عمارة بن عمير، عن أبي معمر عن أبي مسعود قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ليليني منكم أولو الأحلام والنهى، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم"
(باب من يستحب أن يلي الإمام ،۲/ ۱۳،دار الرسالة العالمية)
الفتاوى الهندية:
ولو اجتمع الرجال والصبيان والخناثى والإناث والصبيات المراهقات يقوم الرجال أقصى ما يلي الإمام ثم الصبيان ثم الخناثى ثم الإناث ثم الصبيات المراهقات. كذا في شرح الطحاوي.
(الفصل الخامس في بيان مقام الامام،۱/ ۸۸،دار الفكر)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
ولو اجتمع الرجال والنساء والصبيان والخناثى والصبيات المراهقات فأرادوا أن يصطفوا للجماعة - يقوم الرجال صفا مما يلي الإمام، ثم الصبيان بعدهم، ثم الخناثى، ثم الإناث، ثم الصبيات المراهقات.
(فصل بيان ما يستحب للامام...۱/ ۱۵۹،دار الكتب العلمية)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔