سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-877 Fatwa no: 1448-877

عقد شرکت میں کھانے پینے کے خرچے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ہم دو آدمیوں کی آپس میں عقد شرکت ہے،مال اور وقت دونوں برابر سرابر ہے ۔لیکن بسا اوقات خاص تعلق والے گاہک یا ڈیلر آجاتے ہیں ،ان کے کھانے یا چائے وغیرہ کا خرچہ مال مشترک سے حساب ہوگا یا میزبان کے ذاتی مال سے ہوگا؟
جواب :

واضح رہے کہ کھانے،پینے کا خرچہ یا دیگر وہ خرچے جو  تاجروں کے ہاں کاروبار سے متعلق ہوں، تو وہ خرچے مال مشترک سے حساب ہونگے۔اور جو کھانے پینے کا خرچہ یا دیگر وہ خرچے  جو تاجروں کے نزدیک  کاروبار سے متعلق نہ ہو ں تو وہ  میزبان  کے اپنی ذاتی مال سے حساب ہونگے۔لہذا صورت مسئولہ میں خاص گاہک یا ڈیلر وغیرہ  کو کھانا  کھلانا،یا چائے ،بوتل وغیرہ  پلانا تاجروں کے ہاں مشہور ہے ،اس لئے اس کا خرچہ مال مشترک سے ہوگا میزبان کے اپنے  ذاتی مال سے حساب نہیں  ہوگا۔
بدائع الصنائع:
أن الشركة تنعقد على عادة التجار......................عند إطلاق الشركة على الرواية الصحيحة عن أبي حنيفة ومحمد فله أن ينفق من جملة المال على نفسه في كرائه ونفقته وطعامه وإدامه من رأس المال، روى ذلك الحسن عن أبي حنيفة وقال محمد وهذا استحسان، والقياس أن لا يكون له ذلك؛ لأن الإنفاق من مال الغير، لا يجوز إلا بإذنه نصا.(وجه) الاستحسان العرف والعادة؛ لأن عادة التجار الإنفاق من مال الشركة، والمعروف كالمشروط؛ ولأن الظاهر هو التراضي بذلك.
(فصل في حكم الشركة،72/6،ط:دارالكتب العلمية)
ردالمحتار:
(وإذا سافر) ولو يوما (فطعامه وشرابه وكسوته وركوبه) بفتح الراء ما يركب ولو بكراء (وكل ما يحتاجه عادة) أي في عادة التجار بالمعروف (في مالها) لو صحيحة لا فاسدة.
(فصل في المتفرقات في المضاربة،657/9،ط:دارلفکر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026