سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-873 Fatwa no: 1448-873

عدت میں مطلقہ بیوی سےوطی بالشبہ کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: کہ عمرو نے اپنی بیوی کو تین طلاق صريح دے كر اس كو اپنے عقد نكاح سے نكال ديا،جس كا عمرو خود بھی اقرار كرتا ہے،پھر اس کے بعد بھی عمرو اپنی بیوی سے ازدواجی تعلق (ہمبستری)ایک سال سے زائد عرصہ برقراررکھا،کیونکہ اس کا گمان یہ تھا کہ یہ طلاق نہیں ہوئی ہے،لیکن پھر ایک عالم سے پوچھنے کےبعد پتا چلا کہ طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہے۔ پھر حلالہ شرعی کروانے سے پہلے بھی تین چار مرتبہ ہمبستری کرچکاتھا ،اور اس عرصہ میں اپنی بیوی کو جس کو طلاق دے چکاتھا کو حمل نہ ٹھرنے کےانجکشن لگاتاتھا۔ حلالہ کچھ اس طرح ہواکہ محلل اور عمرو کی طلاق شدہ بیوی نے آپس میں ایجاب وقبول کیا دو گواہوں (عمرو اور ایک عاقل بالغ مسلمان)کی موجودگی میں ،نکاح کے بعد محلل نے عمرو کی طلاق شدہ بیوی سے ہمبستری کی اور پھر اس کے بعد محلل نے اسی جگہ اس کو تین طلاقیں دے دی،اس میں پانچ ہزار مہر مسمی بھی رکھاگیا تھاجو محلل نے ادا کی ہے۔ اب مطلوب یہ ہےکہ جس طہر میں حلالہ ہواہے اس کے کتنےحیض گزرنے کے بعد عمرو کے لئےاس کے ساتھ دوبارہ نکاح صحیح اور جائز ہوگا؟دوسرا سوال یہ ہےکہ آيا یہ حلالہ صحیح ہوا ہے یا نہیں؟
جواب :

واضح رہے  کہ  تین طلاق صریح دینے سے بیوی شوہر   پر  طلاق مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے،اور  بیوی عدت(تین ماہواریاں)گزارنے کے  بعد  جہاں چاہئے نکاح کرسکتی ہے،لیکن اگر  میاں بیوی لا علمی کی بناء پر ازدواجی تعلق قائم کرتے رہیں ہو  توپھرمطلقہ عورت کی عدت آخری مباشرت یا مباشرت کی حرمت  کا علم ہو جا نے کے  بعد سے شمار ہوگی۔ اور  جس عورت کو  ماہواری کا  خون آتاہو اس کی عدت تین حیض ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں  مباشرت کی حرمت  کاعلم ہوجانے کے  بعد اگر مطلقہ  عورت کی عدت(تین حیض ماہواری خون آنے کی صورت میں، تین مہینےخون نہ آنے کی صورت میں،یا وضع حمل حمل کی صورت میں) مکمل   ہوچکی تھی،تب توحلالہ درست ہےاور جس طہر میں حلالہ ہوا ہے اس کے تین حیض گزرنے کے  بعد عمرو کے لئےسابقہ منکوحہ  کے  ساتھ دوبارہ نکاح صحیح اور جائز ہو گا۔اور  اگر   مباشرت کی حرمت  کے علم کے بعد مطلقہ عورت کی عدت مکمل نہ ہوئی ہو،تو تب حلالہ درست نہیں۔ اس صورت میں سابقہ شوہر  کےساتھ  دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں،سوا ئےاس کےکہ مطلقہ عورت  اپنی مرضی سےکسی اور سے اورنکاح کریں،پھرازدواجی تعلقات قائم کرنے کے بعد اس کا شوہر مرجائے یا اس کو طلاق دیدے،پھر یہ عورت عدت گزارنے کے بعد اگر چاہئے تو پہلے شوہرکے ساتھ نکاح کرسکتی ہے،بصورت دیگر نہیں۔
في مختصر القدوري:
إذا طلق الرجل امرأته طلاقاً بائناً أو رجعياً أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاقٍ وهي حرةٌ ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراءٍ، والأقراء: الحيض.
(كتاب الحيض،ج:1،ص:347،ط:البشرى)
وفيه أيضا:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو اثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.
(باب الرجعة،ج:1،ص:154،ط: دار الكتب العلمية)
وفي رد المحتار:
(وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث لعن المحلل والمحلل له (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للاول) لصحة النكاح وبطلان الشرط فلا يجبر على الطلاق.
(باب الرجعة،ج:1،ص:231،ط: : دار الكتب العلمية)
وفي الفتاوى الهندية:
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. 
(المحرمات التي يتعلق بها حق الغير،ج:1،ص:280،ط: دار الفكر)
وفيه أيضا:
ولو ادعى الشبهة بأن قال: ظننت أنها تحل لي تستأنف العدة بكل وطأة وتتداخل مع الأولى إلا أن تنقضي الأولى فإذا انقضت الأولى وبقيت.
(باب الرابع عشر في الحداد،ج:1،ص:533،ط:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026