سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-93 Fatwa no: 1447-93

سودی کمپنی میں ملازمت اختیار کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک سودی کمپنی ہے  جو لوگوں کواس شرط پرقرضہ دیتی ہے کہ اگر سات دن میں قرضہ ادا نہ کیا  تو سود کے طورپر اضافی پیسہ لیا جائےگا اب کچھ ملازمین کا اس کمپنی میں  کام  یہ ہوتا ہے کہ وہ کمپنی کے لئے قرض داروں سے پیسے  وصول کرتے ہیں اور کمپنی اس میں سے کچھ مقدار ان ملازمین کو دے دیتی ہے
قرض وصول کرنے کی دو صورتیں  ہیں
1:ملازمین قرض داروں کو اس بات سے اگاہ کرتے ہیں کہ آپ کے قرض کی مدت پوری ہوچکی ہے لہذا آپ بر وقت اپنا قرضہ جمع کریں۔ 
2:قرض دار اپناقرضہ پہلے ملازمین کے اکاؤنٹ میں بھیجتا ہے اور پھر وہ ملازمین اپنے اکاؤنٹ  سے کمپنی میں اس قرض دار کے نام پر جمع کرتے ہیں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان ملازمین کے لئے یہ نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب :

صورت مسئولہ میں مذکورہ سودی کمپنی میں ملازمت  شرعاجائز نہیں،لہذا  ایسی صورت میں ان ملازمین کو چاہیے کہ وہ دوسرے حلال روزگار  تلاش کریں،اور اس کے ملنے پر مذکورہ سودی کمپنی سے علیحدہ ہوجائیں،البتہ جب تک دوسرا  حلال روزگار مہیا نہ ہواس وقت تک موجودہ ملازمت کو ناجائز سمجھتے ہوئےاس پر استغفار کرتے رہیں اور جلدازجلد حلال روزگار حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں۔البتہ اگر فوری ملازمت ترک کرنے کی صورت میں کوئی معاشی مشکل پیش آنے کا خدشہ نہ ہو تو فوری یہ ملازمت ترک کردے۔
وفي سنن ابي داود:
حدَّثنا أحمدُ بن يونَس، حدَّثنا زهيرٌ، حدَّثنا سماكٌ، حدَّثني عبدُ الرحمن بن عبد الله بن مَسعودِ عن أبيه، قال: لعنَ رسولُ الله -صلَّى الله عليه وسلم- آكِلَ الربا وموكلَه وشاهدَه وكاتبَه.
[باب اكل الربا وموكله،ج5،ص222،ط:دار الكتب]
وفي تكمله فتح الملهم:
فان كان عمل المؤظف في البنك ما يعين علي الرباء كالكتابة او الحساب فذالك حرام علي وجهين:الاول،اعانة علي المعصية،والثاني:اخذ الاجرة من المال الحرام........الخ
[باب الرباء،ج،1،ص419،دار الفكر]
وفي الهداية:
ولا يجوز الاستيجار علي الغناء والنوح وكذا سائر الملاهي لانه استئجار علي المعصية.
[باب الاجارة الفاسدة،ج3،ص240،ط:الاسلاميه]
وفي بدائع الصنائع:
وكذا كل اجارة وقعت لمظلمة لانة استيجار لفعل المعصية.
[فصل فى انواع شرائط ركن الاجارة،ج4،ص189،ط:دارالكتب]
        

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب